30

گندم درآمد اسکینڈل، سابق نگراں وزیراعظم کا تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ

سابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے گندم درآمد اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا۔
ایرڈ ایگریکلچرل یونیورسٹی، راولپنڈی میں’پاکستان کو درپیش مسائل اور ان کا حل‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ایف بی آر میں ریکارڈ موجود ہے کہ 7 سے 8 کمپنیوں نے گندم درآمد کی، ان کمپنیوں کا فرانزک کر لیں، ثابت ہوجائے گا۔

سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ گندم اسکینڈل کے حوالے سے مجھ پر کرپشن کے الزام عائد کیا گیا، 7 ہزار کمیشن یا گندم کے حوالے سے اس کاروبار میں کوئی شراکت ہو تو اس دنیا اور اگلے جہاں میں بھی حساب دینے کے لیے تیار ہوں لیکن مجھ پر بہتان لگایا گیا جس کی بہت سخت سزا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت یا کوئی پرائیویٹ ایجنسی گندم درآمد اسکینڈل کی تحقیقات کیوں نہیں کرا رہی، یہ الزام ہے کہ ریاستی اداروں کی وجہ سے ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جارہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس بابر ستار یا جس مرضی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنا دیں اور انکوائری کریں۔

سابق نگراں وزیراعظم نے کہا ’اپنے دور حکومت میں ایف بی آر میں اصلاحات لائے، مجھ پر الزام لگا کہ میں نے گندم چرائی، اگر گندم چوری کا الزام مجھ پر ثابت ہوا تو میں حاضر ہوں، کیا اب تک کسی نے سوچا کہ آٹے کی لائن میں ہلاکتیں کیوں ہوئیں۔‘
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس نیٹ سے باہر لوگ موجیں کررہے ہیں، ہماری ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10 فیصد سے کم جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں 46 فیصد ہے، پاکستان کی معیشت کو ریونیو جنریشن کا بڑا چیلنج ہے، دنیا بھر میں قومیں جتنا کماتی ہیں اتنا ہی خرچ کرتی ہیں، یا کچھ کم خرچ کر کہ رقم محفوظ کر لیتی ہیں، پاکستان میں 22 لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں جن میں سے 8 لاکھ افراد ایسے ہیں کہ جن کا ٹیکس تنخواہ کے ساتھ ہی کٹ جاتا ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں بھی سب سے مشکل لوگوں سے زکوٰۃ کے حصول میں آتی تھی، لوگوں سے زکوٰۃ لینا مشکل کام ہے، ٹیکس وصولیوں کو بڑھانا ہمارے ملک کی ترجیحات میں شامل نہیں، کبھی سوشل میڈیا پر یہ ٹرینڈ نہیں کرتا۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ آج کل حمودالرحمن رپورٹ کا حوالہ دیا جا رہا ہے اور اس پر سب متفق ہیں، شیخ مجیب کو ہیرا ثابت کرنے میں کامیابی نظر آرہی ہے، لیکن جو سچ ہے وہ مقدس ہے، لوگ احادیث کی تشریح میں اختلاف تو کررہے ہیں لیکن اس رپورٹ پر سب متفق ہیں۔

واضح رہے کہ گندم درآمد سکینڈل کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے 5 مئی کو اپنی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اگست 2023 سے مارچ 2024 تک 330 ارب روپے کی گندم درآمد ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق، پی ڈی ایم حکومت نے جولائی 2023 میں گندم درآمدگی سے متعلق فیصلہ معلق رکھا تھا، نگران حکومت کے دور میں 250 ارب کی لاگت کی 28 لاکھ میٹرک ٹن درامد گندم پاکستان لنگراندازہوئی، موجودہ دور حکومت میں 80 ارب کی لاگت کی 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم پاکستان درآمد کی گئی۔ مجموعی طور پر پاکستان سے گندم درآمد گی کے لیے ایک ارب 10 کروڑ ڈالرپاکستان سے باہر گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں