22

قوم کو موازنہ کرنا چاہیے کہ ملک کے ساتھ کون کیا کرگیا، نوازشریف

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نون کے صدر میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پشاور میٹرو بس میں کتنے گھپلے ہوئے، اس کو آج تک کسی عدالت میں بھی نہیں لایا گیا، قوم کو موازنہ کرنا چاہیے کہ کون کیا کرگیا ہے، قوم موازنہ کرے کہ اس ملک کے ساتھ کس نے اس ملک کی خدمت کی ہے اور کس نے اسے اجاڑا ہے۔ وہ مری میں سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے اسمبلی بھی توڑ دی، سینیٹ بھی توڑا، اس کے بعد عدلیہ نے ان کے گلے میں ہار پہنایا اور کہا کہ آپ کا انتظار تھا، آپ کہاں تھے، آپ کو تو پہلے آنا چاہیے تھا، اور اس وزیراعظم کو گرفتار کرلیا جس نے ایٹمی بم بٹن پر اپنا انگوٹھا رکھا تھا اور 6 ایٹمی دھماکے کیے تھے۔

صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ ان سارے واقعات کے بعد ہم نے آج تک کوئی احتجاج کیا نہ ہی ہماری قوم نے اس کا نوٹس لیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان چیزوں کا تاریخ سے بڑا گہرا تعلق ہے، ان کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، ہم ملک سے باہر رہے، قید و بند رہے، اٹک قلعے میں بند رہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اٹک فورٹ میں سوئے ہوتے تھے تو رات گئے گیڈریوں اور جنگلی جانوروں کی آوازیں آتیں، ہم یہ آوازیں سن کر اٹھ جاتے تھے۔
از شریف نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی بہت عمدہ انسان ہیں، انہوں نے بڑی جرات کے ساتھ میرے ساتھ جیل کاٹی اور کبھی انہوں نے اف تک نہیں کیا، انہوں نے بہت بہادری کے ساتھ میرا ساتھ دیا اور مسائل بھی برداشت کیے، ان کی والدہ ہمارے لیے بہت دعا گو تھی، جو سچ بات ہے وہ کرنی اور کہنی چاہیے، مجھے وہ وقت یاد آتا ہے کہ ہم بھی متزلزل نہیں ہوئے، لیکن اللہ نے وہ وقت بھی نکلوادیا۔

انہوں نے کہا کہ میں شاہد خاقان عباسی کی بہن کو سلام پیش کرتاہوں ، یہ اٹک فورٹ میں آتی رہی ہیں، میں لانڈھی جیل میں تھا تو یہ وہاں بھی میری مزاج پرسی کے لیے آتی تھیں، آج تک گن نہیں سکا کہ میں وزارت عظمیٰ پر زیادہ سال رہاہوں یا جیل اور جلا وطنی میں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے ہر منصوبے پر مسلم لیگ (ن) کا نام لکھا ہوا ہے، جو بڑا کام پاکستان کی تاریخ میں ہوا اس کے پیچھے ن لیگ ہے، کوئی اور پارٹی بتادے کہ انہوں نے کون سا قابل ذکر منصوبہ بنایا۔
نواز شریف نے کہا کہ جنگلہ بس کہنے والے جنگلہ بس بنا کے اربوں روپے کھا کر غائب ہوگئے ہیں، وہ کہانیاں جو آپ اور میں پڑھتے تھے کہ کیسے پشاور میں میٹرو بس میں کس قدر گھپلے ہوئے ہیں، اس کا موازنہ کرنا ضروری ہے کہ کون کیا کر گیا ملک کے ساتھ، کس نے خدمت کی اور کس نے اس کو اجاڑا۔
انہوں نے کہا کہ وہ جس منصوبے اور ایجںڈے پر ہم کام کررہے تھے، اگر ہمیں نہ نکالا جاتا تو آج ہم جی 20 میں ہوتے یا اس سے بھی آگے نکل گئے ہوتے، آج ہمیں آئی ایم ایف کی بھی ضرورت نہ ہوتی۔

’یہ جو آئی ایم ایف کی بات آتی، میں خود آئی ایم ایف کا حمایتی نہیں ہوں، لیکن پی ٹی آئی والوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھے تاکہ یہ ملک بیٹھ جائے، ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا تھا، آئی ایم ایف نے خود کہا تھا کہ اب شاید پاکستان کو اس کی ضرورت نہیں ہوگی، پی ٹی آئی آئی ایم ایف کو دوبارہ لے کر آئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ خراب حالات کے باوجود ن لیگ نے حکومت سنبھالی ہے، آج مہنگائی بھی کم ہورہی ہے، لوگوں کے اندر تھوڑا سا سکھ کا سانس آنا شروع ہوا ہے، میں اس کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کو مبارکباد دوں گا، جو بڑی محنت اور خلوص سے کام کر رہے ہیں۔ ’مریم نواز کو بھی شاباش دوں گا کیونکہ یہ بھی دن رات محنت کر رہی ہیں اور لوگوں سے گھل مل رہی ہیں۔‘
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں طعنہ دیتے ہیں تو جمہوریت تو آپ نے تباہ کی ہے، ہم تو اپنے زمانے میں آپ کے گھر چل کر گئے تھے، بینظیر بھٹو نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیے تھے، یہ تو حسن ہے جمہوریت کا، میں اسی تسلسل میں آپ کے پاس آیا تھا لیکن آپ کا رویہ 25 سال سے روٹھے ہوئے بندے جیسا ہے کہ میں اس کو یہ کر دوں گا وہ کردوں گا۔

’میں ائیر کنڈیشنر اتروا دوں گا تو میرا دھیان تو کبھی نہیں گیا ان کی ائیر کنڈیشن کی طرف، میں اس طرح کا بندہ نہیں کہ میں انتقام کی سیاست کروں اور دل میں کینہ اور بغض رکھوں پر انہوں نے تو امریکا میں جاکر یہ بات کی تھی۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں