93

گرمی کی چھٹیاں ـ ـ ـ

گرمی کی چھٹیاں اور یہ بچے
اُف ایک تو گرمی اوپر سے یہ چھٹیاں
اور بچوں کی یہ مستیاں
ہر گھر کی ہے یہی اِک کہانی
ہر وقت مستی’ اچھل کود
کبھی لڑنا’ کبھی جھگڑنا
پھر خود ہی مان جانا
کبھی کھانا’ کبھی پینا
کبھی اپنے ناز اُٹھوانا
ہر کسی کی اپنی ہے اک فرمائیش
امی چیختی’ چلاتی کبھی غصے سے
کبھی پیار سے سمجھاتیں
!پیارے بچوں
مستی ضرور کرو پر تھوڑا پڑھ بھی لو
اپنا اک ٹائم ٹیبل سیٹ کر لو
موج مستی کے ساتھ ساتھ
امی کا ہاتھ بھی بٹانا ہے
!پیارے بچوں
کتابیں پڑھو
کہانیاں امی کو سنانا ہے
جلدی سو جاؤ
صبح جلدی اٹھو
نماز پڑھو قرآن پڑھو
اک اچھا انسان بنو
(عاصمہ حسن )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں