395

ترین گروپ کا بڑا سیاسی دھماکہ،پنجاب میں ہلچل مچ گئی

لاہور(استحکام نیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے ترین گروپ میں شمولیت کا اعلان کر دیا اورکہا ہے کہ پنجاب میں جیسی حکومت ہے اس پر تشویش ہے۔ جس جماعت کا وزیراعظم بھی ہو اور وزیراعلیٰ بھی اس کے خلاف کھڑے ہونا آسان نہیں، ہم نے مشکلات کے باوجود یہ وقت محنت سے گزارا، میری تکلیف ذاتی نہیں ہے، باقی گروپس سے بھی گزارش کرتے ہیں پارٹی کو بچانے کیلئے متحد ہوں۔حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد آنے سے قبل تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر ترین گروپ کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ علیم خان کی اہم ملاقات ہوئی، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے لائحہ عمل کیا گیا۔ذرائع کے مطابق علیم خان کی پچھلے 3 دن میں چالیس سے زائد ارکان صوبائی اسمبلی سے ملاقات ہوئی اور وہ ہم خیال گروپ سے ملنے جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر پہنچے جہاں پر ان کی ویڈیو لنک کے ذریعے جہانگیر ترین سے بات ہوئی۔جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر پہنچنے والے اراکین اسمبلی میں نعمان لنگڑیال، خرم لغاری، عبدالحئی دستی، لالا طاہر رندھاوا، اجمل چیمہ، عون چودھری، سلمان نعیم، لالہ طاہر رندھاوا، نعمان لنگڑیال، خرم لغاری، اسلم بھروانہ، آصف نکئی سعید نوانی، زوار حیسن، بلال ورڑائچ، افتخار گوندل، امین چودھری ، غلام سنگھا اور قاسم لنگا شامل ہیں۔حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد آنے سے قبل تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر ترین گروپ کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ علیم خان کی اہم ملاقات ہوئی، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے لائحہ عمل کیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان نے کہا کہ میں نے خود کہا آج کا اجلاس جہانگیر ترین کے گھر رکھیں، پی ٹی آئی کی جدوجہد میں جہانگیرترین کا بڑا حصہ ہے، سیاست مشکل میں دوستوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔ انہیں پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آپ بھلے یہاں نہ ہوں ہم نے بھلایا نہیں۔پنجاب حکومت سے متعلق علیم خان نے کہا کہ پنجاب میں جیسی حکومت ہے اس پر تشویش ہے۔ جس جماعت کا وزیراعظم بھی ہو اور وزیراعلیٰ بھی اس کے خلاف کھڑے ہونا آسان نہیں، ہم نے مشکلات کے باوجود یہ وقت محنت سے گزارا، میری تکلیف ذاتی نہیں ہے، باقی گروپس سے بھی گزارش کرتے ہیں پارٹی کو بچانے کیلئے متحد ہوں۔انہوں نے کہا کہ 40سے زائد ایم پی ایز سے ملاقات کر چکے ہیں۔ ہم سب نے جدوجہد کی ہے، دلی افسوس ہوتا ہے، جب حکومتیں بن جاتی ہیں تو کچھ اور ہی لوگ ارد گرد آجاتے ہیں۔جہانگیر ترین سے متعلق پی ٹی آئی کے رہنما کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین سمیت دیگر نے جتنی محنت کی انہیں کیوں نظرانداز کیا گیا معلوم نہیں، سیاست مشکل میں دوستوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔ سیاست دوستوں میں اضافہ کا نام ہے، پی ٹی آئی کی جدوجہد میں بہت سارے ساتھی عمران خان کے ساتھ تھےاس سے قبل سعید اکبر نوانی اور نعمان لنگڑیال نے کہا کہ ہم اپنے گروپ کے ساتھ کھڑے ہیں، آج سارے دوست اکٹھے ہوئے ہیں، علیم خان نے آج ہمارے گروپ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے، آج کی میٹنگ مشاورتی میٹنگ تھی۔ آپ کے آنے سے ہماری طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ آپ نے بہت بڑا فیصلہ کیا ہے، موجودہ سیاست میں آپ کا کردار بہت ضروری تھا۔ گروپ انشاءاللہ مل کر چلیں گے آپ اور جہانگیرترین نے ہمیشہ عزت دی ہے ۔ذرائع کے مطابق علیم خان کی پچھلے 3 دن میں چالیس سے زائد ارکان صوبائی اسمبلی سے ملاقات ہوئی اور وہ ہم خیال گروپ سے ملنے جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر پہنچے جہاں پر انکی ویڈیو لنک کے ذریعے جہانگیر ترین سے بات ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں