47

قانون کو ادھیڑتی اشرافیہ

میرے گھر کے قریب وفاقی دارلحکومت کی پوش ہاؤسنگ سوسائٹی میں موجور انگریزی اسکول ہے۔۔بچے اسکول جانے کی عمر کو پہنچے تو میں داخلے کے لیے اسکول کی پراسپیکٹس بھی لے آئی پڑھ کے حیرت ہوئی اور دکھ بھی حیرت اس بات کی کہ اس اسکول میں ایسی کونسی تعلیم دی جاتی ہے کہ لاکھوں میں ماہانہ فیس وصول کی جارہی ہے اور دکھ یہ سوچ کر ہوا کہ ایک ہی ملک میں بسنے والے تمام بچوں کے لیے تعلیم اور درسگاہیں یکساں کیوں نہیں ہیں۔۔خیر اسکول کے باہر بڑی بڑی امپورٹڈ گاڑیوں میں والدین بچوں کو چھوڑنے آتے ہیں اکثر آتے جاتے نظر پڑتی ہے تو آنکھوں پر یقین نہیں آتا کہ واقعی یہ کوئی درسگاہ ہے۔۔کم ہی ان بچوں کو میں نے اسکول یونیفارم میں دیکھا ہوگا ورنہ شارٹس اسکرٹس, مہنگے چشمے, ڈائی بال،اور ہر طرح کے فیشن میں بچے ماہر دکھائی دیتے ہیں۔۔تعلیم کا تو نہیں پتہ لیکن آجکل کی دنیا میں جو اعتماد کی تعریف اشرافیہ کرتی ہے اس پر بچے سو فی صد پورے اترتے دکھائی دیتے ہیں۔میں نہ کبھی اقبال کی “لب پہ آتی ہے دعا بن کر تمنا میری “کی دعا سنی نہ ہی قومی ترانہ.. ہاں البتہ چھٹی اور اسمبلی کے اوقات میں شاکیرا کا والا واکا اور فیفا کے نئے ترانے ضرور سنائی دیتے ہیں۔


ایلیٹ کلاس کے بچوں کے لیے قائم لاہور کے ایک بین الاقوامی اسکول میں طالبات کی ساتھی طالبہ پر تشدد کی ویڈیو سبھی نے دیکھی کہا جارہا ہے کہ طالبہ نشے سے روکتی تھی اسلیے تشدد کیا گیا جبکہ عدالت میں تشدد کرنے والی لڑکیوں کی طرف سے کہا گیا کہ وہ خود منشیات کی عادی تھی خیر معاملہ جو بھی تھا عمر کے اس حصے میں بچیوں کا یہ رویہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ ہماری نسل کی تربیت میں ایسے چھید ہوچکے ہیں جو اب پیوند لگا کر بھی جوڑنے مشکل ہیں۔ ابھی عوام طالبات کے اس عمل پر سکتے میں تھی کہ ہمارے ملک کا امتیازی قانون اشرافیہ کو تحفظ دینے کے لیے ان ایکشن دکھائی دیا طالبات کی قبل از گرفتاری ضمانتیں بھی ہوگئیں یہ کوئی نئی بات بھی نہیں رہی تاریخ کئی ایسے واقعات کی گواہ ہے جہاں طاقت اور پیسے نے اس ملک کے قانون کو پیر کی جوتی بنایا اور پہن کر محفوظ راستے سے نکل گیا۔۔
لاہور کا واقعہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ آجکل کی تعلیم کا تربیت سے کوئی لینا دینا نہیں ایک دوڑ ہے دکھاوا ہے اور امیر کبیر والدین کے پیسے کا نشہ ہے اس واقعے کو میرے اور اپ جیسے والدین بدتمیزی اور انتہائی پست حرکت سمجھتے ہیں مگر پیسے والے والدین اسے اپنے بچوں کا کانفیڈینس کہتے ہیں جو انکے بچے ایسی تعلیم گاہوں سے حاصل کر رہے ہیں۔۔لاہور اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی شکایات اکثر سننے میں آتی ہیں “مشیات کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ڈرگ ایڈوائزری ٹریننگ ہب کے مطابق اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں منشیات کے استعمال اور تشدد کا رحجان آئے روز بڑھتا جا رہا ہے” تشویش تو اس بات کی ہے کہ ان اسکولوں کے منتظم اس قدر بے خبر کیوں ہیں اور باخبر ہیں تو کس مقصد کے تحت نوجوان نسل کو اس لت میں ڈال رہے ہیں؟ انگلی تو والدین پر بھی اٹھتی ہے بچے کی پہلی تربیت گاہ تو گھر کا آنگن ہے پھر چاہے ہم اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیج بھی دیں تو انکی نگرانی ہمراہ اولین فرض ہے بچے کیا پڑھ رہے ہیں انکا رویہ کیا ہے ان کا میل جول کیسا ہے کیا کھاتے ہیں کب سوتے ہیں کیا دشواریاں ہیں کیا سوالات ہیں انکی کیا ضروریات ہیں والدین چاہے کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں ان سب باتوں کا خیال بہرحال والدین کو ہی رکھنا ہوتا ہے۔۔لیکن اشرافیہ پیسہ بنانے اور اسے دکھانے میں مصروف اس قدر ہے کہ اپنی ہی پیدا کی گئی اولاد کو مہنگے اسکول بھیج کر، برینڈیڈ کپڑے جوتے دے کر فاسٹ فوڈ کے لیے کریڈٹ کارڈز حوالے کر کے سمجھتی ہے کہ انکا فرض پورا ہوا باقی انکی بگڑی اولادیں اسکولوں میں نشے کریں یا مار پیٹ اس سے انکا کوئی سروکار نہیں تبھی تو پیسے دیکر عدالتوں سے ان گندی اولادوں کو ایک ہی رات میں چھڑوا لاتے ہیں۔


ہماری عدالتیں بھی انصاف کے دوہرے نظام میں خوب لت پت ہیں غریب کے لیے قانون اور ہے جبکہ طاقتور کے لیے انکے ترازو کا معیار اور۔۔آپ کبھی کورٹ کچہری میں ہزاروں لوگوں کو دھکے کھاتے دیکھیے جو اپنے کیس جوانی میں دائر کرتے اور بڑھاپے تک فیصلے مؤخر رہتے یا پھر کیس کی سنوائی ہی نہیں ہو پاتی۔۔کرمنل کورٹس میں کئی بے گناہ منتظر ہیں سول کورٹس میں ڈھیروں فائلیں کسی خاک سی امید تلے دب چکی ہیں کئی خواتین سے متعلق کیسز ہیں جو ڈرتے مرتے تشدد کے خلاف آواز اٹھا بیٹھیں مگر کوئی سننے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے والا نہیں۔بد قسمتی سے انصاف کا دوہرا معیار بھی اس نظام کی ناکامی کی وجہ بنتا جارہا ہے غریب جسکے پاس پیسہ نہیں وہ روز عدالتوں کی خاک چھانتا ہے اسکو سننے والا کوئی نہیں ہوتا جبکہ روپے پیسے والا ایک دن میں اپنا کیس عدالت سے نمٹا لیتا ہے۔۔۔بڑے بڑے مجرم عدالتوں سے پلک جھپکتے بری ہوتے دیکھے کئی نامی گرامیوں کو قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکتے بھی دیکھا انہی عدالتوں نے مجرموں کے کمروں سے برآمد شدہ شراب کی بوتلوں کو شیمپو کی بوتلیں بھی کہا سیاسی مجرموں کو محفوظ راستے بھی فراہم کیے سیاستدانوں کو سیاسی انتقام میں بھی جھونکا کئی سیاسی بدمعاش تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی جماعتوں کے زیر سایہ کئے گئے سنگین جرائم کا اعتراف تک کیا مگر با عزت بری ہوئے۔۔ غریب بھوک کے مارے ایک روٹی بھی چوری کر ے تو پولیس پکڑ کے لے جائے گی اس بے چارے کو حوالات سے جیل تک پہنچا دیا جائے گا جبکہ دن دیہاڑے ٹریفک وارڈن کو کچلنے والے ایم این اے مجید اچکزئی جیسے لوگ انہی عدالتوں سے رہا ہوجاتے ہیں اور کہا جاتا ہے ثبوت ناکافی ہیں جبکہ قتل کی فوٹیج تک عدالت میں دکھائی جاتی ہے۔۔۔ معاشرے کی بقا کے لیے کفر کا نظام تو چل سکتا ہے پر ظلم کا نہیں۔ اسوقت پاکسان کی مختلف عدالتوں میں بائیس لاکھ سے زیادہ مقدمات زیر التوا ہیں قانون کے ہاتھ بھی صرف کمزور کی گردن تک ہی پہنچ پاتے ہیں بااٹر مجرموں تک پہنچتے پہنچتے انکی اپنی گرفت کمزور پڑنے لگتی ہے صلاح الدین جیسے اے ٹی ایم چور کو ہماری پولیس حوالات میں ہی مار مار کر مار دیتی ہے۔۔عدالتی نظام طاقتور کے سامنے بے بس جبکے کمزور کے سامنے تگڑا بن جاتا ہے اور یہی پچہتر سالوں سے اس قوم کا مقدر ہے تبھی تو یہاں نا انصافی نے جڑیں پکڑ رکھی ہیں جبکہ مجرم سینہ تان کر گھوم رہے ہیں۔
لاہور اسکول کا واقعہ والدین کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے بھی کافی ہے یہ وہ نسل جس نے اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے وہ کس راہ چل نکلی ہے سوچنا ہوگا کہ ہمارا تعلیمی نظام کہاں کھڑا ہے نوجوانوں کی تربیت میں ریاست اور معاشرہ سے کیونکر کوتاہی ہورہی ہے بچوں کو سہولیات دیکر تربیت چھین لینا گھاٹے کا سودا ہے کیونکہ نظام نہ بدلا تو اخلاق اور کردار سے عاری نسلیں دلدل میں دھنستی جائیں گی اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں