15

ففتھ جنریشن وار اور پاکستان

کالم نگار: حرا احمد

ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت پاکستان ایک بار پھر ففتھ جنریشن وار کی ذد میں ہے۔آج دُنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے
تغیر و تبدل کا یہ سلسلہ ازل سے چلا آرہا ہے او ر ابد تک قائم رہے گا۔اب وہ وقت کب کا گزر چکا جب دورانِ جنگ دشمن کا نشانہ اس ملک کی افوج ہوا کرتی تھیں گزشتہ چند سال سے دنیا میں ہونے والی مختلف تبدیلوں کے ساتھ جنگ کا طریقہ کار بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ دشمن کا نشانہ اب کسی ملک کی فوج نہیں بلکہ براہ ِ راست کے عوام ہوتے ہیں، جن کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو کنٹرول کر کے اپنے ہدف حاصل کیے جاتے ہیں۔ ہے۔ ففتھ جنریشن وار میں اصل حقائق کو بالکل توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے، اختلافات کو بڑھا چڑھا کر ہوا دی جاتی ہے، جھوٹ اور سچ کا ملغوبہ بنا کر لوگوں کے دماغوں میں انڈیل دیا جاتا ہے۔ففتھ جنریشن وار فیئر،  میں اب گولی کی جگہ کلک بلکہ اپنے دشمن کے مقابلے کے لیے بلٹ کے بجائے بٹن کو ترجیح دیتے ہیں۔فرسٹ جنریشن تا ففتھ جنریشن وار فیئر جنگ میں سب سے خوفناک، تباہ کن اور  ’’ففتھ جنریشن وار فیئر‘‘ ہے جس سے آج ہم گزر رہے ہیں۔
ففتھ جنریشن وار میں دشمن اپنے ہارڈ پاور جن میں ہتھیار جہاز، ٹینک اور میزائل کی بجائے سافٹ پاورز کو استعمال کرتا ہے جیسےلابنگ، پروپیگنڈے، پراکسیز ،سفارت کاری،  ٹی وی، ریڈیو، اخبار، سوشل میڈیا، فلم اور معیشت ہیں۔ یہ زمین پر نہیں بلکہ ذہنوں میں لڑی جاتی ہے۔ففتھ جنریشن وار فیئر دراصل خیالات، کلچر اور معلومات کی جنگ ہے۔اس جنگ کے مقاصد نہایت خطرناک اور ہولناک ہیں۔ففتھ جنریشن وار  فیئر یا ہائبرڈ وار فیئر کے اثرات کے تحت ایک شہری یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ریاست اور ریاستی ادارے اعتماد کے لائق نہیں رہے، رفتہ رفتہ اس کا دل اپنے ملک سے اٹھ جاتا ہے یا یوں کہہ لیجئےکہ اٹھا دیا جاتا ہے۔ ففتھ جنریشن وارفیئر دراصل ایک نفسیاتی جنگ ہے جس کے ذریعے مخالف قوم کے ذہنوں کوتبدیل کرنے کے لئے جائز و ناجائز ہر حربہ آٓزمایا جاتا ہے۔ اس ملک کے شہریوں کو اپنی ریاست اور بالخصول فوج کے خلاف بھڑکایا اور استعمال کیا جاتا ہے جیسا  ہمارے ملک میں کچھ عرصے سے نظر آرہا ہے اور ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت لوگوں کی سوچ پر وار کرکے ملک کے اندر خانہ جنگی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ففتھ جنریشن وار کے تحت  ہر چند ماہ بعد دشمن قوتیں پوری سازش سے حملہ آور ہوتیں ہیں کبھی مذہیب کارڈ کی بنیاد پر تو کبھی دہشت گردی کے ذریعے یا پھر کسی حساس مسئلے کو چھیڑ دیا جاتا ہے جس سے ملک غیر مستحکم اور بے یقینی کی فضا پیدا ہو جو آج سب ہمارے سامنے ہے۔ففتھ جنریشن وار آج کی بات ہے لیکن ایساہرگز نہیں اس طریقہ کار کے مختلف حربے ایک مدت سے دشمن کو زیر کرنے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں پاکستان اس وقت پھر ففتھ جنریشن وار کے دہانے پر کھڑا ہے اپریل 2022ء میں ایک ایسا بھونچال آیا کہ جس نے ملک ہلا کر رکھ دیا۔ جس کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام کی ایسی روش شروع ہوئی جو کسی سمت روکنے کا نام نہیں لے رہی پہلے کرونا پھر سیلاب کی آفت کے ساتھ ہی سیاسی طوفان نے ملک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس میں سوشل میڈیا پر ریاست اور پاکستانی فوج کے خلاف ٹرینڈز اور پروپیگنڈہ مہم ملک دشمن عناصر اور مفاد پرست گروہوں کی جانب سے چلائی جاتی رہی ہے جس کی باشعور عوام اور ہر محب وطن شہری کی جانب سے مذمت کی جارہی ہے ریاست پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار فیئر کا وار چل چکا ہے جس میں اپنے پرائے کی کوئی تمیز باقی نہیں رہی۔ کون دوست، کون دشمن، ہر کوئی ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھ رہا ہے، عوام کو اپنی افواج سے دور کرنا، انہیں ہر چھوٹے بڑے واقعے اور مشکل و پریشانی کا ذمہ دارقرار دینا اس جنگ کا سب سے مہلک اور آخری وار ہے جسے انتہائی منظم انداز سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس وار سے پہلے ریاست کی جڑیں ہر حوالے سے خاص کر معیشت کو ٹارگٹ کر کے کمزور کی گئیں جس کو بہتر کرنے میں گزشتہ اور موجودہ حکومتیں اب تک نا کام رہیں ہیں۔اس سال کے آغاز سے ہی ملک میں افراتفری کا سماء ہے پہلے سائفر کی سازش اس سے اگلے لمحے ہی عدم اعتماد کی تحریک  کا کامیاب ہونا اور حکومت کا خاتمہ اور پھر ساتھ ہی اس دفاعی اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ مہم کا زور پکڑنا ایک مخصوص مائینڈ سیٹ کے تحت عوام کی نفسیات پر وار کیا جا رہا ہے اور اس کا اہم حدف نوجوان نسل ہے۔دوسری طرف ملک میں سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے آئے روز جلسے جلوسوں ہو رہے ہیں جس میں سیاسی حریف ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں  ساتھ ہی ہر روز کوئی نئی آڈیو یا وڈیو لیک آ جاتی ہے،  تھوڑے سچ کو زیادہ جھوٹ کا تڑکا لگانے کے بعد ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے پاکستانی عوام کے ذہن ایک نئے خلجان میں مبتلا ہیں، کہ کونسی آڈیو وڈیو لیک سچ ہے اور کون سی جھوٹ پر مبنی ہے ۔بس ایک طوفانِ بد تمیزی برپا ہے مکروہ اور جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لیا جا رہا ہے ،سچ اور جھوٹ کی کوئی تمیز باقی نہیں رہنے دی جا رہی اس طرح کی کی اخلاق سے گری سیاست کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ہے دوسری طرف پی ٹی آئی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پہلے سازش پھرامپورٹڈ حکومت کے بیانیے نے ہلچل مچا دی ساتھ ہی فوری الیکشن کا مطالبہ کرکے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا جو کہ ارشد شریف شہید کے انتہائی قابلِ مذمت ، قتلِ ناحق کی تدفین سے اگلے دن کیا اس لانگ مارچ کے دوران عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا جوکہ ایک افسوناک امر ہے اس واقعہ کے ساتھ ہی یکدم سے ایک بار پھر افواج پاکستان کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ معاملہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ یہ رجحان ہمارے معاشرے کیلئے خطرناک بھی ہے۔ عمران خان اور ان کی پارٹی کی جانب سے اداروں کے خلاف جو شرمناک مہم شروع کی گئی ہے اس کی سب سے زیادہ خوشی اسوقت بھارت کو ہے،جو کام بھارت کی خفیہ ایجنسی را نہ کر سکی وہ عمران خان نے مفت میں انجام دے دیا ہے پاک فوج نے بڑے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے ہیں اور ہر محاذ پر سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی دہشت گردوں کا قلعہ قمع کیا ملک کو امن کاگہوارہ بنایا بلوچستان سے را کی دہشت گردی کو بے نقاب کیا ہے اور سب سے بڑھ کر ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکلوایا ان کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔بنیادی طور پر یہ وہ جنگ ہے جس کا پاک فوج ایک عرصے سے ذکر کرتی آ رہی ہے کہ پاکستان کو ففتھ جنریشن وار کا سامنا ہے جس کا دشمن سامنے نہیں بلکہ پوشیدہ ہے ففتھ جنریشن وار کا جانے انجانے میں عمران خان بھی شکار ہو چکے ہیں اور دشمن کی زبان بول رہے ہیں اور پاک فوج اور اس سے منسلک شخصیات اورحاضر سروس افسروں کے نام لے کر اپنی تقاریر میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ کبھی اداروں کو نیوٹرل ہونے کا طعنہ دیتے ہیں ،جلسے جلوسوں میں دشنام طرازی کرتے ہیں اور انہیں  برے القابات سے نوازتے ہیں پھر عمران خان کے پارٹی ورکرز یہی کچھ سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں اور پاک فوج اور اس سے منسلک افراد کو اپنی مذموم مہم کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ففتھ جنریش وار یہی ہےکہ آپ گھربیٹھے لوگوں کے اذہان تبدیل کرنے کی کوشش کریں انہیں افواج پاکستان اور پاکستان کے اداروں سے متنفر کریں ملک کی چیدہ اور اہم شخصیات کیخلاف بے بنیاد مہم چلائیں، سوشل میڈیا پر بے ہودہ ٹرینڈ بنا کر اسے چلائیں، بغیر کسی ثبوت کے سوشل میڈیا پر الزامات لگائیں تو یہی کچھ آج کل پاکستان میں ہو رہا ہے تحریک انصاف اور اس سے منسلک کچھ لوگ پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کر رہے ہیں اور افواج پاکستان پر بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں جس کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ففتھ جنریش وار کی وجہ سے ہی آج عراق، شام، لیبیا اور لبنان جنگ کی بھٹی میں سلگ رہے ہیں کہ وہاں کی فوج اس قابل ہی نہیں رہی کہ وہ اپنے ملک کا دفاع کر سکےاور اس کا خمیازہ وہاں کے عوام کو مضبوط فوج نہ ہونے کی وجہ سے بھگتنا پڑاخدا ہمیں وہ دن نہ دکھائے عمران خان اور ان کے چاہنے والوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ اپنے چند دن کے اقتدار کیلئے ملک کو داؤ پر لگانے کی روش چھوڑ دیں کیوں کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت تو یہی چاہتا ہے کہ عوام اور فوج کو آمنے سامنے لا کر کھڑا کیا جائے۔ہمارے سیاست دانوں نے وطیرہ  بنا لیا ہے کہ یہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو فوج کے گن گاتے ہیں اور اگر اقتدار سے رخصت ہوتے ہیں تو انہیں تمام برائیاں اسٹیبلشمنٹ میں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں ۔اس ملک پر رحم کریں اقتدار کی حوس میں اس طرح کی سیاست سے گریز کریں کیوں کل کو برسر اقتدار میں آنے کے بعد انہی اداروں کے ساتھ مل کر ملک کی بھاگ دوڑ سنبھلنی ہے تو اس میں 22 کروڑ عوام کا کیا قصور ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں