38

یوم حق خودارادیت کشمیر

کالم نگار : حرا احمد

ہر سال 5 جنوری کو کشمیری عوام یوم حق خود ارادیت کے طور پرمناتے ہیں۔ آج کشمیریوں سے اقوام متحدہ کے حق خودارایت کے وعدے کو 74 سال بیت گئے ہیں اور کشمیری عوام اب بھی اس وعدے کو عملی شکل دینے کے منتظر ہیں۔اس دن کو منانے کا مقصد  ہی اقوام متحدہ کو یہ یاد دلانا ہے کہ اس نے 5 جنوری 1949ء کو اپنی قراردادوں میں کشمیری عوام کو رائے شماری کا موقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بارہا اپنی قراردادوں میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا اعادہ کیا، مسئلہ کشمیر کا واحد، دیرپا اور مستقل حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے ہی ممکن ہے۔ مگر اس سب کے باوجود بنیادی انسانی حقوق کے نام نہاد عالمی چمپئن مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے اور مظلوم عوام پر بھارتیوں کے بہیمانہ تشدد بربریت پر اپنے ضمیر کو سوجانے کی تھپکی دیتے ہوئے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
جس میں بہت سی بیرونی طاقتیں بھی شامل ہیں جس کا بھر پور فائدہ بھارت نےاس طرح سے اٹھایا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈال دیا اور مسئلہ کشمیر کے حل میں ہمیشہ رکاوٹ ڈالی

کشمیر کے عوام کا بھی یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ انہیں پاکستان سے الحاق کرنا ہے۔یہی وہ بات ہے جس سے بھارتی حکمرانوں کی رگ وحشت پھڑک اٹھتی ہے اور وہ سارا غصہ کشمیر کے عوام پر نکالتے ہیں۔ اور مقبوضہ علاقہ میں  بھارت نے ریاستی دہشت گردی کا  جو بازار گرم کررکھا ہے اسکو اور  بڑھاوا دیتے ہیں اور اس ہی وجہ سے وہ  تحریک کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ قتل عام، ظلم وجبر،پیلٹ گنز کے بے دریغ استعمال سے ہزاروں نوجوانوں اور بچوں کو بینائی اور بصارت سے محروم کر دیا گیا ہےاور پاکستان زندہ باد کہنے کی پاداش میں تہہ وتیغ کیا جا رہا ہے اور یہ سب کشمیری پاکستان کی سرزمین سے جڑنے کےلئے 70 سال سے برداشت کر رہے ہیں۔بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ ساتھ وہاں بسنے والی تمام اقلیتوں کو بھی ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔عالمی برادری بھی اس معاملے میں زیادہ پر جوش نظر نہیں آتی،سابق امریکی صدر ٹرمپ نے ثالثی  کا نعرہ تو لگایا تھالیکن نریندر مودی اسے کسی خاطر میں نہیں لائے اور پھر ٹرمپ نے بھی خاموشی اختیار کر لی یا شائد مصلحت کی چادر اوڑھ لی، صدر جو بائیڈن کو بھی اقتدار سنبھالے سال سے زیادہ کا عرصہ گزار چکا ہے لیکن معاملات جوں کے توں ہیں۔ایسے میں اقوام متحدہ پر لازم ہے کہ وہ کشمیر میں بھارت کی جارحانہ کارروائیوں کا راستہ روکے، بھارت کو مجبور کر ے کہ وہ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمدیقینی بنائے۔عالمی میڈیا بھی اس بات کا نوٹس لے،سوشل میڈیا کی طاقت کو استعمال کیا جائے،قراردادیں تو کاغذ کا ٹکڑا ہوتی ہیں اور ان کو قوت انسانی اور عزم زندہ کرتی ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطے میں امن و امان قائم کرنے کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ دوسری طرف پاکستان میں ہم اقتدرا کی خاطر دست و گریباں ہیں۔ ملک میں طوفان بدتمیزی کی فضا ہےایسے میں ہمارے ان سیاسی قائدین کے رویوں کا عام پاکستانیوں پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔وہ کسی سے چھپا نہیں ہے۔سب سے بڑھ کر کشمیری جو پاکستان کو اپنی منزل مراد سمجھ کر جانیں نچھاور کر رہے ہیں۔ کشمیری اور فلسطینی عرصہ سے آزادی کےلئے تڑپ رہے ہیں۔ لیکن اقوام متحدہ اور بڑے ممالک ٹس سے مس نہیں ہورہے۔ وہ اس لیے کہ ان پر دباو ڈالنے والا کوئی نہیں اور کشمیر میں سرعام خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اس سب کے لیے پاکستان کو اور دیگر ممالک کو اب اس مسئلے کے حل کے لیے پائیدار اور مستقل بنیادوں پر سنجیدہ طور پر اقدامات کی ضرورت ہے اسی اعتبار سے کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم حق خود ارادیت منایا گیا ہے اس کا مقصد ہی کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی ہے کہ پاکستانی ان کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں وہ صرف کشمیر کو ” کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے”کہتے نہیں بلکہ سمجھتے بھی ہیں ۔۔۔!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں