112

قانون کے یکساں نفاذ کی منکر ریاست۔

تحریر : سجاد احمد لاکھا
بائیس کروڑ عوام کے ساتھ غلاموں جیسا برتاؤ کرنے والے طاقت ور حکمراں حلقے پہلے صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق عریاں ہوئے اور اب پوری ڈھٹائی کے ساتھ لباس فطرت میں باہر نکل آئے ہیں۔بجلی ہو گیس، کاغذ ہو جان بچانے والی ادویات، روز مرہ کھانے پینے کی اشیاء ہوں یا پٹرولیم مصنوعات، ان کی قیمتیں آسمان پر پہنچا کر حکمراں ٹولہ اور اس کے سرپرستوں کی چیرہ دستیوں نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔
اسٹیٹ بینک حکومت کے دائرہ ء اختیار سے آزاد ہو کر آئی ایم ایف کی غلامی میں جا چکا، گویا حکومت اور اپوزیشن اس حوالے سے ایک پیج پر تھے۔کلائمیٹ چینج کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات انقلابی اقدامات اٹھانے کی دعویدار حکومت نے لاہور میں اربن راوی پراجیکٹ کے نام پر ماحولیات کو برباد کرنے کا پروگرام بنایا تو سپریم کورٹ اس کی پشتی بان بن گئی، لاہور ہائیکورٹ کا حکم امتناع مافیا سرکار کا راستہ نہ روک سکا
ملک کا دستور شہریوں کو بلا امتیاز مذہب، رنگ، نسل برابر قرار دیتے ہوئے ان کے تمام بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے لیکن ریاست کے تینوں ستون اور اصل ہیئت مقتدرہ سمیت تمام طاقت ور گروہ اس پر عمل کرنے سے انکاری ہیں۔چوتھا ستون صحافت اپنا وجود برقرار رکھنے کی بہت بھاری قیمت چکا رہا ہے، سو سے زائد صحافی فرائض کی بجاآوری میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن کسی ایک بھی قاتل پکڑا نہیں گیا اور نہ ہی ریاست نے اس حوالے سے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، دنیا کی نظروں میں صحافیوں کے لیے پاکستان سے زیادہ خطرناک ملک اور کوئی نہیں۔ریاست کے اندر کئی متوازی ریاستیں، طاقت ور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون، نام نہاد سکیورٹی کی آڑ میں روٹ لگا کر عوام کو گھنٹوں ذلیل وخوار کرنے کا معاملہ انتہائی سنگین اور معاشرے میں نفرت کو فروغ دینے کا باعث بن رہا ہے لیکن کوئی اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔
لاپتہ افراد کا مسئلہ عشروں سے حل طلب ہے، لوگ اپنے پیاروں کا انتظار کر کر کے تھک چکے، عدلیہ بھی اس حوالے سے بے بس نظر آتی ہے، دنیا انسانی حقوق کی اس درجہ سنگین خلاف ورزی کو کب تک نظر انداز کرے گی ؟حکومت ترقی کے دعوے کرتی نہیں تھکتی، ایمان داری اور ریاست مدینہ کے قیام کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کہتی ہے کہ موجودہ حکومت پرلے درجے کی بدعنوان ہے، گویا ہر گزرتا دن ریاست پر شہریوں کے اعتماد کو تیزی سے ختم کر رہا ہے، قانون کے یکساں نفاذ کی منکر ریاست کو اس صورت حال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں