402

ریلیوں اور جلسوں کے اعلان کے بعد تصادم کا شدید خطرہ ہے، صدر تحریک اسلام آباد

اسلام آباد (استحکام نیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق کیلئے بر سر پیکار سیاسی جماعت تحریک اسلام آباد کے صدر جاوید اکرم ملک نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنی لڑائی پارلیمنٹ میں آئینی طریقے سے لڑیں اور اپنے مذموم مقاصد کیلئے اسلام آباد کے شہریوں کو امتحان میں مت ڈالیں،حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ریلیوں اور جلسوں کے اعلان کے بعد وفاقی دارلحکومت میں دونوں جانب کے کارکنوں میں تصادم کا شدید خطرہ ہے، جلاؤ گھیراؤ اور راستے بند ہونے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مریض ہسپتالوں کو نہیں پہنچ پاتے جبکہ تاجروں کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اسلام آباد کے مکین ہر بار کی طرح اپنی بربادی پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے اور نتائج کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی.حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ریلیوں اور جلسوں کے اعلان کے بعد اپنے ایک بیان میں صدر تحریک اسلام آباد جاوید اکرم ملک نے کہا کہ وہ ذرائع ابلاغ کے توسط سے اپنے خدشات اور مطالبات ریاستی اداروں بالخصوص الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور اسلام آباد پولیس تک پہنچانا چاہتے ہیں، جیسا کہ 23 اور 27 مارچ کو وفاقی دارالحکومت میں حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے عوامی ریلیوں کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے جس کا براہ راست اثر امن و امان، سلامتی اور انتظامی صورت حال پر پڑے گا، حکومت اور اپوزیشن اپنی لڑائی پارلیمنٹ میں آئینی طریقے سے لڑیں اور اپنے مذموم مقاصد کیلئے اسلام آباد کے شہریوں کو امتحان میں مت ڈالیں،حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ریلیوں اور جلسوں کے اعلان کے بعد وفاقی دارلحکومت میں دونوں جانب کے کارکنوں میں تصادم کا شدید خطرہ ہے اگرحکومتی جماعت اور اپوزیشن کے کارکنوں میں تصادم ہوا تو جلاؤ گھیراؤ کے نتیجے میں اسلام آباد شہر اور اس کے مکینوں کو جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ یقینی بنانے کی ضمانت کون دے گا، انہوں نے مزید کہا کہ پرامن احتجاج یا سیاسی سرگرمیاں آئینی حق ہے لیکن اسلام آباد کے مکینوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ شہر میں کاروبار اور آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف ریاست سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کریں لہٰذا میں اسلام آباد کے عوام کی نمائندہ سیاسی پارٹی تحریک اسلام آباد ریاست اور اس کے مذکورہ بالا اداروں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ 27 مارچ کو ڈی چوک میں ہونے والی ممکنہ خوں ریزی روکنے کے لیے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کریں، ذرائع ابلاغ کے توسط سے ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس شہر کے مکینوں کی واحد نمائندہ سیاسی جماعت کو حفاظتی اقدامات کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے اور یہ ضمانت فراہم کی جائے کہ اگر شہر کے مکینوں کے معاشی مفادات، جان و مال اور عزت و آبرو کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا تو حکومت نہ صرف اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس کی مکمل تلافی کرے گی بلکہ اس کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا بھی دلوائے گی۔ہم یہ بھی گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام آباد ایک مدت سے پرتشدد سرگرمیوں کا اکھاڑا بنا ہوا ہے اور اب سے پہلے بھی کئی مرتبہ یہاں جلاؤ گھیراؤ کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کاروبار بند ہوئے، موبائل سروس بند رہی گھروں سے باہر نکلنا محال ہوا، محاصرے کے باعث کئی مریض اسپتال نہ پہنچ سکے اور قیمتی جانیں ضائع ہوئیں لیکن ریاستی اداروں اور حکومت نے کبھی اس کی تلافی نہیں کی، لیکن اب ہم خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایسی صورت حال دوبارہ پیدا ہوئی تو اسلام آباد کے مکین ہر بار کی طرح اپنی بربادی پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے اور نتائج کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں