41

زرعی ملک میں آٹا نایاب

کالم نگار: حرا احمد

ملک بھر میں اس وقت مہنگائی کا جن بے قابو ہے
ہوشربا مہنگائی،بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ آٹے کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے
موجودہ حکومت کا تو یہ موقف تھا کہ کپڑے بیچ کر آٹا سستا کریں گے غالبا” مہنگائی مکاؤ مارچ  بھی ان ہی کی جانب سے  شاھد اسی مقصد کے لئے کیا گیا تھا کبھی، مگر اقتدار میں آنے کے بعد سب وعدے اور دعوے ‘دعوے ہی رہ گئے  اب ملک کے ہر کونے سے ایک ہی آواز آرہی ہے کہ ‘غریب کو آٹا دو’۔
نہ کہ نئے انتخابات سے اور نہ ہی آڈیو ووڈیو لیکس
اس وقت عوام کا اصل مسئلہ ’’روٹی ‘‘ہے عوام کی زندگی کا محور صرف ’’روٹی ‘‘ہے۔
مگر ان اقتدار کے پجاریوں نے غریب کی دو وقت کی روٹی تو چھنی ہی تھی اب سانسیں بھی اکھڑنے پر نوبت آگئی ہے ۔اس بے حسی کی تمام تر  حدیں اس وقت پار ہوگئیں جب 10 کلو آٹا لینے کی خاطر ایک غریب نے اپنی جان ہار دی۔سندھ میر پور خاص میں 6 بچیوں کا باپ آٹے کے حصول کے لئے ہجوم کے ہاتھوں کچل دیا گیا تو کہیں آٹے لینے والوں پر ڈنڈے برسا دیئے گئے۔ عوام یہ سوچنے پہ مجبور ہیں کہ آخر سابق و موجودہ حکمران چاہتے کیا ہیں؟ کیا غریب کی جان نکال کر ہی یہ لوگ سکھ کا سانس لیں گے کہ ملک میں خانہ جنگی کروا کر؟ ملک بھر میں آٹے کے شدید بحران نے عوام کو دن میں تارے دیکھا دیئے ہیں اس وقت ملک میں دس کلو آٹے کی قیمت آسمان سے بات کر رہی ہے غریب شہری کیلئے بچوں کو پیٹ بھر کے کھانا کھلانا مشکل ہو گیا ہے جس سے روکھی سوکھی روٹی کھانے والوں کے دسترخوان ویران پڑ رہے ہیں۔
یہ صورتحال ایک صوبے کی نہیں رہی۔ موسم سرما کے دوران کئی علاقوں میں صورتحال یہ ہے کہ اگر گھر کی گیس کا پریشر کم ہو تو پھر تندور کا رُخ کرنا پڑتا ہے ادھر نانبائیوں نے تندوری روٹی کی قیمت 20 سے بڑھاکر 25 روپے کردی ہے۔ اس سے قبل غریب طبقہ دو وقت کی روٹی بمشکل کھا رہا تھا ، اب رفتہ رفتہ مڈل کلاس بھی مجموعی مہنگائی کے ہاتھوں ایسا ہی کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔ ادھر حکومت کے زیر انتظام غریب طبقے کےلئے قائم کردہ یوٹیلٹی اسٹوروں پر یکم جنوری کو اچانک چینی آٹے اور گھی کی قیمتیوں میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے حالانکہ ایک روز قبل ہی وزیر اعظم شہباز شریف بےنظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے مستحقین کےلئے آٹا، چاول، چینی، گھی اور دالوں کی قیمتیں کم کرتے ہوئے خصوصی پیکیج منظور کرچکے ہیں۔ کھلی مارکیٹ اور میگا اسٹوروں سے لیکر ہر چھوٹی بڑی سطح پر قیمتوں کی بےلگام صورتحال صوبائی حکومتوں کی سیاسی کھینچاتانی اور متعلقہ محکموں کی دانستہ یا غیر دانستہ عدم توجہی کو ظاہر کرتی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں بھرتی شدہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے ملک گیر عملے کی کارکردگی پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس وقت  اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 5100روپے فی چالیس کلو گرام تک پہنچ چکی ہے اور چکیوں پر آٹا 150 روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے۔ یوں اگر آپ چکی سے 20 کلو آٹے کا تھیلا خریدنے جائیں گے تو وہ آپ کو تین ہزار روپے میں ملے گا۔ سستا آٹا مہم  پوری کرنے میں ناکام ہوگئی، سستا آٹا مہم کے تحت حکومت کی طرف سے 20 کلو آٹا 1470 میں دیا جارہا ہے تاہم سرکاری آٹے کی مقدار کم ہونے کے باعث شہریوں کی دسترس سے باہر ہے۔
موجودہ صورتِ حال کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ  پاکستان دنیا کے بڑے زرعی ممالک میں سے 8ویں نمبر پر ہے، جو  اپنی مجموعی آمدنی یعنی جی ڈی پی کا تقریباً 24 فی صد زراعت سے حاصل کرتا ہے اور گندم پیدا کرنے والے دنیا کے دس بڑے ممالک میں شامل ہے، وہ ملک گندم کے بحران کی جانب کیوں بڑھ رہا ہے؟
یہ سوال زبان زد عام ہے کہ عوامی ضرورت سے کئی لاکھ ٹن گندم کے ذخائر ہونے کے باوجود گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اعتدال کیوں نہ آسکا ؟اس سوال کا جواب کسی معاشی منیجرکے پاس نہیں ہے۔ بحران کو کئی ہفتے ہونے کو آئے لیکن ذمہ داروں کا تعین تک نہیں کیا جاسکا نہ ہی عوام کے کروڑوں روپے لوٹنے والے بااثر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوسکی ہے۔
‏گندم سٹاک کرنے والوں سے گزارش ہے ابھی گندم فروخت نہ کریں جب تک لوگ خودکشیاں نہ کریں تاکہ معلوم تو ہم کس کے پیروکار ہیں جہاں یہ بتایا گیا تھا کہ  دریائے فرات کے کنارے بکری کا بچہ بھی بھوک مر گئ تو سوال حاکم وقت سے ہو گا۔۔۔!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں