43

شفاف انتخابات میں بدنیتی ہوگی تو ہم مداخلت کریں گے: چیف جسٹس عمرعطا بندیال

اسلام آباد(روزنامہ استحکام) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر تبادلہ کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے جسے ہم تحفظ فراہم کریں گے، ان کو آئین کے تحت اختیارات حاصل ہیں جن کا مقصد شفاف انتخابات کرانا ہے، اگر شفاف انتخابات میں بدنیتی ہوگی تو ہم مداخلت کریں گے۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے جسے آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جا رہا ہے، آئینی اداروں کو بدنام کرنے والی ان آڈیو ٹیپس کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ہم ان ٹیپس پر صبر اور درگزر کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ادارے کا تحفظ کریں گے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا بعض اوقات سپریم کورٹ کی باتوں کو غلط سمجھا جاتا ہے، ہم نے ایک کیس میں کہا کہ 1988میں ایک ایماندار وزیر اعظم تھا تو ہماری اس بات کو پارلیمنٹ نے غلط سمجھا، ہم نے یہ نہیں کہا کہ آج تک صرف ایک ہی ایماندار وزیر اعظم آیا۔

چیف جسٹس نے کہا ہم نے آئینی اداروں کو اپنے فیصلوں میں تحفظ دیا ہے، عدلیہ پر بھی حملے ہو رہے ہیں، عدلیہ کا بھی تحفظ کریں گے، سروسز ٹربیونل کے ایک بینچ نے غلام محمود ڈوگر کو بحال کیا، سروس ٹربیونل کے دوسرے بنچ نے بحالی کا فیصلہ معطل کر دیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بیورو کریسی میں تبادلوں کی منظوری کے بعد آپ کا معاملہ ویسے بھی غیر موثر ہو چکا ہے، ڈیمو کرٹیک پراسس فئیر ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں