18

برطانوی عام انتخابات: 650 میں سے لیبر پارٹی 450 سیٹیں حاصل کر سکتی ہے

برطانیہ کے 5 کروڑ سے زائد ووٹر ز آج قبل از وقت ہونے والے انتخابات میں حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں جس میں لیبر پارٹی 650 میں سے 450 نشستیں حاصل کرسکتی ہے۔

ٹوری پارٹی 14 سال سے مسلسل برطانیہ پر حکمرانی کررہی ہے جب کہ لیبر پارٹی 14 سال بعد برسر اقتدار آنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔

مختلف پولز کے مطابق پارلیمنٹ کے 650 سیٹوں میں سے لیبر پارٹی 450 سیٹیں حاصل کر سکتی ہے۔

انتخابات میں نتائج پر مصنوعی انٹیلیجنس کے ذریعے اثر انداز ہونے والی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی سائبر حملے یا پروپیگنڈے کو ناکام بنایا جا سکے، بڑی طاقتوں کے انتخابی نتائج کے بعد ہارنے والی پارٹیاں ان نتائج کو کسی دوسرے بڑے ملک کے سائبر حملے کا نتیجہ قرار دیتی ہیں۔

برطانیہ کے ہندو وزیراعظم نے لیبر پارٹی پر کامیابی کے لیے دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران جن گھروں پر ووٹ کے لیے گئے ہیں وہاں لسٹ کے مطابق ووٹر موجود نہ تھا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں غزہ پر اسرائیلی مظالم کے بارے میں متعدد ملین مارچ جس میں تمام رنگ اور نسل کے لوگ شریک تھے نے سیاسی طور پر ٹوری پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا ہے جب کہ مہاجرین اور روانڈا بل کے بارے میں بھی ٹوری پارٹی کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا گیا، رشی سونک جو خود بھی مہاجر فیملی سے تعلق رکھتے ہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے برطانیہ کے پہلے ہندو وزیراعظم بنے، لیبر پارٹی کے سربراہ مہاجرین کے خلاف نہیں۔

برطانیہ میں مسلمان ووٹروں کی تعداد 40 لاکھ کے قریب ہے جب کہ مسلمان ایم پیز (رکن اسمبلی) کی تعداد میں ہر الیکشن کے بعد اضافہ ہو رہا ہے، مختلف پولز کے مطابق ٹوری پارٹی سیٹوں پر کامیاب ہو سکتی ہے۔

لیبر پارٹی تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان میں اتری اور بڑی حد تک عوام کا ذہن تبدیل کرنے میں کامیاب رہی ہے، برطانیہ کے انتخابات کے نتائج بڑی طاقتوں کے علاوہ ترقی پذیر ممالک پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، یہ امر قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے کسی بھی وزیراعظم نے 2013 کے بعد پاکستان کا سرکاری دورہ نہیں کیا۔

یہ امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ لیبر پارٹی کا غزہ کے بارے میں تبدیل ہونے والے مؤقف کے نتیجے میں اسرائیل اور غزہ میں جنگ بندی، فلسطین کی امداد اور بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

کون بنے گا مقدر کا سکندر اس کا فیصلہ چند گھنٹوں بعد ہو جائے گاجبکہ پاکستان اور بھارت کے علاوہ دیگر ممالک بھی برطانوی انتخابات پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں