37

تبدیلی

مکالمہ : کائنات خان

یوں مہنگائی کا طوفان سال 2019 سے آچکا ہے جب پوری دنیا کو کرونا وائرس نے اپنے لپیٹ میں لیا اور دنیا نے اپنی تمام کاروبار بند کردی، کارخانے بند ہوگئے، خرید و فروخت بند ہوگئی۔۔۔ ایک طرف طلب میں بے تحاشہ اضافہ ہوچکا تھا تو دوسری طرف رسد دن بدن کم ہوتی جارہی تھی جنکی وجہ سے اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئیں اور یوں مہنگائی نے جنم لے لیا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بری طرح متاثر ہوچکے تھے لیکن پھر بھی وہ ترقی یافتہ ہیں وہ انہوں نے خود کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے مختلف قسم کی سٹریٹیجیز اپنائی، لیکن دوسری طرف ترقی پزیر ممالک بھی اسی طرح بری طرح متاثر ہوچکے تھے لیکن جیسے ہی ان ممالک کے پاس کوئی پلان نہیں، کوئی پالیسی نہیں اگر ہے بھی تو انکی اتنی معاشی استحکام نہیں جنکی وجہ سے ان پلان کے اوپر کام ہو۔۔۔ اسی وجہ سے ان کو کرونا نے ترقی یافتہ ممالک کے نسبت بہت زیادہ متاثر کیا۔

متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل تھا۔ پاکستان میں تب ایک نئی حکومت بن چکی تھی جنکی پہلی باری تھی۔۔ انہوں نے تب تک کوئی پلان بھی تیار نہیں کیا تھا، کوئی پالیسی تیار نہیں ہوئ تھی اور اوپر سے کرونا وائرس کی وبا آئی جس کی وجہ سے دنیا کی طرح یہاں بھی لاک ڈاؤن لگانا پڑا۔ ایک طرف حکومت کی پہلی باری تھی، عوام سے کیئے گئے وعدے تھے، معیشت کو بہتر بنانی تھی، کرپشن کے کیسز تھے، پکڑ دھکڑ تھی تو دوسری طرف کرونا وائرس کی وبا۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکمرانی جماعت کو فل لاک ڈاؤن کرانے پہ مجبور کی تھی لیکن حکمران جماعت نے انکی نہ سنی اور اپنے ملک کی خاطر اور اپنی معیشت کی بحالی کی خاطر سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جسکی وجہ سے بیماری میں اضافہ بھی نہیں ہوا اور معیشت کو بھی زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن دنیا کی اس لاک ڈاؤن اور بندش کی وجہ سے جو عالمی منڈیوں میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا اسکی وجہ سے دنیا کی طرح پاکستان میں بھی منہگائی کا گراف بھی بڑھنے لگا اور پاکستان میں بھی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے معاشی اصلاحات کئیں اور قیمتوں کو کچھ حد تک برقرار رکھنے کی کوشش کی لیکن ناقص انتظامیہ کی وجہ سے قیمتوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔ اخبارات اور میڈیا میں قیمتیں ایک تھی تو مارکیٹ میں قیمتیں کچھ اور تھی۔ غریب لوگ متاثر ہورہے تھے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کوئی پوچھتا بھی تو جواب یہی ایک تھا کہ تبدیلی آگئی ہے۔۔۔۔
بیشک پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں انتطامیہ کام نہیں کر رہی تھی یا کرنے کے باوجود انکی کارکردگی کمزور تھی لیکن پھر بھی دنیا کے مقابلے میں قیمتیں کچھ حد تک برقرار رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کچھ صحافی اور کچھ میڈیا چینل پہ مہنگائی کو ایشو بنا کر روز روز پروگرامز کرتے ہوئے نظر آرہے تھے کچھ جماعتوں نے اتحاد کر کے پی ڈی ایم کی شکل میں ایک گروپ بنائی جنکی ایک مقصد تھا کہ عمران خان کو کسی طریقے سے ہٹانا چاہئیے۔ مہنگائی کو ایشو بناکر لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کی گئی بیشک عوام کچھ حد تک عمران خان سے مایوس ہوچکے تھے لیکن ان عوام کو عمران خان کے خلاف تحریک شروع کرنے والی باقی ساری جماعتوں کا مقصد نہیں پتہ تھا، عوام کو بظاھر کچھ اور بتایا جارہا تھا لیکن کیا کچھ اور ہورہا تھا۔
انکی تحریک کو اسٹیبلشمنٹ کی کچھ شخصیات نے اپنی ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے تقویت بخشی اور پاکستان تحریک انصاف کے کچھ ممبرانِ اسمبلی کو توڑنا شروع کیا اور پاکستان میں ایک گندی سیاست کو فروغ دیتے ہوئے ایم این ایز کی آلو ٹماٹر کی طرح خرید و فروخت کروائی گئی۔ اسٹیبلشمنٹ کی کچھ شخصیات کی کاوشوں کی بدولت حکومت کی زوال شروع ہونے لگی اور بالآخر 9 اپریل 2022 کو عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کو گھر بھیج دیا اور ایک نئی سیٹ اپ بن گئی اور شہباز شریف ملک کا وزیراعظم بن گیا۔

پی ڈی ایم حکومت نے جو وعدے کئے تھے کہ مہنگائی ختم کریں گے اور معیشت کو مستحکم کریں گے لیکن حقیقت میں کچھ اور کر گئے۔ معیشت کو نیست و نابود کرگئے اور جو مہنگائی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں 12 فیصد تھی اسی مہنگائی کو اج 30 فیصد تک لے گئی۔ جو آٹے کی قیمت 1300 روپے تھی آج اسی آٹے کو 3300 روپے تک پہنچا دئے۔۔ گورننس انکی بدترین جارہی ہے، سسٹم انکا بدتر جارہا ہے، معیشت انکی تباہ ہوئی اور ملک کو دیوالیہ ہونے تک پہنچا دیا۔۔۔

عوام کو اب سمجھ آنے لگی کہ پی ڈی ایم حکومت مہنگائی کو ختم کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنے تمام کرپشن کیسز کو ختم کروانے کیلئے آئے ہیں۔ وہی مولانا صاحب جس نے پی ٹی آئی حکومت میں 12 فیصد مہنگائی میں مہنگائی مارچ مارچ کروائ تھی آج وہی مولانا صاحب 30 فیصد مہنگائی میں بلکل خاموش ہے کیونکہ انکے خاندان کے تقریباً 7 افراد حکومت میں کسی نہ کسی بڑے عہدے پر براجمان ہیں۔

عوام بھوک سے مر رہے ہیں اور حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا کیونکہ انکا مقصد عوام کو ریلیف دینا نہیں بلکہ اپنی عیاشیاں ہیں۔ عوام آج کل ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف حکومت کو بہت بڑا چانس مل چکا ہے اپنی عیاشیاں بڑھانے کی اور اپنے کرپشن کیسز معاف کروانے کی۔ اگر کوئی بندہ اب مہنگائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھا جائے تو ہر بندہ اس کو پی ٹی آئی کا سپورٹر کہلاتا ہے گویا پی ٹی آئی کے علاؤہ کسی اور کو اپنے ملک کی، اپنی معیشت کی اور اپنے عوام کی کوئی فکر ہی نہیں۔ اگر آپ کسی بھی بندے کو صرف مہنگائی کے بارے میں پوچھنے پہ پی ٹی آئی کا سپورٹر کہلاتے ہیں تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی ہی عوام ہے اور عوام ہی پی ٹی آئی۔۔۔۔۔ اور اگر ایسا ہوا تو پھر آپ کا ٹایم بہت زیادہ جلد ختم ہونے والا ہے کیوںکہ عوام رلیف چاہتی ہیں اور آپ لوگ رلیف دینے میں 100 فیصد ناکام ہوچکے ہیں وہ اسلئے کیونکہ آپکا شروع ہی سے کوئی مقصد ہی نہیں تھا اپنے عوام کو ریلیف دینے کا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں