24

نچلے دھڑ سے معذور مریضوں کے لیے امید کرن، مگر کیا؟

سوئس میڈیکل کمپنی نے فالج کے مریضوں کے لیے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جو ان کو اپنے ہاتھوں اور بازوؤں کو حرکت دینے میں مدد فراہم کرے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک سوئس میڈیکل ٹیکنالوجی کمپنی ‘آن ورڈ’ نے ایسی ڈیوائس تیار کی ہے، جو فالج کے مریضوں کو بازوؤں اور ہاتھوں کو حرکت کرنے میں مدد دیتی ہے، اس ڈیوائس کی مدد سے نچلے دھڑ کے فالج کے شکار 40 سے زائد افراد نے اپنے بازوؤں اور ہاتھوں کا جزوی کںٹرول حاصل کیا ہے۔
تحقیق کے مطابق اس آلے کے ٹرائل میں حصہ لینے والے 60 میں سے 43 افراد نے 2 ماہ کی تھیراپی کے بعد اپنے بازوؤں اور ہاتھوں کے استعمال کی طاقت اور صلاحیت دوبارہ حاصل کی ہے۔

15سال قبل ایک گھوڑے سے گر کر مفلوج ہونے والی برطانوی صحافی اور ٹرائل کا حصہ بننے والی میلینی ریڈ کہتی ہیں کہ ہر کوئی یہ سوچتا ہے کہ اگر کسی کو ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آئی ہے تو وہ سب سے پہلے اپنے پیروں پر چلنا چاہے گا، لیکن اگر آپ ‘ٹیٹرا پلیجک’ ہیں تو سب سے زیادہ اہم کام ہاتھوں سے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس ڈیوائس سے خوش ہیں کیوں کہ اس کی وجہ سے وہ اپنا بایاں ہاتھ استعمال کرتے ہوئے فون پکڑ اور اسکرول کرسکتی ہیں۔
ٹرائل میں شامل ایک اور شخص شیرون کیمبل کے مطابق اس ڈیوائس نے ان کی ٹائپنگ اسپیڈ، کھانا پکانے اور لکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔ ’اس نے میرے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا ہے۔‘

امریکی سائنسدان چیٹ مورٹز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس فالج زدہ افراد کے دماغ اور متاثرہ اعضا کے درمیان نئے رابطے پیدا کرتی ہے جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے فوائد میں اضافہ ہوتا ہے، یہ بہتری اس وقت بھی ہوتی ہے جب ڈیوائس کنیکٹ نہ ہو۔
اس تحقیق کی نگرانی کرنے والے فرانسیسی نیورو سائنس دان گریگوئر کورٹین کے مطابق تاریخ میں پہلی بار کوئی طریقہ ریڑھ کی ہڈی کے متاثر ہونے کے باعث مفلوج افراد کے علاج میں اتنا کارگر ثابت ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آلہ تیار کرنے والی کمپنی اس کی امریکا میں منظوری حاصل کرنے کے لیے بات چیت کررہی ہے، امید ہے کہ رواں سال کے آخر تک یہ مارکیٹ میں آجائے گی، اس کے بعد یورپ میں بھی جلد اس کی پیروی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں