114

گھٹن ماحول کی زندہ شاعری

گستاخیاں

خالد مجید

khalidmajeed925@gmail.com

بہت دنوں کے بعد گوشہ دانائی کے کمرہ تنہائی کی طرف چل دیے کہ پچیس دسمبر کی شام قائد محترم کی باتیں ھوں گی لیکن وھاں تو سب دسمبر کے دکھوں کا ماتم بچھاۓ ھوۓ تھے ہمیں دیکھتے ھی منہ پھٹ اور زبان دراز نے ہمیں آوازہ دیا تو ھم اپنی بات بھول کر دسمبر کی ستمگری بتانے لگے کہ ھمارا تو سینہ چھلنی ھے ھماری ماں بہشتن اسی ماہ جنت میں جا بسی ، پاکستان آدھا ھوا تھا ، آرمی پبلک سکول کے چراغ گل ھوۓ تھے ، پروین شاکر جیسی شاعرہ کے حادثے کا المیہ ، بینظیر بھٹو کے خون ناحق کا خون بھی دسمبر کے سر ھیے ، میرا بھائی زاہد مجید ملک اسی ماہ دسمبر میں اپنے پیروں پے چل کر گو زرا سا لڑکھڑا کر ہسپتال گیا تھا مگر سفید کفن میں لپٹ کر قبر کی مٹی اوڑھ کر سو گیا اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کا چھوٹے قد کا بڑا انسان سلطان محمود قاضی بھی مایوسیوں ،نظراندازیوں اور خواہشوں کو حسرت بنا کر اسی دسمبر میں پنڈ ملکاں کی قبر میں جا سویا ۔
پھر استانی سیانی نے سب کے مغفرت کی دعا شروع کر دی ماحول کچھ دیر اداسی اوڑھے رھا اور پھر منہ پھٹ کی آواز ابھری کسی نے مجھ سے پوچھا تھا کہ مزاحمت کیا ھیے تو جناب عرض کروں ۔
جی بتاہیے استانی سیانی نے کہا
تو جناب جب انسان جبر سہتے سہتے تنگ آ جاتا ھیے اور صبر کی انتہا ھو جاتی ھے تو انسان مخالفت شروع کر دیتا ھیے اور جب مخالفت کو عروج ملتا ھیے تو رکاوٹ کے لیے بڑھتا ھیے رکاوٹ انسان کو مزاہمت کی طرف لے جاتی ھیے ۔
مزاہمت رویے کے خلاف انسانوں کا دردعمل ھوتا ھیے زبان دراز نے لقمہ دیا
اور پھر رسموں رواجوں کے خلاف مزاہمت ، بےجا ظلم وستم کے خلاف مزاہمت ، ملک میں مسلط کیے جانے والے کالے قوانین کے خلاف مزاہمت ، عوام کو بے جا تنگ کرنے کے خلاف مزاہمت
ارے ھاں استانی سیانی کی بات کاٹ کر ہتھ چھٹ نے مداخلت کی جیسے ابھی صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں لوگوں نے گزشتہ آٹھ سال سے جاری حکومتی پالیسیوں کو یکسر نامنظور کر دیا ھیے بلدیاتی نظام ھی حکومتی پالیسیوں کا آئینہ دار ھوتا ھے
او بھائی صاحب زبان دراز نے بات کاٹ کر بولنا شروع کر دیا حکومت تو اب بھی اپنی پالیسیوں پر نازاں ہے یہ جو شاہ سے زیادہ شاہ وفادار بنے پھرتے ہیں وہ ٹکٹوں کی غلط تقسیم کو شکست سمجھ رہیے ہیں جبکہ سچ یہ ھیے کہ مہنگائی ، لاقانونیت ،اقرباپروری ، غربت اور بےروزگاری نے جینامحال کر دیا ھیے
ھاں ھاں بولو زبان دراز نے گستاخ کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔۔
یہی وہ لمحہ ھوتا جب سوچ اور فکر کرنے والے قلم کا سہارا لیتے ہیں احساس دلانے کے لیے لمحہ موجود کے گھاؤ دکھانے کے لیے یہ لوگ کبھی فیض بنتے ہیں، کبھی فراز ھوتے ہیں ، کبھی فہمیدہ ریاض کہلاتے ہیں ، کبھی بابا نجمی ھوتے ہیں ، کبھی سجاد لاکھا بنتے ہیں ، حسن ناصر ھوتے تو کبھی کاسترو ھوتے ہیں اور کبھی نیلسن منڈیلا ھو جاتے ہیں
یہ عجیب بہادر اور باضمیر لوگ ھوتے ہیں یہ آئینہ بردار اپنے اپنے وقت کے اوتار ھی معلوم ھوتے ہیں
آج کے لمحہ موجود میں ظلم وستم ، بے راہروی سمیت حرف تنقید براۓ کا علم بلند کیے سجاد لاکھا اپنے نشتر لفظوں کے ساتھ وقت اور حالات کی رفوگری کرتے نظر آتے ہیں کرب اور دکھ ان کے لفظوں سے چھلکتا ھے ایک شعر دیکھیے

یہ کس محبت مزاج دھرتی پہ قہر ٹوٹا

یہ کیسے کوفہ مزاج لوگوں میں پھنس گئے ہیں
چند دن پہلے سڑک کنارے ھونا والا واقعہ کیسے لفظوں کے سانچے میں ڈھلا ۔

سانحہء سیالکوٹ

یہ درندوں کا دیس ہے صاحب !
صرف شکلیں ہیں آدمی جیسی
ظلم جب ہو رہا تھا دھرتی پر
یہ ریاست خلاء میں تھی شاید !

کڑے سچ جب تلخیاں بن کر سوہان روح بن جاتے ہیں تو لفظ یوں ماتم کناں ھوتے ہیں اس نظم میں دیکھیے

توہینِ عدالت

اس ملک میں اک دستور بھی ہے
منسوب اس سے اک شاہراہ بھی
اس شاہراہ پر میزان بھی ہے
ان دیکھے خوف کا پہرہ بھی
اندر اک بھول بھلیاں ہے
جہاں عدل کی اونچی مسند پر
ملبوس مقدس جبوں میں
اوتار فروکش ہوتے ہیں
اور عدل کے اس سناٹے میں
مجبور شکستہ قدموں کی
گر چاپ سنائی دے جائے
توہینِ عدالت ہوتی ہے

اور یہ اشعار زندہ ضمیر پڑھ کر سر دھنتے ھی ہیں مگر لکھنے والے روشن ضمیروں کے لیے دعا گو بھی رہیتے ہیں کہ ان پر کسی کی نظر بد نہ پڑھے
زندہ اشعار ہیں
حقیقت تک رسائی مانگتے ہو
بتوں سے کبریائی مانگتے ہو
یہاں تو رہبری اک داشتہ ہے
تم اس سے پارسائی مانگتے ہو
گراتے کیوں نہیں دیوار زنداں ؟
اسیرو ! کیوں رہائی مانگتے ہو
زمانے بھر کا وہ اک بے مروت
تم اس سے دل ربائی مانگتے ہو
ستم یہ ہے تم اپنی اجرتیں بھی
اسے دے کر دہائی ، مانگتے ہو

اور جب گھٹن ماحول کو آلودہ کر دے تو کہیں سے آواز برنا بنتی ہے تو کبھی عثمانی ھو جاتی ھیے یہ نظم دیکھیں

پتھر کی عمارت میں
ترازو بھی ہیں، بت بھی
مظلوم کی آنکھوں سے چھلکتا ہُوا
غم بھی
انصاف کو مصلوب کیے جانے کا
دکھ بھی
سب کچھ ہے مگر
دل ہے نہ احساس نہ درماں
مخلوق نے پوجا تمہیں اوتار سمجھ کر
صد حیف کہ تم
خاک کے پتلے بھی نہ نکلے

گوشہ دانائی کے کمرہ تنہائی میں سب چپ تھے اور سجاد لاکھاکی شاعری گونج رھی تھی کہ اچانک استانی سیانی کی آواز آئی گستاخ جی کچھ نہ بولیے بس سجاد لاکھا کی شاعری سناہیےگستاخ نے سب کو دیکھا سب نے ہاں ہاں ہاں کےا نداز میں سر ہلا دہیے یہ غزل دیکھیے

اٹھ رہی ہے صدا کو بہ کو، خواب ہے
منصفو ! عدل کی آرزو خواب ہے
ساقی، دربان، واعظ کی تثلیث میں
مے کشو ! لطفِ جام و سبو خواب ہے
مت ڈرو ! حاکمِ شہر سے مت ڈرو !
پی رہا ہے ہمارا لہو ، خواب ہے
خواب ہے رقص کرتی ہوئی ہر گھڑی
خوف و دہشت یہاں چار سو، خواب ہے
کیا کریں اب ترا حُسن توبہ شکن
اب یہاں محفلِ رنگ و بو خواب ہے

اور یہ شعر

مجھے تلخ لہجے پہ الزام دو گے
تو اپنے تکبر کو کیا نام دو گے ؟

ان اشعار ضرور غور سے سننیے

اس عہد میں جینے کا ہنر مانگ رہے ہیں
کیا لوگ ہیں ! دیوار سے در مانگ رہے ہیں
پنجرے سے رہائی کا تمہیں کس نے کہا ہے؟
ہم لوگ تو نوچے ہوئے پر مانگ رہے ہیں
لو اور سنو ! طرفہ تماشا ہے کہ رہ بر
سب چھین کے اب زاد سفر مانگ رہے ہیں

اور نیےسال کی یہ دعا تو نجانے وہ کب سے مانگ رہیے ہیں

دعا
میں نے چاہا تھا
نئے سال میں جب آنکھ کھلے
کرہ ءارض پہ افلاس کی بُو باس نہ ہو
نہ کوئی عدمِ مساوات ہو انسانوں میں
خوف کو، ظلم کو، بارُود کو موت آ جائے
ہاں مگر حسرت ِناکام پہ شرمندہ ہوں
اپنی اس چاہ کے انجام پہ شرمندہ ہوں
ہم رعایا ہیں تو اوقات میں رہنا ہوگا
حاکمِ شہر سے لےعدل کی دہلیز تلک
ہم پہ واجب ہے کہ ہر گام پہ شرمندہ ہوں

جبری بے دخلی کی مزمت یوں کہ بے روزگاری کا دکھ صرف اسے ھی ھو سکتا جس کے گھر فاقے آ جاہیں

عذاب بے روزگاری کا

بس بہت ہو چکا

تم نے چولہے بجھائے بہت ہو چکا
ہم نے تیری مذمت سر عام کی
خوب نعرے لگائے بہت ہو چکا
میڈیا سیٹھ کے ساتھ گٹھ جوڑ پر
ہم نے کی ہائے ہائے بہت ہو چکا

تم نے اک نہ سنی کتنے بے حس ہو تم
چشمِ نم ناک میں خوں اترنے لگا
اشک اتنے بہائے بہت ہو چکا

ہم علامت بنے سچ کے اظہار کی
یہ صحافت صحیفہ ہے اس دور کا
ٹکٹکی پر سر عام اس کے لیے
ہم نے کوڑے بھی کھائے بہت ہو چکا

ٹھوکروں پر رکھیں گے ترے جبر کو
اپنا حق چھین کر اب دکھائیں گے ہم
تاج کی،تخت کی، ہر سیہ بخت کی
رسی کھینچیں گے ہم بت گرائیں گے ہم

سب برابر ہیں بس، کوئی برتر نہیں
اب کسی نے بھی تقدیس کی بات کی
کاٹ ڈالیں گے ہم شارع دستور پر
بھینس ہو یا ہو گائے بہت ہو چکا
تم سے کہتے ہیں ان کو سناتے ہیں ہم
جو تمہیں لے کے آئے بہت ہو چکا
بس بہت ہو چکا، ہاں بہت ہو چکا

ایک بات بتاوں آپ کو یہ جو مزاہمت ھیے ناں یہ غار حرا کی تاریکی سے نکلی تھی اور روشنی بن کر قرعہ ارض پر پھیل گئی تھی یہی مزاہمت کربلا میں ظلم وبربریت سے ٹکرائی تو شھادت کہلائی ، یہی مزاہمت سقراط بنکر زہر کا پیالہ پینے کو ترجیح دیتی ھیے مگر سچ کہنے اور سچ بولنے سے پیچھے نہیں ہٹتی اور یہ مزاہمت ھی تو ھیے جو منصور بن کر سولی کو چومتی ھیے مگر سچ کا دامن نہیں چھوڑتی ۔۔۔۔۔۔۔

بس اور کچھ نہیں خدا ان سب کا حامی و ناصر ھو اور پھر سکوت زدہ گوشہ دانائی کے کمرہ تنہائی میں خاموشی چھا گئی سب ھی چل دیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں