30

ووٹ اور ردی کی ٹوکری

اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آیا تو ووٹ کی طاقت سے آیا ، حق راۓ دہی سے آیا آزادیِ اظہار رائے سے عمل میں آیا ، ووٹ کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ آج ووٹ کی طاقت اندھیرے میں ڈوب چکی ہے ، جمہوریت کی آڑ میں آج کیا کھلواڑ جاری ہے میرے اور آپ سب کے سامنے ہے ، سیاستدان سیاست کی آڑ میں کیا کیا کھیل کھیلتے ہیں قوم بخوبی جانتی ہے
لیکن ایک مشہور مثال ہے جیسی عوام ویسے حکمران ، ووٹ کی طاقت کو ہم نے خود کھو دیا ہے ، کیوں آج ہم نے خاموشی اختیار کر کے ووٹ کی جادوئی طاقت کھو دی ہے ، اب ہم ان ترقی یافتہ ممالک کو بس دیکھ سکتے ہیں جہاں ووٹ کی طاقت سے کیا کیا تبدیلی آتی ہے ، آج ہم ووٹ کو چند پیسوں یا ذاتی مفاد کی خاطر بیچ دیتے ہیں ، امیدوار جب پانچ سال بعد آپکے دروازے پر آکر ووٹ مانگتا ہے تو ہم اس سے پچھلے پانچ سال کا سوال پوچھے بغیر ان کے قدموں میں لیٹ جاتے ہیں اور اپنے ووٹ کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں، اس ووٹ کی وُقت صرف ایک کاغذ کے ٹکرے کے سوا کچھ نہیں ہوتی جسکو ہم اس امیدوار کی پچھلی پانچ سالہ کارکردگی کے اوپر سیاہ دھبا لگا کر ڈال دیتے ہیں ، اور ہم اگلے پانچ سال بھی صرف ٹی وی پر بڑھتی قیمتوں اور ملک کا مذاق بنتے دیکھتے ہیں کر کچھ نہیں سکتے ، ہماری مثال اس بندر جیسی ہوتی ہے جو صرف مداری کی مدار پر ناچ سکتا ہے بول نہیں سکتا تکرار نہیں کر سکتا ، اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں ، یہ امید وار جن سے ہم اپنی گلی یا محلے کی نالیاں تو بنوا لیتے ہیں لیکن جب سیلاب آتا ہے تو یہی لوگ اُن نالوں میں اپنے مال مویشی سمیت بہہ جاتے ہیں جنہیں بہتر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، ڈیمز نہیں ہمیں اپنی گلی کی نالی بنوانی ہے ، تو جب سیلاب آتے ہیں تو پھر انہی نالیوں میں ہم جیسے نا لائقوں کو ڈوب مرنا چاہیے ، آج اپنی حالت کے ہم خود ذمہ دار ہیں ، ووٹ کی طاقت کو ہم بھول چکے ہیں ، ووٹ کی طاقت تو وہ ہوتی ہے کہ آپ ایسا امیدوار چنیں جو ایوان کی در و دیوار کو چیخ چیخ کر عوامی مشکلات سے روشناس کرا دے ، جب وہ جا کر بتاۓ کہ میرے علاقے کے لوگ پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی پر مر رہے ہیں ، ہسپتالوں میں علاج کی سہولتیں نا ہونے کے برابر ہیں ، سڑکیں ٹوٹی ہیں ، نہریں خالی ہیں ، زمین بنجر ہو رہے ہی ، لیکن جہاں امیدوار ووٹ کی طاقت سے نہیں نوٹ کی طاقت سے آئیں تو وہاں زمین تو کیا ضمیر بھی بنجر ہو جاتے ہیں ، جب ضمیر بنجر ہو جائیں تو ملک کی ترقی ایک خواب بن کر ہی رہ جاتی ہے ، پھر اس ملک کے نوجوان باہر کے ممالک میں نوکریاں تلاش کرتے ہیں اور والدین اپنے بچوں کے ساتھ کو ترس جاتے ہیں جس عمر میں انہیں ساتھ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، جب ووٹ کی طاقت نا ہو تو پھر تعلیم کا معیار بھی ذہنی غلام پیدا کرنے جیسا ہوتا ہے جہاں سرکاری سکولوں میں بچوں کو کبھی انڈے لانے، کبھی برف لانے اور کبھی اساتذہ اپنے ذاتی کاموں کے لیے وقف کر دیتے ہیں ، ہم نے اپنے حق کے لیے بولنا چھوڑ دیا ہے، جو قوم اپنے حق کی خاطر بولنا بھول جاۓ وہ انصاف بھی بھول جاۓ ،ترقی بھی بھول جاۓ وہ یہ بھی بھول جاۓ کہ یوں ہی کھلتی نہیں نشیمن میں کلی
یوں ہی سوکھے پتوں کو جلایا نہیں جاتا
یوں ہی رکھتا نہیں سورج کی کِرن سے کوئی امید سحر
یوں ہی خاموش رہنے سے چمن کا خواب سجایا نہیں جاتا
اور
ہوتی نہیں جو قوم حق پہ یکجا
اس قوم کا حاکم ہی فقط اسکی سزا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں