98

8 مارچ یوم خواتین

کالم نگار: حرا احمد

ہر سال8 مارچ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ مردوخواتین کے مساوی حقوق کے لیے خواتین کی جدوجہد کا آغاز تقریباً ایک صدی پہلے امریکا کی سرزمین سے ہوا۔ پھر امریکا سے شروع ہونے والی خواتین کی مساوی حقوق کی جدوجہد سالوں کا سفر طے کرتی یورپ، سویت یونین اور دوسرے ممالک تک پہنچی۔ اور پھر 1975 میں اقوام متحدہ نے 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن قرار دے دیا۔ اب ہر سال دنیا بھر میں 8 مارچ کو خواتین کے مساوی حقوق کے لیے احتجاجی ریلیاں، خواتین مارچ اور یوم خواتین کی مناسبت سے
ہر سال مارچ کے پہلے ہفتے میں پوری دنیا میں عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
یہ دن عورتوں کے حوالے سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے لیکن پچھلے چند سالوں سے اس دن جو کچھ دیکھنے اور سننے میں آیا وہ ایک مسلم معاشرے میں عقل کو حیران کرنے کے لیے کافی ہے۔بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ عورت کو بے پردہ کر کے چوک میں کھڑا کر دیا گیا۔ پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے اس دن مختلف جلوسوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے جس میں عورتوں کے حقوق اور آزادی کے نام پر ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے۔اس دن کو بنیادی طور پرمنائے جانے کا مقصد منفی امتیاز کو ختم کرنا اور خواتین کو جائز مساوی حقوق دلانا ہے اور اگر کوئی ان حقوق پر آواز اٹھاتا ہے تو اس پر بے جا تنقید وتعریفں بالکل غلط ہے۔لیکن جب حقوق کی بات اخلاقی بندھن توڑکر حدودو قیود سے باہر شتر بے مہا ہو جائے اور عقائد ونظریات کا تمسخر اڑایا جائے تو یہ قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ اور اہل مغرب عورت کے جن حقوق کی بات آج کر رہا ہے، اسلام تو یہ حقوق چودہ سو سال پہلے دے چکا ہے۔ 8 مارچ کو لبرلزم کے نام پر مٹھی بھر خواتین ریلیاں اور جلوس نکالتی ہیں، جس میں انہوں نے انتہائی بے ہودہ پلے کارڈز اٹھائے ہوتے ہیں، جن پر ناگفتہ بہ نعرے درج ہوتے ہیں اور چند تصاویر جو ان کی بے حیائی کی عکاسی کرتی نظر آتی ہیں۔ اور ان تمام نعروں میں میرا جسم، میری مرضی‘ کا نعرہ زبان زد عام ہوچکا ہے۔اوردیکھتے ہی دیکھتے یہ سوچ یا نعرہ  شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگا ہے۔ ‘اپنا کھانا خود گرم کرو’، ‘اپنے موزے خود تلاش کرو’۔تو مرد بھی کہہ سکتے ہیں کہ تم اپنے لیے روزی کا انتظام خود کرو، باہر کے کام کاج بھی بجا لاؤ۔ یوں معاشرے کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ ‘اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو اپنی آنکھوں پر باندھ لو‘یہ نعرہ مردوں کے خلاف لگایا گیا ہے اس نعرے میں دوپٹے کو وہ اپنی آزادی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتی نظر آتی ہیں۔ اس نعرے کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم گھر سے باہر نکلتی ہیں تو دوپٹہ اوڑھنے کا کہا جاتا ہے۔ یہ خواتین کبھی لال لال کے نام پر  اور ہم ٹائر بدل لیتی ہیں وغیرہ وغیرہ کے سلوگن کے ساتھ  سڑکوں پر پلے کارڈ اٹھائے نکلتی ہیں۔ ان نعروں کا مقصد ہی معاشرے میں بے راہ روی اور فحاشی وعریانی کو پھیلانا ہے جسکی حالیہ مثال ٹرانسجینڈر ایکٹ ہے ان پلے کارڈز پر جو نعرے اور جس قسم کی بے ہودہ اور نازیبہ زبان استعمال کی گئی ہوتی ہے ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ جس کے پیچھے مافیاز کا ایجیڈہ کارفرما ہوتا ہے۔ دوسری جانب مغرب میں خاندان کا تصور ہی نہیں ہے۔  وہ یہاں بھی خاندانی نظام کو توڑنے کے لیے ان جیسے لوگوں کو آگے لارہا ہے۔پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے عورت مارچ کے نام پر جو پریکٹس کی جارہی ہے، بنیادی طور پر اس ایجنڈے کی طرف قدم ہے جو ہمارے معاشرے کو مادر پدر آزاد رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے آفٹر شاکس یورپ اور مغربی کلچر جھیل رہا ہے اور وہ تباہ ہوچکے ہیں۔ اس تباہی میں وہ ہمیں بھی ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ عورتوں کے جو حقوق پاکستان میں پامال ہورہے ہیں، ان پر تو یہ عورتیں بات ہی نہیں کرتیں۔ مثلاً عورتوں کو وراثت میں سے حصہ نہیں دیا جاتا، باپ جہیز دے کر فارغ ہوجاتاہے اور بھائی شادی کے بعد سمجھتے ہیں کہ اسے اس کا حق مل گیا ہے۔ اگر بہن وراثت میں سے حصہ طلب کرئے تو کہا جاتا ہے کہ یہ بہن، بھائیوں کاحق مار رہی ہے۔ اسے مختلف نام دیے جاتے ہیں۔ یہ ان کا حق ہے، انہیں یہ کیوں نہیں دیا جاتا۔ ایسا مطالبہ عورت مارچ میں کیوں سامنے نہیں آتا؟انہیں ملازمت کے نام پر ہراسمنٹ کاسامنا ہے۔ استقبالیہ پر عورت کو شو پیس کے طور پرکھڑا کیا جاتا ہے، اس پر آواز کیوں نہیں اٹھاتے۔ عورت کو اگر ملازمت دینی ہے تو کوئی قابل عزت ملازمت فراہم کریں، نہ کہ جہاز میں غیر مردوں کے سامنے انہیں جسم کی نمائش کے ساتھ خدمت پر مامور کیا جائے۔
کیا اب بھی خواتین کوجنسی طور پر روزانہ ہراساں نہیں کیا جاتا ہے، نا جانے کتنی عورتیں ہیں جن پر تیزاب ڈال دیا جاتا ہے اور نا جانے کتنی خواتین ہیں جنہیں غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔اور کیا اس عورت مارچ سے عورت کا استحصال روک گیا، کیا اب ونی، کاروکاری  اور سوارا نہیں کی جا رہیں؟ کیا حال ہی میں بلوچ ماں جو قرآن اٹھا کر زندگی مانگتی رہی اس کو بازیاب یا اب تک اس کے لیے کوئی آواز اٹھائی گئی۔ کیا وہ عورت نہیں تھی یا پھر  اصل مقصد یہ ہے ہی نہیں، عورت مارچ میں کس پر آواز اٹھائی جاتی ہے کہ انہیں مادر پدر آزادی ملے، ہم جنس پرستی اور میرا جسم میری مرضی؟  ہم اللہ کے بندے ہیں، اللہ کی مرضی چلے گی، اگر اسی طرح مرد باہر نکلیں اور کہیں کہ ہمارا جسم ہماری مرضی، تو پھر سوچ لیں کہ یہ معاشرہ کہاں چلا جائے گا۔ عورت آزادی مارچ میں موجود عورتوں نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے کہ اسے دیکھنے کی بھی ہمت نہیں رہتی۔ اس مارچ میں ایک بھی پلے کارڈ ایسا نہیں تھا جس میں عورتوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف لکھا گیا ہو۔ میرے خیال میں عورت مارچ، معاشرے کو تقسیم کرنے اور بے حیائی و ہم جنس پرستی کی قباحتوں کو پاکستانی معاشرے میں داخل کرنے کاایک حیلہ و تدبیر کی گئی ہے۔
یہاں سوال یہ ہے کیا یہ عورت مارچ واقعی خواتین کے حقوق کیلئے ہوتا ہے؟ گزشتہ دو تین سالوں سے نکالا جانے والا عورت مارچ کیا واقعی خواتین کے حقوق انہیں دلوا سکا؟ اور کیا صرف مغربی کلچر کی دلدادہ خواتین چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانا چاہتی ہیں یا کوئی عملی کام بھی۔۔۔!!!

۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں