19

پیٹرولیم ڈیلرز کا ہڑتال فوری طور پر مؤخر کرنے کا اعلان

کراچی: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں پیٹرول پمپس پر جاری ہڑتال فوری طور پر مؤخر کرنے کا اعلان کردیا۔

کراچی میں پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین عبدالسمیع خان نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے فوری طور پر ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی علاقہ جات پر سیاحوں کے پھنسنے کے باعث فوری فیصلہ کیا گیا ہے، ہماری آج کی ایک روزہ ہڑتال کامیاب رہی ہے، لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے کیونکہ موٹر سائیکل والے چل نہیں سکتے۔

انہوں نے کہا کہ مالا کنڈ، سوات اور ہزارہ میں سیاح گئے ہوئے ہیں، اس لیے ہڑتال ختم کر رہے ہیں، ہڑتال آسان نہیں تھی کیونکہ پوری حکومت اس ہڑتال کے خلاف تھی۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم فوری طور پر ہڑتال کی کال واپس لے رہے ہیں، ہڑتال صرف ملتوی کردہ گئی ہے، ختم نہیں کیا، ہزارہ ڈویژن، پنجاب اور مالاکنڈ میں ڈی سی اور اے سیز نے ڈیلرز کو بلا کر دھمکیاں دیں اور کمزور دل کے ڈیلرز ان کا حکم مان گئے۔

انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ، سوات کے علاقوں میں دو دو فرلانگ گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو سیاح ہیں، ہم ہڑتال ملتوی کررہے ہیں، منسوخ نہیں کر رہے، وزارتِ پٹرولیم نے کمپنیوں سے کہا کہ ڈیلرز کہ ساتھ سختی کریں کہ وہ ہڑتال نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے آئندہ ہم جو ایکشن لیں گے اس میں آپ ہمارا ساتھ دیں گے، نہیں تو کچھ ڈیلر اسمگلڈ پٹرول خریدیں گے، ملک میں اب اسمگل پیٹرول کی فروخت زیادہ ہونے کا امکان ہے، حکومت نے ڈبل ٹیکسیشن کی ہے۔

چیئرمین پیٹرولیم ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہم نے 4 ڈیلرز کو ایسوسی ایشن سے نکال دیا ہے، حکومت نے آنکھیں بند کرکے ٹیکس لگا دیا، ہمیشہ بجٹ بنانے سے پہلے ہمیں بلایا جاتا تھا جبکہ ہم نے وزیرِ خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں تو وہ خاموش ہی رہے، حکومت کے طے کردہ نرخ سے ہم ایک پیسہ نہیں بڑھا سکتے ہیں۔

عبدالسمیع خان نے کہا کہ ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، مطالبہ تسلیم نہ ہونے پر اسلام آباد کا گھیراؤ بھی کریں گے، ڈیلرز سے 0.5 فیصد ٹیکس عائد کرکے ان سے اوسطا فروخت پر 10 لاکھ روپے ٹیکس وصول کیا جائے گا، ڈیلرز کی خرید و فروخت مکمل دستاویزی ہے۔

خیال رہے کہ پٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کے اگلے لائحہ عمل کے لیے ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا تھا جہاں فوری طور پر ہڑتال مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

عبدالسمیع خان نے اس حوالے سے بیان میں کہا تھا کہ کراچی میں 525 سے زائد پیٹرول پمپس ہیں، تقریباً 20 پمپس کمپنی آپریٹڈ ہیں اور 30 سے 35 کمپنیوں نے اپنے ڈیلرز کو دیے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ شہر میں ڈیلرز کے پمپس بند ہیں، صرف کمپنی آپریٹڈ یا کمپنیوں کے اپنے ڈیلرز کے پیٹرول پمپ کھلے ہیں اور کراچی میں یومیہ 35 سے 40 لاکھ لیٹر پیٹرول اور ڈیزل فروخت ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں