23

صادق امین سے نااہلی تک سفر

صادق امین سے نااہلی تک سفر
پس آئینہ
حرا احمد
hiraahmed.colums@gmail.com

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نااہل ہو گئے ہیں۔صادق امین سے کرپٹ اور نااہلی کا سفر طے کرنے میں انہیں کچھ زیادہ وقت نہیں لگا۔ وہ کرپٹ اقدام کے بھی مرتکب ہوئے۔
انہوں نے سچ چھپایا وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لئے آئین میں درج شقوں کے مطابق نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔
عمران خان کو الیکشن کمیشن کے چار رکنی بنچ نے متفقہ طور پر  عوامی نمائندگی کے لئے نااہل قرار دے کر ان کی قومی اسمبلی کی نشست خالی قرار دے دی ہے
دو چار برس میں ہی صادق و امین سے جھوٹے، کرپٹ اور نااہل قرار پائے ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ سیاسی میدان میں عمران خان کوئی آسان حریف نہیں پھر یہ ہی آپشن رہ جاتا ہے کہ کوئی تکنیکی حربہ استعمال کر کے عمران خان کو سیاسی میدان سے ناک آؤٹ کردیا جائے ،ایسا حربہ کیا ہوسکتا تھا ہم نے دیکھ لیا۔۔۔
یہی پاکستان کی سیاست کا اصل روپ ہے۔ جو کل تک نااہل تھے آج ان کے لیے واپسی کے راستے کھل رہے ہیں اور جو کل تک سب سے بہتر تھے آج ان حیثیت صرف بے بس حکمران کی ہے۔
عمران خان پوری قوت کے ساتھ حکومت میں آئے تھے انہیں ہر طرف سے تعاون حاصل تھا اور اب یہ عمران خان کے بیانیے کو یہ پہلا اور سنجیدہ دھچکا ہے، کیونکہ جب سے عمران خان سیاست کر رہے ہیں انہیں مقتدر حلقوں کی طرف سے لاڈلے کا سٹیٹس دیا جاتا رہا اور ایک عرصے سے ریاست سے ٹکرانے اور اسے للکارنے کی حکمت عملی پر کار بند تھے ‘لیکن انہیں کچھ نہیں کہا جا رہا تھا وہ اپریل میں جب تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے نکالے گئے تو انہوں نے لانگ مارچ کی دھمکی دی،25 مئی کو اس پر عمل بھی کر کے دکھایا لیکن انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد انہوں نے لانگ مارچ کے لئے اپنے فالورز کو تیار کرنے کی پالیسی اور حکمت عملی اپنائی، حکومت پر دباؤ بڑھانا شروع کیا لیکن وہ کوئی حتمی تاریخ دینے سے گریزاں رہے ان کی احتجاجی اور مزاحمتی سیاست الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد حتمی مراحل میں داخل ہوتی نظر آنے لگی ہے
ان کا ایمانداری اور نیک نامی اور سازش کا بیانیہ مدہم پر چکا ہے ان کے کرپٹ اور جھوٹے ہونے پر الیکشن کمیشن نے مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔  انہیں ایک آئینی ادارے کی طرف سے ایسا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے ویسے تو پہلے بھی ان کے خلاف کرپشن کے مقدمات درج ہیں لیکن کسی آئینی ادارے کی طرف سے انہیں کرپٹ قرار دینے کا فیصلہ پہلا قدم ہے
عمران خان کے پاس ایماندار رہنے کا آپشن موجود تھا لیکن انہوں نے نااہلی کو ترجیح دی
اگر آج وہ اس جگہ پہنچے ہیں تو اس کے سب سے بڑے ذمہ دار وہ خود ہیں۔
عمران خان پر الزام تھا کہ انہوں نے توشہ خانہ میں موجود تحائف کے معاملے میں بدعنوانی کی اور دانستہ طور پر تحائف کی تفصیلات گوشواروں کی تفصیلات میں جمع نہیں کرائیں۔اور ان کے پیش کردہ بینک ریکارڈ تحائف کی قیمت سے مطابقت نہیں رکھتا
جس پر الیکشن کمیشن نے شق 63 ون پی کے تحت فیصلہ سنایا
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خاں نے الیکشن کمشن کو جو تحریری جواب جمع کرایا اس میں انہوں نے بتایا کہ  2018ء سے  2021ء کے دوران انہیں اور ان کی اہلیہ کو 58تحائف ملے۔ زیادہ تر تحائف گلدان‘ میز پوش‘ آرائشی سامان‘ قالین‘ بٹوے‘ پرفیوم‘ تسبیح ‘ خطاطی کے نمونوں فریم اور قلمدان پر مشتمل تھے۔ تحائف میں گھڑی ‘ قلم‘ کف لنکس‘ انگوٹھی بریسلیٹ اور لاکٹ بھی شامل تھے۔تحریری جواب میں بتایا گیا کہ ان میں سے صرف 14اشیاء ایسی تھیں جن کی مالیت 30ہزار روپے سے زائد تھی۔ان اشیاء کو عمران خان کے بقول انہوں نے طے شدہ طریقہ کار کے تحت رقم ادا کر کے خرید لیا،یوں کرپشن کا الزام غلط قرار دیا جائے۔عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم چار تحائف فروخت کئے تھے۔جن کے لئے دو کروڑ 16لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے۔ قانون کے تحت اگر کوئی سربراہِ حکومت چاہے تو وہ ملنے والے کسی تحفے کو مخصوص رقم ادا کر کے اپنے پاس رکھ سکتا ہے
سربراہان حکومت اور وزرا کو ملنے والے تحائف اور توشہ خانہ میں ان کے اندراج کا طریقہ کار متعین ہے
پاکستان کے 75 سالہ سیاسی منظر نامے میں کون  سا خاندان کتنا ایماندار اور کرپٹ رہا ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے
اب عمران خان کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد توشہ خانہ سے قیمتی کاروں سے متعلق خلاف ضابطہ خریداری کا وہ ریفرنس بھی اہم ہو گیا ہے جس میں ملک کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کو ملی بھگت، گٹھ جوڑ اور پارٹنرشپ کے الزامات عائد کرتے ہوئے ایک ریفرنس میں ملزم نامزد کیا گیا ہے۔نیب ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم تھے تو انھوں نے قوانین میں نرمی پیدا کر کے سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو توشہ خانہ سے گاڑیاں خریدنے کی اجازت دی۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے حکومتی توشہ خانہ سے تحفے میں ملنے والی گاڑیوں کی غیر قانونی طریقے سے خریداری کے مقدمے میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔نیب ریفرنس کے مطابق پیپلز پارٹی کے قائدآصف زرداری نے بطور صدر متحدہ عرب امارات سے تحفے میں ملنے والی آرمڈ کار بی ایم ڈبلیو ، لیکس جیپ اور لیبیا سے تحفے ملنے والی بی ایم ڈبلیو توشہ خانہ سے خریدی ہیں۔نیب نے دعویٰ کیا ہے کہ آصف زرداری نے ان قیمتی گاڑیوں کی قیمت منی لانڈرنگ والے جعلی بینک اکاؤنٹس سے ادا کی ہے۔
یہ گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کر رہے ہیں، انھوں نے عوامی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔ الیکشن کمشن کا فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب عمران خان پی ڈی ایم حکومت کے خلاف لانگ مارچ کی تیاری کر رہے ہیں۔ یقینی طور پر پہلے سے چارج شدہ سیاسی ماحول اس فیصلے کے بعد شدت پکڑ سکتا ہے۔
تحریک انصاف کے پاس الیکشن کمشن کے فیصلے کے بعد سیاسی اور قانونی انداز میں ردعمل دینے گنجائش موجود ہے۔فیصلے کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے بھرپور رد عمل آیا ہے
اب عمران خان کے پاس شاید کوئی آپشن نہیں بچا ہے کہ وہ سڑکوں پر رہیں۔دھرنا دھرنا کھیلیں اور بس۔۔ بقول شیخ رشید تخت یا تختہ، ابھی نہیں تو کبھی نہیں کی حد تک پہنچ چکے ہیں اب اس پالیسی سے انکار اور لانگ مارچ حکمت عملی سے پیچھے ہٹنا عمران خان کی سیاسی موت ہے
لانگ مارچ یا دھرنا ہو گا یا نہیں؟ عمران خان لانگ مارچ کی کال دیں گے یا نہیں؟ کیا حکومت اس لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے تیارہے یا ویسے ہی تیاریاں لگ رہی ہیں؟
یہ باتیں ایک عرصے سے موضوع سخن بنی ہوئی ہیں ویسے عمران خان لانگ مارچ کال اسی مہینے تک دینے کا حتمی اعلان کر چکے ہیں مہینہ ختم ہونے میں دس دن باقی ہیں۔اطلاعات ہیں کہ عمران خان لانگ مارچ کی  تاریخ کا اعلان جمعہ کو کرے گے
یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان کو تکنیکی ناک آؤٹ تو کر دیا لیکن عمران خان کی مقبولیت کا کیا کریں گے عمران خان میں لاکھ خامیاں سہی مگر فی الوقت وہ عوام کے دلوں پر راج کر رہا ہے اس تمام تر صورتحال میں خان کو نا اہل قرار دیے  جانے کے بعد کیا نئے انتخابات کے مطالبے کو دبایا جاسکے گا ؟ اورکیا ملک میں سیاسی استحکام آجائے گا؟
یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔۔۔اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں