90

سیاروں میں خلائی مخلوق کی تلاش اب زیادہ دور نہیں؛ سائنس دان

نیویارک(روزنامہ استحکام) سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کائنات میں موجود ان گنت سیاروں میں کیا کوئی خلائی مخلوق بستی ہے اور کیا وہاں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں جس کے باعث انسانوں کو زمین سے خلا میں نقل مکانی کرسکتے ہوں۔ ان سوالات کے جوابات اب ہم کچھ ہی دوری پر ہیں۔

امریکی خلائی ادارے ’’ ناسا‘‘ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی نئی دریافتوں کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جلد ہی ہم سیاروں میں بسی کوئی اور مخلوق اور زندگی کے آثار کے بارے میں جان سکیں گے۔

ناسا سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسپیس ٹیلی اسکوپ جیمز ویب کو 120 نوری سال کے فاصلے پر موجود K2-18b نامی سیارے میں گیس کی ایک ممکنہ علامت ملی ہے جو ماحول میں پائے جانے والے سادہ سمندری جانداروں سے پیدا ہوتی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس دریافت نے حالیہ مطالعات میں اضافہ کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ K2-18 b ایک ہائیشین ایکسپو سیارہ ہو سکتا ہے، جس میں ہائیڈروجن سے بھرپور ماحول اور پانی کی سمندر سے ڈھکی ہوئی سطح رکھنے کی صلاحیت ہے۔

ناسا کے محققین نے اس گیس کی دریافت پر دعویٰ کیا ہے کہ بہت مضبوط اشارے ہیں جس کے باعث اب کائنات میں کسی خلائی مخلوق اور زندگی کی تلاش بہت زیادہ دوری پر نہیں۔

اسکاٹ لینڈ کے ماہر فلکیات رائل نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم لامحدود ستاروں اور سیاروں کے ساتھ ایک لامحدود کائنات میں رہتے ہیں۔ اور یہ ہم میں سے بہت سے لوگوں پر واضح ہے کہ ہم کائنات میں اکیلے نہیں اور اب ہمارے پاس اس کا جواب دینے کی ٹیکنالوجی اور صلاحیت آگئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں