30

قومی اقتصادی سروے 2023-24 کل پیش کیا جائے گا

اسلام آباد : رواں مالی سال کا قومی اقتصادی سروے کل پیش کیا جائے گا، وفاقی وزیرخزانہ محمد اونگزیب اقتصادی سروے کا اعلان کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اقتصادی سروے 2023-24 کل پیش کیا جائے گا، جس میں معیشت کے اہم اعداد و شمار پیش کیے جائیں گے۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال کے نو ماہ قرضوں اور واجبات میں 4 ہزار 643 ارب کا اضافہ ہوا۔ جس سے قرضے اور واجبات سڑسٹھ ہزار پانچ سو چوبیس ارب روپے تک پہنچ گئے۔
ملکی قرضہ 43 ہزار 432 ارب روپے تک پہنچ گیا، اس دوران بیرونی قرضوں میں نواسی ارب روپے کی کمی ہوئی، مجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کا 74.8 فیصد ہے جبکہ کل بیرونی قرضے اور واجبات جی ڈی پی کا 43 فیصد ہیں اور کل ملکی قرضہ جی ڈی پی کا 46.2 فیصد ہے۔

دستاویز میں کہنا تھا کہ سال 2024 کے 5 ماہ میں فرٹیلائزر 3 فیصد بڑھی،فروخت 2.55 ملین ٹن پر پہنچ گئی، گزشتہ سال اسی عرصے میں فرٹیلائزر کی فروخت 2.49ملین ٹن تھی، مئی میں فرٹیلائزر کی فروخت 13 فیصد کمی سے 4 لاکھ ٹن رہی۔

رواں مالی سال کے 11 ماہ سیمنٹ کی فروخت میں 3 فیصد اضافہ ہوا،سیمنٹ کی فروخت اس عرصے کے دوران بڑھ کر 41.74 ملین ٹن ہوگئی، گزشتہ سال اسی عرصے میں سیمنٹ کی فروخت 40.52 ملین ٹن تھی۔

سیمنٹ کی برآمدات میں 66 فیصد اضافہ،6.64ملین ٹن تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ سال اس عرصے کے دوران سیمنٹ کی برآمدات تقریباً3.99ملین ٹن تھیں۔

مئی میں برآمدات میں 27 فیصد اضافہ ہوا اور 2.8 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ جولائی سے مئی تک برآمدات 11 فیصد اضافے سے 28 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

دستاویز کے مطابق درآمدات 14فیصد اضافے سے 4.9 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں، درآمدات 2.4 فیصد کم ہوکر 49.8 بلین ڈالر ہوئیں۔

تجارتی خسارہ برائےنام تبدیلی 2.1 بلین ڈالرتک ظاہر ہوا اور خسارہ 15 فیصد کم ہو کر 21.7 بلین ڈالر رہ گیا۔

جولائی سےاپریل کےدوران غیرملکی سرمایہ کاری 659 ملین ڈالر رہی، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اس عرصے کے دوران 93 فیصد اضافہ ہوا جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 8 فیصد اضافے سے1.45 بلین ڈالرتک پہنچ گئی۔

رواں مالی سال 10 ماہ کے دوران ایکویٹیزمیں سرمایہ کاری بڑھ کر81ملین ڈالر تک پہنچ گئی، مالی سال کے 10 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 538 ملین ڈالر رہا، گزشتہ سال اسی مدت کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 4.2 بلین ڈالرتھا جبکہ اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 453 ملین ڈالر سرپلس میں تھا۔

معاشی ترقی کاہدف 3.5 فیصد تھا لیکن 2.38فیصد رہی ، زرعی شعبے کی ترقی 6.25 فیصد رہی، ہدف 3.4 فیصد تھا، صنعتی شعبے کی ترقی 1.21 فیصد رہی،3.4 فیصد کا ہدف حاصل نہ ہوسکا۔

خدمات کےشعبےکاہدف 3.6 فیصد تھا، شرح نمو1.2فیصدرہی، گندم کی فصل 11.64فیصداضافے سے 28.16 ملین ، کپاس کی فصل 108 فیصد اضافے سے 10.22 ملین بیلز ، چاول کی پیداوار34.78 فیصد اضافے سے 98 لاکھ 70ہزارٹن ، مکئی کی پیداوار 10.3فیصد کمی سے 98 لاکھ 50 ہزار ٹن اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں