85

کشمیر کے گلیشیروں کی تباہی کسی ایٹمی جنگ سے کم نہیں،افتخار گیلانی

سکاٹ لینڈ کے دارالحکومت گلاسگو میں جہاں اس وقت 26ویں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا آغاز ہو چکا ہے، چاہئے تھاکہ جنوبی ایشیائی ممالک ماحولیاتی مسائل پر کوئی مشترکہ حکمت عملی اپناتے، اس پورے خطے میں ہر سال کہیں خشک سالی، تو کہیں سیلاب، تپش، سمندری طوفان اور اب جاڑوں میں ہوائی آلودگی کی وجہ سے سینکڑو ں افراد لقمہ اجل ہو جاتے ہیں۔ 2009میں کوپن ہیگن میں اسی طرح کی کانفرنس سے قبل اس وقت بھارت کے وزیر ماحولیات جے رام رمیش نے پاکستانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اقبال خان سے ملاقات کے بعد بتایا تھا کہ دونوں ممالک ماحولیات سے متعلق مشترکہ موقف اپنائیں گے اور اس کے بعد اشتراک کی راہیں ڈھونڈیں گے۔ مگر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ بجائے مشترکہ حکمت عملی کے 2014کے بعد تو ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ مشترکہ دریاوں کے پانی کو بھی روکنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

ماحولیات کے معاملے میں دونوں ملکوں کے درمیان اشتراک اسلئے اشد ضروری ہے کیونکہ دریائے سندھ اور اسکی معاون ندیوں کو پانی فراہم کرنے والے کشمیر اور لداخ کے پہاڑوں میں موجود گلیشیر تیزی کے ساتھ پگھل کر ختم ہو رہے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں سے کشمیر کے سب سے بڑے کلاہوئی گلیشیر کی ناک 22میٹر سے زائد پگھل چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار 2007کے ہیں ۔ اس کے بعد تو مزید تباہی آگئی ہوگی۔ اس کے اطراف کے چھوٹے گلیشیر تو کب کے ختم ہو چکے ہیں۔ ہمالیہ خطے کے 15,000گلیشیر دنیا کے چاربڑے دریاوں سندھ، گنگا، میکانگ اور برہم پترا کیلئے منبع کا کام کرتے ہیں۔ تقریباً چار ارب افراد کی زندگی ان کے پانیوں کی مرہون منت ہے۔

بھارت کے ایک سینئیر سائنسدان ایم این کول کے مطابق ان 15ہزار گلیشیروں میں 6,500بھارت میں اور پھر ان میں3,136کشمیر اور لداخ خطے میں ہیں۔ پاکستان کا مرکزی دریا سندھ، تبت سے نکل کر لداخ اور پھر گلگت کے راستے پاکستان میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس کی ایک شاخ کرگل کے پاس الگ ہوکر سونہ مرگ کے راستے وادی کشمیر کے ایک حصے کو سیراب کرکے گاندربل میں دریائے جہلم میں ضم ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی تین چوتھائی آبادی سندھ طاس میں آباد ہے اور اسکی 80فیصد خوراک کی ضروریات سندھ اور اسکی معاون ندیوں خاص طور پر جہلم اور چناب پر منحصر ہے۔ ان گلیشیروں کو سب سے زیادہ خطرہ پہاڑی علاقوں میں بلا روک ٹوک آمد و رفت اور مذہبی یاتراوں کو سیاست اور معیشت سے جوڑنے سے ہے۔ جنوبی کشمیر میں امرناتھ اور شمالی بھارت کے صوبہ اترا کھنڈ کے چار مقدس مذہبی مقامات بدری ناتھ ،کیدارناتھ، گنگوتری اوریمنوتری اس کی اہم مثال ہیں۔دو عشرے قبل تک کشمیر میں امرناتھ یاترا کیلئے محدودتعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے لیکن اب ہندو قوم پرستوں کی طرف سے چلائی گئی مہم کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ سال بہ سال ان کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے اور اس یاتراکو فروغ دینے کے پیچھے کشمیر کو ہندوئوں کیلئے ایک مذہبی علامت کے طور پر بھی ابھار نا ہے، تاکہ بھارت کے دعویٰ کو مزید مستحکم بنایا اور جواز پیدا کیا جاسکے۔

1996ء میں برفانی طوفا ن کی وجہ سے اس علاقہ میں 200 سے زائد ہندو یاتریوں کی موت ہوگئی تھی۔ اس حادثے کی انکوائری کے لئے بھارتی حکومت کی وزارت داخلہ کی طرف سے مقرر کردہ ڈاکٹر نتیش سین گپتا کی قیادت میں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یاتریوں کو ایک محدود تعداد میں یاترا کرنے کی سفارش کی تھی۔اس کمیٹی کی سفارش کی بنیاد پر ریاستی حکومت نے یاتریوں کی تعداد کو ریگولیٹ کرنے کی جب کوشش کی تو بزعم خویش ہندو دھرم کے محافظ بعض ہندو رہنمائوں نے اسے مذہبی رنگ دے کر حکومت کی کوششو ں کو ناکام بنادیا۔ حدتو اس وقت ہوگئی جب 2005 ء میں کشمیر کے اس وقت کے وزیر اعلی مفتی محمد سعید نے اپنے دور میں گورنر جنرل (ر)ایس کے سنہا کی طرف سے یاترا کی مدت میں اضافہ کی تجویز پر اعتراض کیا تو ان کی کابینہ کے تمام ہندو وزیروں نے استعفے پیش کر دیئے۔

دوسری طرف ہندو شدت پسند لیڈروں نے بھی پورے ملک میںمہم شروع کرکے بڑے پیمانے پر ہندووں کو امرناتھ کی یاترا کیلئے راغب کرنا شروع کردیا۔ اتراکھنڈ کے چار دھام کی طرح امر ناتھ کو بھی سیا حت اور بھارت کی شدت پسند قومی سیاست کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں کی گئیں۔ پروفیسر کول کے مطابق اگر اس علاقے میں اسی طرح ہزاروں یاتریوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہا تو ماحولیات اور گلیشیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔لیکن اس مشورے پر کان دھرنے کے بجائے بھارتی حکومت زیادہ سے زیادہ یاتریوں کو بال تل کے راستے ہی امرناتھ بھیج رہی ہے۔

بھارتی حکومت نے ملک کے بیشتردریائوں اورندیوں کے منبع یعنی گنگا کے گلیشیرو ں کی حفاظت کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں لیکن وادی کشمیر اور پاکستان کو پانی فراہم کرنے والے سند ھ طاس گلیشیر کی تباہی پر وہ ذرا بھی فکر مند نہیںنظر آتی ہے۔ 2008ء میں ہی اتراکھنڈ صوبہ میں ماحولیات کے تحفط کیلئے وہاں کی اس وقت کی ہندو قوم پرست بی جے پی حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کی رو سے ہر روز صرف 250سیاح اور زائرین دریائے گنگا کے منبع گومکھ گلیشیر جا سکتے ہیں۔اس کا موازنہ اگر آپ سندھ طاس کو پانی فراہم کرنے والے کشمیر کے کلاہوئی گلیشیر کے ساتھ کریں تو وہاں ہر روز اوسطاً20ہزار افراد مئی اور اگست کے درمیان اسے روندتے ہوئے نظر آئیں گے۔ماہرین ماحولیات کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں جب کہ دنیا موسمیاتی تبدیلیوںکی وجہ سے ایک نئی آفت سے دوچار ہونے والی ہے اور اس مصیبت کو ٹالنے کے لئے دنیا کے بیشتر ممالک پہاڑی علاقوں میں سیاحوں کی آمد کو ریگولیٹ کررہے ہیں، بھارت کو بھی چاہئے تھا کہ کشمیر کے قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے امرناتھ میں یاتریوں کی تعدادکو ریگولیٹ کرنے کی تجویز پر مذہبی نقطہ نگاہ کے بجائے سائنسی نقطہ نگاہ سے غور کرے۔

بھارت کے ایک اہم ادارے دی انرجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (TERI) نے بھی اپنی ایک اسٹڈی میں دعویٰ کیا تھا کہ دریائے چناب کے طا س کے گلیشیروں میں 21فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ نجوان اکل گلیشیر تو پوری طرح پگھل چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق تھجواسن، زوجیلا اور ناراناگ کے گلیشیر بھی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ امرناتھ مندر کے غار کے اوپر کا گلیشیر ، جس کی وجہ سے غار کے اندر برف کا شیو لنگ بنتا ہے، بھی تقریباً 100میٹر تک گھٹ چکا ہے۔ شمالی کشمیر کے سیاحتی مقام گلمرگ کے نزدیک افروئٹ گلیشیر کا وجود ہی ختم ہو چکا ہے۔ جبکہ ایک وقت یہ 400میٹر طویل ہوتا تھا۔ اسی طرح جنوبی کشمیر کے ناگی نند، ہانجی پورہ اور وندرنند کے گلیشیر بھی ختم ہو چکے ہیں۔50 سال قبل چناب طاس میں 8,000 مربع کلومیٹر کے قریب گلیشیر ہوتے تھے، جو اب صرف 4,100 مربع کلومیٹر تک رہ گئے ہیں۔ سیاچن گلیشیر پر فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے اس کی کیا حالت ہو چکی ہوگی، اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بھارت میں گلیشیروں کا ڈیٹا حاصل کرنا بھی خاصا مشکل ہے، کیونکہ یہ سرحدی علاقوں میں آتے ہیں اور وزارت دفاع و فوج ان علاقوں کے سروے کی اجازت نہیں دیتی ۔ مجھے یاد ہے کہ جے رام رمیش نے اپنی وزارت کے دوران گلیشیروں کے سروے اور ان کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا حکم صادر کیا تھا مگر وزارت دفاع نے محققین کو ان علاقوں تک رسائی دینے سے انکار کر دیا۔ اب بھی بھارت میں گلیشیروں کے حوالے سے معتبر ڈیٹا موجود نہیں ۔

گلیشیروں کے علاوہ کشمیر میں گھنا جنگلاتی رقبہ بھی 37فیصد سے گھٹ کر 11فیصد رہ گیا ہے۔ ایک نیوز ویب سائٹ Third Poleکے مطابق پہلگام کے علاقے میں گھنے جنگلات کا رقبہ جو 1961میں 191مربع کلومیٹر تھا، 2010میں 3.9مربع کلومیٹر ریکارڈ کیا گیا۔ اب تو یہ اور بھی سکڑ گیا ہوگا۔ اسی طرح پانی کے سب سے بڑے ذخیرہ جھیل ولر کی قسمت بھی کشمیریوں کی قسمت کی طرح سکڑ گئی ہے۔ اس کا رقبہ پچھلی تین دہائیوں میں 157مربع کلومیٹر سے گھٹ کر 86مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ دریائے جہلم کو پانی فراہم کرنے والا یہ ایک بڑا سورس ہے۔

دہشت گردی ، فوجی کشیدگی یا سرحدی تنازعات ، قومی سلامتی کیلئے خطرات تو ہیں، مگر ایسا لگتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں ، خاص طور پر جب وہ جان بوجھ کر عمل میں لائی جاتی ہوں،سے اس سے بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس سے جنگوں سے بھی زیادہ افراد کی ہلاکت کا اندیشہ ہے۔ ویسے دونوں ممالک کو چاہئے کہ کم از کم اس معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کرکے خطے کو ماحولیاتی تبدیلی کے طوفان سے بچائیں۔ دوسرا طریقہ ہے کہ سارک تنظیم کے ذریعے کوئی میکانزم ترتیب دیا جائے۔

سفارتی مورخ رچرڈ اولمین نے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کی تشریح پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر وہ چیز جس سے عوامی زندگی یا اسکا معیار متاثر ہوتا ہے سلامتی کے زمرے میں آتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ گلاسگو کانفرنس کے موقع پر خطہ کشمیر کو ماحولیاتی تباہی سے بچانے اور اسکے جنگلات، گلیشیر اور پانی کے ذخائر کو بچانے کا عہد کریں۔ اگر یہ ناپید ہوجاتے ہیں توہمالیہ، ہندو کش اور پھر نشیب میں ایک بڑی آبادی دائوپر لگ سکتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ خطرہ کسی ایٹمی جنگ سے کم نہیں ہے۔ ٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں