105

کشمیر بنے گا پاکستان، منزل زیادہ دورنہیں.

مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں مظلوم کشمیری مسلمانوں کے لیے حق خود ارادیت کا مطالبہ ایسا جرم ہے جس کی سزا غیر انسانی سلوک کے سوا کچھ نہیں، بھارت اپنی نو لاکھ سے زائد فوج کے ساتھ مقبوضہ وادی میں ریاستی دہشت گردی کا گھناونا کھیل، کھیل رہا ہے لیکن عالمی برادری کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی، ادارہ اقوام متحدہ اٹھارہ سے زائد اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کروانے میں ذرا بھی دل چسپی نہیں رکھتا، پاکستان ایک امن پسند ملک کی حیثیت سے مظلوم کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت سے بڑھ کر کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں، اس صورت حال میں کشمیری عوام کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے اور وہ ہے آزادی کے لیے جدوجہد، اور اس جدوجہد کا اختتام پاکستان کے ساتھ الحاق ہے.
مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان چار جنگیں لڑی جا چکی ہیں جن کے نیچے میں دونوں ملکوں کو گہرے زخم لگے، دشمنی میں شدت آئی اور وسائل انسانی ترقی کے بجائے بربادی کا سامان کرنے پر خرچ ہو رہے ہیں، بھارت خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ کر تھانے دار بننے کے جنون میں تباہ کن ہتھیاروں کے ڈھیر لگا رہا ہے اور اس کے جواب میں پاکستان کو بھی اپنے دفاع کے لیے مجبوراً اس دوڑ میں شامل ہونا پڑا، سچ تو یہ ہے کہ بھارت اگر ایٹمی دھماکے نہ کرتا اور پاکستان کو دھمکیاں نہ دیتا تو پاکستان کبھی بھی ایٹمی طاقت بننے کی کوشش نہ کرتا، اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کو بھارت پر نہ صرف ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے برتری حاصل ہے بلکہ ہماری تینوں مسلح افواج بھی اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے اعتبار سے بھارت کے لیے ڈراونا خواب ہیں، لیکن یہ بات نہ تو مودی سرکار سمجھنے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی وہ جن کی جو ایک طرف عالمی امن و استحکام کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کی کھلی چھوٹ دے کر خطے کا امن داو پر لگا رہے ہیں.
اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستانی اور کشمیری عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، بھارت جتنی بھی کوشش کر لے وہ کشمیری عوام کو نہ تو کوئی لالچ دے کر اپنے ساتھ رہنے پر آمادہ کر سکتا ہے اور نہ ہی انہیں زیادہ دیر تک غلام رکھ سکتا ہے، اب اگر اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ کر سمجھتی ہے کہ مسئلہ کشمیر ختم ہو چکا ہے تو یہ پرلے درجے کی حماقت کے سوا کچھ نہیں.
دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں اور بارود کا ڈھیر نہ صرف خطے کے سوا دو ارب انسانوں سمیت ہر چیز کو راکھ کر سکتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں پوری دنیا آگ اور خون کی لپیٹ میں آ سکتی ہے لہٰذا دنیا جس قدر جلد اس خطرے کا ادراک کر لےکو اتنا ہی اچھا ہے، اختلافات طے کرنے کے لیے بات چیت ہی سب سے بہترین راستہ ہے، بھارت سرکار کو اس کے توسیع پسندانہ عزائم سے باز رکھنے کے لیے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگا.
امریکا اپنے دہرے کردار کے باعث ایک طرف بھارت کو ہلا شیری دے رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنے پر توجہ مرکوز کر دی ہے
روسی ساختہ میزائل، ہیلی کاپٹروں اور دیگر ساز و سامان پر مشتمل ہتھیار حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو اربوں ڈالر درکار ہوں گے جب کہ ہماری معیشت پہلے ہی بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، اس صورت حال میں پاکستان کو راست قدم اٹھانا ہوگا اور دنیا کو یہ باور کرانا ہو گا کہ ایٹمی ہتھیار ہم نے اپنی قومی خود مختاری اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے قربانی دے کر تیار کیے تھے لہٰذا ہم اب صرف انہی پر انحصار کریں گے، کیوں کہ ہماری معیشت ہمیں ہتھیاروں کی دوڑ میں شاملس ہو کر دیوالیہ ہونے کی اجازت نہیں دیتی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں