261

سوشل میڈیا کی شر انگیزیاں

خالد مجید

اور پھر یوں ہوا کہ اس کے آتے ہی ایک عجیب سا طوفان بپا ہو گیا اس نے ہمارا سکون چھین لیا رشتے ناطے تعلق سب ختم کرے دیے ہم انسانوں میں رہتے ہوئے انسانوں سے دور ہوتے چلے گئے ،ایک ہی گھر کی چھت کے نیچے رہنے والے دور دور ہوتے چلے گئے ہمارے بجٹ پہ بہت اثر پڑ گیا پیسوں کا ضیاع بہت زیادہ ہو گیا ۔

ایک زمانہ تھا ایک میز پہ سب گھر والے بیٹھے ہوتے تھے اور اپس میں باتیں کرتے تھے لیکن اس کے آنے کے بعد آپس کی بات چیت پیار محبت دوستی یاری تعلق میں کمی آ گئی

ایسا بھی ہوا کہ پرانے وقتوں میں کوئی ہزار سال نہیں 30 40 سال پہلے شہر کی مخصوص دیواریں ہوا کرتی تھیں جن پر رشتے کرانے والوں کے بارے میں لکھا ہوتا تھا ، حکیم اپنے اشتہارات لکھ دیا کرتے تھے ،نجومیوں کے اشتہار ان مخصوص دیواروں پر ہوتے تھے ، شرفاء ان دیواروں کے پاس سے گزرتے ہوئے کتراتے تھے لیکن پھر یہ ہوا کہ یہ موبائل جب ہمارے ہاتھ میں آیا تو ساری دیواریں ہر گھر کی ہر دیوار ہر کمرے اور ہر ہاتھ میں آگئی بچہ 10 سال کا ہے یا بابا جی 80 سال کے ہیں سب کے ہاتھ میں موبائل ہیں اور موبائل پہ وہ ساری دیواریں جو گند الود تھیں وہ ان کے ہاتھوں میں آ گئیں ۔

ترقی نے بہت زیادہ ترقی کر لی تو کہا جاتا ہے کہ کسی بھی چیز کی زیادتی جو ہے وہ ہمیشہ نقصان کا پیش خیمہ ہوتی ہے ایک وبا ایسی چلی کہ جس نے سوشل میڈیا کا نام سے دنیا کو حیران ، ہکا بکا اور پریشان کر دیا ۔

موبائل میں تمام ایپس فلاح کے لیے اصلاح کے لیے انفارمیشن کے کام کے لیے ہیں لیکن ہوا یہ کہ یار دوستو نے اسے شر پسندی کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اخلاقیات کی گراوٹ اس حد تک ہوئی کہ کبھی کسی کی کردار کشی کرنے کے لیے جہازوں سے پوسٹر گرائے جاتے تھے کبھی دیواروں پہ کوئی جملہ لکھا جاتا تھا کبھی کوئی پمفلٹ بنا دیا جاتا تھا کبھی کسی کے خلاف کوئی ضمیمہ چھاپ دیا جاتا تھا یہ بھی کبھی کبھی ھوتا تھا ۔

لیکن سوشل میڈیا کی بے راہ روی نے اخلاقی قدروں کی پامالی ، عزت نفس کی مجروحی نے اس قدر عروج پا لیا ہیے کہ ان کے شر سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا ہم ائے روز کسی نہ کسی کی کردار کشی کے بارے میں اسی سوشل میڈیا پر اس حد تک گری ہوئی حرکات و سکنات ، چھوٹی چھوٹی کلپس کی صورت میں دیکھتے ہیں کبھی جملوں میں اخلاقیات کا جنازہ اٹھتا ھیے کہ شرمندگی ہوتی ہے کہ انسانیت کہاں ہے شرفاء کا جینا بھی دوبر ہے ۔ کسی کے کردار کے بارے میں راز کو افشا کرنے والے کس قدر ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ کو سچائی بنا کر دھونس جمانے کے لیے کبھی کوئی ویڈیو بنا کر کبھی کوئی پوسٹر بنا کے سوشل میڈیا کے حوالے کر دیتے ہیں یہ بھی نہیں سوچا جاتا کہ انجام کیا ہوگا .
اسی طرح دیکھا جاۓ تو سوشل میڈیا پر تنازعات، جھگڑے اور بے رحمی کی تصاویر اور ویڈیوز کی وجہ سے بچوں اور نوجوانوں میں منفی تاثرات پیدا ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے استعمال کے مختلف نقائص اور منفی اثرات موجود ہیں جو لوگوں کی زندگی پر اثر ڈالتے ہیں۔ سب سے بڑا نقطہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے افراد میں مقابلے کے رہجان کو بڑھایا ھیے افسوس ناک بات یہ ھیے کہ یہ مقابلہ منفی اثرات لے کر سامنے آ رھا ھیے ۔ لو گوں میں خودنمائی سمیت دوسروں کو زیر کے لیے لغو باتوں کو سوشل میڈیا پر چلانا سرفہرست ھیے ۔۔ سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور گمراہ کن معلومات کی بھرمار ہے جو لوگوں کو غلط راستوں پر چلنے پر مجبور کرتی ہے

سوشل میڈیا آج کے دور کا اہم ذریعہ ہے جو لوگوں کو دنیا بھر میں جوڑے رکھتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت اپنی رائے یا تنازعے کے اظہار کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں.

اور یہی دیکھنے میں آیا ھیے کہ یہ مسئلہ عدم احترامی اور توہین کا باعث بنتا ہے، اور متعدد لوگوں کے درمیان اختلافات کا باعث بنتا ہے۔ اور یہ اختلاف راۓ گالی گلوچ سے شروع ھو کر لڑائی جگھڑے کا سبب ںنتی ھیے ۔

اگر غور کیا تو نتیجہ یہ نکلے گا یہ مڈیم برا نہیں اس کا استعمال غلط کیا جا رہا ھیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں