25

لانگ مارچ یا بڑھتا انتشار

پس آئینہ
حرا احمد
لانگ مارچ یا بڑھتا انتشار
ملک میں اس وقت سیاسی بھونچال آیا ہوا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے دوسری طرف عمران خان لاہور سے اسلام آباد بذریعہ جی ٹی روڈ اپنے لانگ مارچ پر روانہ ہوچکے تھے اس ”آزادی مارچ“ کا آغاز ارشد شریف کے انتہائی قابلِ مذمت ، قتلِ ناحق اور اس کی تدفین کے اگلے روز اور ڈائریکٹر جنرلز آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر کی عمران خان کے امریکی سازش اور مقامی سہولت کاروں کے بیانیے کے خلاف منہ توڑ پریس کانفرنس کے دو روز بعد ہوا
عمران خان کے لانگ مارچ سے عین ایک دن پہلے یہ پریس کانفرنس بڑی اہمیت کی حامل تھی مسلم لیگی رہنما اس پریس کانفرنس کو تحریک  انصاف کے تابوت میں آخری کیل قرار دیا
اس لانگ مارچ کی حتمی تاریخ دینے کے حوالے سے عمران خان کا فی یو ٹرن لیتے رہے ہیں جس کی وجہ مبینہ مذاکرات تھے اور ان کی کوشش تھی کہ ظاہری دو مطالبات….نئے آرمی چیف کی مشاورتی تعیناتی اور مذاکرات کے نتیجے میں قبل ازوقت نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان سامنے آجائے لیکن حکومت واضح طور پر یہ کہہ چکی تھی کہ عمران خان کی ڈکٹیشن کی بنیاد پر نئے انتخابات کا اعلان نہیں کیا جائے گا اور جب سابق وزیر اعطم نواز شریف نے ٹوئیٹ کیا کہ عمران خان کو کسی صورت فیس سیونگ نہیں دی جائے گی اور وزیر اعظم شہباز شریف ان سے کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔
ان مذاکرات کی ناکامی کا اعتراف عمران خان نے خود بھی کیا اور کہا کہ حکومت کسی بھی صورت میں انتخابات میں دلچسپی نہیں رکھتی اور اب فیصلہ لانگ مارچ کی بنیاد پر ہوگا
خیر لاہور سے آغاز ہونے والے اس لانگ مارچ میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس سے پہلے جہاں جہاں سے یہ لانگ مارچ گزرا عوام نے بھرپور شرکت کی گجرانوالہ جیسے شہر میں کہ جو مسلم لیگ نون کا گڑھ سمجھا جاتا ہے عمران خان کے لانگ مارچ کا بھرپور استقبال کیا۔ عمران خان نے یہ دعوی کیا تھا کہ اس بار لانگ مارچ لے کر وہ اسلام آباد جائیں گے وہ انسانوں کا سمندر ہوگا اور اس کے نتیجے میں ملک میں انقلاب آ جائے گا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس لانگ مارچ کا نام حقیقی آزادی مارچ رکھا
شاہدرہ سے ہو کر کامونکی ہی پہنچا پہلے مزکرات پھر مارشل لاء لگنے کا سوال کردیا گیا جس کے بعد مختلف خبریں زیر گرداش آگئی لیکن اس کے ساتھ ہی کپتان کی جانب سے اس مذید طویل اور اگلے دس مہینے تک تحریک چلانے کا عندیہ دے کر لانگ مارچ کے غبارے سے رہی سہی ہوا بھی نکال دی اور سیاسی و صحافتی حلقوں میں عام باتیں ہونے لگی ہیں کہ عمران خان کے لانگ مارچ کا رنگ پھیکا پڑگیا
دوسری جانب حکومت لانگ مارچ کو آغاز سے ہی ناکام قرار دے رہی ہے کہ اس لانگ مارچ کی کوئی حیثیت ہی نہیں’
کپتان کا لانگ مارچ بھی اپنی طرز کا واحد لانگ مارچ بن گیا تھاجو کچھوے کی رفتار سے چل رہا تھا یوں لگ رہا تھا جیسے اسلام آباد پہنچتے پہنچتے اسے دو ہفتے لگ جائیں گے۔ یہ سست رفتاری تحریک انصاف کی حکمت عملی کا حصہ تھی۔اس کے ذریعے وہ حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے یا کسی ایسی کال کا انتظار کیا جارہا ہے جو تحریک انصاف کو کامیابی کی نوید سنا دے
تاہم  اگلے جمعے تک لانگ مارچ نے جی ٹی روڈ پر رواں دواں ہونا تھا کہ اچانک پنجاب کے شہر وزیر آباد اللہ والا چوک میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران عمران خاں کے کنٹینر پر فائرنگ ہوئی ہے، جس میں عمران خاں سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنما بھی زخمی ہوئے  جب کہ ایک کارکن جاں بحق ہوگیااس سے پہلے ایک صحافی خاتون کنٹینر تلے آکر کچلی گئیں اور خان صاحب کو مارچ ختم کرنا پڑا ابتداء سے ہی اس مارچ کو خونی مارچ قرار دیاجارہا تھا
مارچ سے قبل پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واوڈا نے کہہ دیا ہے کہ اس لانگ مارچ میں لاشیں گریں گی وہ کسی حد تک سچ ثابت ہوا ۔
حالانکہ جس طرح ہمارے ملکی حالات ہیں کوئی بھی چنگاری شعلہ بن سکتی تھی اور  پھر سابق وزیر اعظم عمران خاں نے جس طرح ایک سپر پاور کو للکارا ہے ،اس لحاظ سے لانگ مارچ کو اس قدر طویل نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ شیڈول کے مطابق لانگ مارچ کو منزل کی جانب پہنچانا چاہیے تھا۔ لانگ مارچ کے آغاز سے ہی خطرات موجود تھے۔  لانگ مارچ کے شروع ہونے سے قبل آئی جی پنجاب پولیس نے تمام اضلاع میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لئے سکیورٹی فول پروف انتظامات یقینی بنانے کا کہا تھا‘ لانگ مارچ کے روٹس پر سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن کرنے کا بھی حکم دیا تھا لیکن اس کے باوجود مسلح شخص کا سرعام اسلحہ لے کر کنٹینر کے قریب پہنچ کر فائرنگ کرنا سکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے۔
آئین پاکستان پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے ،یہ آئینی حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا،
پرامن احتجاج ہر شہری کا ایسابنیادی آئینی حق ہے،جو کسی سے اِس لئے چھینا نہیں جا سکتاتو پھر حکومت پر امن احتجاج کو پر تشدد کیوں بناتی ہے ۔جبکہ ریاست اور ریاستی اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ امن و امان قائم رکھیں۔  مگر مارچ کو سیکورٹی فراہم کرنے کی بجائے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے سر عام دھمکیاں دینا شروع کر دیں
وزیر داخلہ کی طرف سے ہر روز لانگ مارچ کو طاقت کے زور پر روکنا چیئرمین عمران خاں کو گرفتار کر کے مچھ جیل کے مرچی وارڈ میں رکھنے کا اعلان بھی لانگ مارچ میں شریک لوگوں کو اشتعال دلا رہا تھا، سیاسی قائدین جس انداز میں عدم برداشت کو ہوا دے رہے ہیں اس کے نتائج نہایت تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
مذہبی شدت پسندی ہو یا پھر سیاسی انتہا پسندی۔ پاکستان نے انتہا پسندی کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے اب دوبارہ پاکستان اس سب کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ طویل جنگ کے بعد ملک میں امن بحال ہوا ہے، فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلے ہیں، ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے کیا اب ہم ایک مرتبہ پھر خود اپنے ہاتھوں سے اچھے بھلے ملک کو آگ میں دھکیل رہے ہیں۔
مگر یہاں سب سے اہم بات اس حملہ آور کا ویڈیو بیان سامنے آنے کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے ذمہ داران جس انداز میں بیان بازی کر رہے ہیں
یہ اداروں کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہی ہے
یہ بیانات آگ لگانے کے مترادف ہیں
کیا وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ  نتیجے میں نقصان کس کا ہو گا اور اگر اس مشق کے بعد بھی ان کی خواہشات پوری نہیں ہوتیں تو آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو گا
اب حالات جس طرف جا رہے ہیں اس کے بعد پی ٹی آئی کو اپنے طرز سیاست پر نظر ثانی ضرور کرنا ہو گی۔ گولیاں، خون، جنازےاور بڑھتا انتشار  ایسی سیاست کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے اور  حکومت بھی دل بڑا کرے عدم برداشت اور جبر حل نہیں لہٰذا فریقین افہام وتفہیم سے مسائل کا حل نکالنا چاہیے ،آج کے واقعہ کے بعد حکمران طبقے کو فی الفور نئے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر دینا چاہیے تاکہ معاملات حد سے زیادہ نہ بگڑیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں