26

عظیم روحانی شخصیت حضرت الحاج سید علی محمد شاہ ہاشمی چشتی مودوی

عظیم روحانی شخصیت حضرت الحاج سید علی محمد شاہ ہاشمی چشتی مودوی

تحریر و رپورٹ نور احمد راہی

کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
انسانی دنیا کی عظیم روحانی شخصیت شان بلوچستان پیر و مرشد عظیم دانشور مفکر ادیب شجادہ نشین حضرت خواجہ ابراہیم یکپاسی چشتی مودودی محکمہ آبپاشی کے سابق سیکریڑی بہ روز بدھ21 ستمبر 2022 کو 72 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے گزشتہ 3 ماہ سے علیل تھے ان کی وفات سے پورا بلوچستان سوگوار ہوگیا ہر طرف غم اور سوگ کے بادل چھا گئے لوگوں کے دلوں کو رنجیدہ کردیا کیونکہ سید السادات آغا صاحب کی دنیا سے ہجرت کی خبر کسی المیہ سے کم نہ تھی جب یہ خبر سند ھ پنجاب اور بلو چستان کے دور دراز علاقوں میں ان کے مریدین اور چاہنے والوں تک پہنچی تو وہ مستونگ کی جانب روانہ ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت محمدﷺ سے بے پناہ محبت کا اعزاز رکھنے والے سید السادات آغاصاحب کو جو شان عزت و قار مرتبہ عطا کیا وہ کم انسانوں میں کسی کو نصیب ہوتا ہے آپ اعلی پائیہ کی شخصیت تھے ان کا نسب آپ حسن حسینی سادات ہیںاور آپ اپنے جد اعلیٰ حضرت خواجہ سلطان مودود چشتیؒ سے بے حد حقیدت رکھتے تھے جوکہ سلسلہ چشتیہ کے عظیم الشان بزرگ بلوچستان میں آغا صاحب کے جد ِاعلیٰ حضرت خواجہ ابراھیم یکپاسی ہیں جوتبلیغ دین کے لئے بلوچستان تشریف لائے تھے جن کا مزار مستونگ میں ہے آپ کا شجرہ نسب حضرت محمدﷺسے37 پشت میں جاملتاہے آپ کی مادری زبان فارسی اور علاقائی زبان براہوئی تھی انہوں نے براہوی زبان میں متعدد کتابیں لکھیں آپ نے ابتدائی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ فارسی زبان کی تعلیم بھی حاصل کی اور بعد میں دنیاوی تقاضوں کے مطابق والد محترم نے انہیں سکول میں داخل کیا دنیاوی تعلیم سے ساتھ ساتھ دینی درس و تدریس کا عمل بھی جاری رہا اور اعلی تعلیم مکمل کرکے انھوں نے سرکاری ملازمت اختیار کی اور پھر بطور سیکریٹری محکمہ آبپاشی بلوچستان ملازمت سے ریٹائر ہوئے آغاصاحب علم سے گہرا لگاﺅ رکھتے تھے انہوں نے اپنی رہائش گاہ میں ایک عظیم الشان لائبریری قائم کی جس میں قدیم قرآن پاک کا نایاب نسخے ان کے خاندان کے اولیاءاللہ کی تحریر کردہ قرآن پاک بھی اس لائبریری میں موجود ہیں اس کے علاوہ دنیا کا سب سے چھوٹا یعنی حجم کے حساب سے سب سے چھوٹا قرآن پاک کا نسخہ بھی محفوظ ہے بعض ایسے کلام پاک ہیں جو خوبصورت نقش ونگاری کے ساتھ ساتھ سونے اور چاندی کے پانی سے تحریر کردہ ہے اس عظیم الشان روحانی لائبریری میں قرآن پاک کے نایاب نسخے موجود ہیں اور بہت سی قدیم دینی کتابیں اور اس کے علاوہ تقریبا چار ہزار سے زائد مختلف موضوعات کی کتابیں موجود ہیں جن سے آپ خود بھی فیض حاصل کرتے تھے ۔
آپ اعلی پائیہ کے مصنف ادیب شاعر مفکر اور روحانی شخصیت تھے انہوں نے فارسی اردو اور براہوی زبان میں کئی کتابیں لکھیں۔ براہوی زبان میں لکھی گئیں ان کی تصانیف خوشبونا سفر۔نعت نا سفر۔عشق نا سفراور منقبت پر مبنی کتاب نے زبردست پذیرائی حاصل کی ان کی پہلے براہوی کتاب خوشبونا سفر کو اکاڈمی ادبیات پاکستان نے خصوصی اعزاز اور انعام سے نوازا جو بلوچستان میں کسی بھی مصنف کے لئے یہ پہلا اعزاز ہے ۔اپنے ایک انٹرویو میں آپ نے اس امر کا اقرار کیا کہ فارسی اور اردو میں کتابیں لکھنے کے بعد ان کے انتہائی قریبی مرید دوست

معروف شاعر اور نثر نگار مصنف شاہ بیگ شیدا نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں براہوئی زبان میں بھی کتابیں لکھنی چاہئے شاہ بیگ شیدا آپ سے اتنے قریب تھے کہ پیر و مرشد کے انتقال کے بعد ان کی تدفین کے موقع پر شاہ بیگ شیداءبے حدغمگین ہوگئے۔
آپ نے تصنیف کار ی کا سلسلہ 1990 سے شروع کیا اور متعدد کتابیں لکھیں وہ اپنا زیادہ تر وقت اپنی لائبریری میں اپنی کتابوں کے ساتھ گزارتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ خود بھی عالم با عمل تھے آپ سحر انگیز روحانی غریب دوست مزاج و شخصیت کے مالک تھے اکثر شام کے اوقات میں اپنے عزیزوں عقیدت مندوں اور مریدین کے ساتھ بیٹھ کر دینی درس و تدریس کا عمل کرتے علاوہ ازیں فیضان یکپاسی اور شمس الدین یکپاسی کے مصنف اور مستونگ میں سادات یکپاسی کے مشن کو فروغ دینے میں بڑا کردار ادا کیا ایک طرف تو انہوں نے سلسلہ چشتیہ میں نئی جان ڈال دی دوسری طرف کوئٹہ ،قلات ،دھاڈر ،منگوچر میں پھیلے ہوئے سادات کو یکجا کیا جو کہ قابل تحسین ہے۔
آغاصاحب 12 ستمبر1950 کو گیاوان قلات میں پیدا ہوئے پانچ سال کی عمر میں ناظرہ قرآن مکمل کیا ساڑھے سات سال کی عمر میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ فارسی زبان کی تعلیم بھی حاصل کی مارچ1958 میں انہیں سکول میں داخل کیا گیا انہوں نے 1967 میں لاہور بورڈ سے اول درجے میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اپنے اسکول اور ڈویژن میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی 1969 میں ڈگری کالج مستونگ سے ایف ایس سی پری انجینئرنگ کا امتحان پاس کرکے این ای ڈی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور 1974 میں انجینئرنگ میں گریجویشن کیا اور سرکاری ملازمت اختیار کرلی 1975 میں پبلک سروس کمیشن سے ان کی سلیکشن ہوئی اور وہ محکمہ آبپاشی بلوچستان میں اسسٹنٹ انجینئر تعینات ہوئے مئی 1982 میں ان کی ترقی ہوئی اور وہ ایگزیکٹو انجینئر کے عہدے پر فائز ہوگئے فروری1995 میں بطور پرجیکٹ ڈائریکٹر اور سپرنٹنڈنگ انجینئر تعیناتی ہوئی اس کے بعد ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے سیکرٹری آبپاشی کے عہدے تک پہنچے اور عرصہ دراز تک بطور سیکرٹری آبپاشی کے فرائض منصبی ایمانداری کے ساتھ سر انجام دئیے اور انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں اور بہترین کارکردگی کی بنیاد پر محکمہ آبپاشی کو جدید خطوط پر استوار کیا اور صوبہ بلوچستان میں پانی کی فراہمی کے حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے جس سے آج بھی بلوچستان کے عوام مستفید ہورہے ہیںآغاصاحب کی شادی مئی 1985 میں اپنے ہی خاندان میں ہوئی ان کے دوبیٹے سید عامر علی شاہ ہاشمی اور سید عمیر علی شاہ ہاشمی اور دوصاحبزادیاں ہیں مرحوم سید جہان شاہ ہاشمی ،سید عبد اللہ شاہ ہاشمی،سید حسن شاہ ہاشمی، سید عابد شاہ ہاشمی،سید ذوالفقار علی شاہ ہاشمی آپ کے بھائی ہیں آپ نے پہلی بار حج کی سعادت فرور2000 میں حاصل کی اور پھر باقاعدگی کے ساتھ ہر سال حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے جاتے وہ دین کی سربلندی اور ترویج کے لیے کوشاں تھے آپ نے حجرت خواجہ ابراہیم یکپاسی کے مشن کو فروغ دینے کے لیے یکپاسی ٹرسٹ کے نام سے قائم کیا اس ٹرسٹ کے زریعے سینکڑوں دینی کتابوں کی اشاعت کو یقینی بنایا جس سے ہزاروں لوگ استفادہ حاصل کر رہے ہیں شمس العارفین سید خواجہ ابراھیم کی یاد میں سالانہ یکپاسی کانفرنس بھی ایک بڑی کاوش تھی
جو شاہ صاحب کرواتے تھے جس میں مریدین مشائخ علمائے کرام اسکالرز شرکت کرتے تھے حضرت خواجہ ابراہیم یکپاسی کا پیر و مرشد آغاصاحب کی پیدائش قلات کی تھی اس لئے انہیں نے قلات کے لوگوں سے خصوصی محبت تھی رقم المعروف یعنی میں نور احمد راہی

آغاصاحب کے خاص مریدین میں شامل ہوں ان کا دست شفقت ہمیشہ مجھ پر رہتا میرے زمانہ طالب علمی میں آغاصاحب جمعرات کو قلات اپنے بھائی سید آغا جہاں شاہ ہاشمی مرحوم کے گھر تشریف لاتے تو ہمیں ان کی صحبت حاصل ہوتی لوگوں کا ایک جم غفیر ان کی خدمت میں حاضر ہوتا۔آپ کے بھائی سید آغا شاہ ہاشمی بھی ایک دیندار ہمدرد شفیق انسان تھے ہمسائیوں کے دکھ در د میں ہمیشہ ساتھ دیتے تھے ان کے گھر کا دروازہ ہمیشہ غریب مسکین اور ضرورت مندوں کے لیے کھلے تھے میں رقم المعروف شعبہ صحافت سے منسلک ہوا تو آپ کی مزید قربت حاصل ہوئی انہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں میری بھر پور رہنمائی بھی کی وہ میرے لئے ایک عظیم شفیق استاد کا درجہ بھی رکھتے تھے ان کی وفات کی خبر نے مجھے ذہنی اور جسمانی طور پر نڈھال کردیا آغاصاحب کی تدفین ان کی لائبریری کے پاس کیا گیا ان کے نماز جنازہ میں علماءاکرام اعلی سرکاری آفسران قبائلی رہنما دینی سماجی شخصیات سمیت ہر مکتبہ فکر کے لوگ شریک ہوئے اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ان کے بعض مریدین غم نے نڈھال تھے آپ کے روح کے ایصال ثواب کے لئے ان کی رہائش گاہ محلہ سادات مستونگ میں فاتحہ خوانی اور تعزیت کا سلسلہ جاری ہے پاکستان بھرسے اعلی شخصیات ،مریدین،تعزیت کے لئے مستونگ آرہے ہیں ان کے فرزند سید عامر شاہ ہاشمی اور بھائی سید عبد اللہ شاہ ہاشمی سید حسن شاہ ہاشمی سید ذوالفقار شاہ ہاشمی سے تعزیت کا اظہار اور فاتحہ خوانی کر رہے ہیں بلاشبہ آغا صاحب اعلی پائیہ کی شخصیت تھے ان کے وفات سے جو نقصان ہواہے وہ قابل بیان نہیں بلوچستان ایک عظیم روحانی شخصیت سے محروم ہوا پروردگار آغاصاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرمائے آمین ثم آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں