228

حکومتی پالیسیاں اور عوام کی حالت ِزار.تحریر : کشور سجاد

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ نقصان میں چلنے والے اداروں کی مانیٹرنگ کا کوئی نظام نہیں جب کہ بیس وزارتوں کے زیر انتظام چلنے والی دو سو کمپنیوں نے مالی سال 19-18 میں مجموعی طور پر ایک سو پینتالیس ارب روپے کا نقصان کیا، وزارت ِخزانہ کے مطابق زیادہ نقصان بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، پی آئی اے، اسٹیل مل اور این ایچ اے کرتی ہیں جب کہ زیادہ منافع او جی ڈی سی ایل اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کماتی ہیں، سیکرٹری بجلی نے انکشاف کیا کہ حکومت مختلف صنعتوں کو ساڑھے تین سو ارب روپے سبسڈی دے رہی ہے.اس بریفنگ کے بعد اگرچہ سرکاری کمپنیوں کی گورننس اور آپریشنز بل 2021 ء موخر کر دیا گیا لیکن یہ ہوش ربا تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں رہا کہ عوام جن مشکلات سے دوچار ہیں اس کی تمام تر ذمہ داری حکومتی پالیسی سازوں پر ہی عائد ہوتی ہے جو تلخ حقائق کو سمجھتے نہیں یا پھر سمجھنا ہی نہیں چاہتے، عوام سے معیشت کی درست صورت حال چھپا کر کوئی بھی حکومت جب اقدامات اٹھاتی ہے تو اس کا مطلب صاف طور پر عوام کو مزید مشکلات میں دھکیلنا ہوتا ہے، ماہرین کے مطابق ایسی صورت حال اس وقت جنم لیتی ہے جب حکومت کے پاس ڈالر نہیں ہوتے، اس مسئلے کا حل سرکاری خدمات کی قیمتیں ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا کر نکالا جاتا ہے، حکومتی اعتراف کے مطابق او جی ڈی سی ایل اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ زیادہ منافع کماتی ہیں تو اس کی کوئی وضاحت حکومت دے گی کہ وہ کس طرح زیادہ منافع کماتی ہیں؟یہ طے ہے کہ ملک میں مشرف دور کی ناقص پالیسیوں کے باعث گیس کے دریافت شدہ ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور نئے ذخائر زبانی جمع خرچ کے سوا کہیں دریافت نہیں ہوئے لہٰذا گیس مہنگی کر کے غریب صارفین کو لوٹنے اور امیر صنعتکاروں کو سبسڈی دینے والی پالیسی اختیار کی گئی، واقعی منافع کمانے کا اس سے بڑا ہنر کیا ہو سکتا ہے، پاکستان پٹرولیم اس بھی دو ہاتھ آگے ہے، آئے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، حکومت اور کمپنی دونوں اس سے مستفید ہوتے ہیں، بدقسمتی سے ملک میں گڈ گورننس نام کی کوئی چیز نہیں، آٹا چینی سمیت کئی بحران پیدا کر کے مافیا نے اربوں روپے بٹور لیے، یوریا کھاد کے بحران نے بہ کسانوں کی کمر توڑ دی، واضح ہے کہ بروقت کھاد نہ ملنے سے گندم کی پیداوار کم ہو گی تو اس کے نتیجے میں پھر آٹے کا بحران شدت اختیار کرے گا، یہ بھی ظاہر ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے تاخیر سے ریڈنگ اور اس بناء پر بجلی کے بھاری بلوں کا اجراء یقیناً حکومت کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس سے خزانہ بھرنے میں آسانی رہتی ہے، اب کوئی پوچھے حضور والا بروقت ریڈنگ کس کی ذمہ داری ہے؟ اور اگر اس میں دانستہ طور پر کوتاہی برتی جائے تو ذمہ دار کون ہوا؟اب الجھن یہ ہے کہ پاکستان میں لوگ پورا اخبار چٹ کر جاتے ہیں لیکن کامرس کا صفحہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے جب کہ اس کا تعلق ملکی معیشت اور عوام کی جیب سے ہوتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق معاشی معاملات کا احاطہ کرنے والے دو جریدے ٹائم اور اکانومسٹ دنیا میں لوگوں کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں لیکن پاکستان میں معدودے چند ہی انہیں پڑھتے ہوں گے باقی تو شاید ان کے نام سے بھی واقف نہ ہوں، یہاں مہنگائی پر شور مچا لینا کافی سمجھا جاتا ہے، یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ اس کا سبب کیا ہے، معاشی معاملات سے لاتعلقی کا یہ رویہ ہی درحقیقت تباہی لاتا ہے، ہمارے برعکس مغرب اور دیگر ممالک میں لوگ معاشی معاملات پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، پاکستان میں بدقسمتی سے سیاست کے سوا کوئی بھی موضوع قابلِ ذکر نہیں.
ایک اہم مسئلہ ملکی درآمدات برآمدات میں عدم توازن کا ہے، سامانِ تعیش کی درآمد پر کوئی روک ٹوک نہیں، جاپانی گاڑیاں ہم اسمبل کرتے ہیں، اس پر بھاری زر مبادلہ خرچ ہوتا ہے لیکن ہم انہیں برآمد کر کے ڈالر نہیں کما سکتے، ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ہم اپنی زرعی اجناس اور زرعی مصنوعات افغانستان جیسے ممالک کو بیچ کر ڈالر حاصل کرتے اور پھر وہی سب چیزیں مہنگے داموں دنیا سے خریدنے پر مجبور ہیں، زندگی بہت تلخ ہو چکی، ٹیکسوں کی بھرمار سے عوام کی قوت خرید مسلسل کم ہو رہی ہے، ہو سکے تو پالیسیوں پر نظر ثانی کیجیے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں