303

کاغذی نوٹوں کی تاریخ

تحریر:-محمد عمیر

میرے اور آپ کے پاس اس وقت دس روپے سے لے کر پانچ ہزار کے نوٹوں میں سے کوئی ایک نوٹ ہو گا۔ اسے نکال کر دیکھیں، قائدِ پاکستان کی تصویر کے بائیں جانب جلی حروف میں “بینک دولت پاکستان” اور اس کے نیچے نوٹ کی مالیت اور اس کے نیچے لکھا نظر آئے گا۔
“حاملِ ہذا کو مطالبہ پر ادا کریگا”
یہ وہ جملہ ہے جہاں سے ساری کہانی شروع ہوتی ہے۔ یہ نوٹ جنہیں کمانے کے لیے تو ہم دن رات ایک کیے بیٹھے ہیں پر ان کی حقیقت کیا ہے اس سے ناواقف ہیں۔ لیکن آپ کو بتاتا چلوں کہ آپ اکیلے نہیں ہیں، دنیا کے 95 فیصد سے بھی زائد لوگوں کو اس حقیقت کا ادراک نہیں ہےکہ ایسا کیا ہے جو ہمارے لیے جاننا ضروری ہے پر ہم یہ جاننے کو سنجیدہ نہیں لیتے اور ہماری اس عدم واقفیت کی وجہ سے کون لوگ کیسے فائدہ اٹھا رہے ہیں؟ یہ سب جاننے کے لیے ہمیں بنی آدم کی تاریخ پر مختصر نظر کرنی پڑے گی۔
اولادِ آدم روئے زمین پر مختلف جگہوں پر قبیلوں کی شکل میں آباد ہوئی۔ چند لوگوں کا قبیلہ بنا کر رہنا اس کی مجبوری تھی کیونکہ اکیلے انسان کے لیے زندگی گزارنے کے لوازمات پورے کرنا ممکن نہ تھا۔ زندگی گزارنے کے لوازمات کی فراہمی لوگوں نے آپس میں بانٹ لی، پر جب قبیلے وسیع ہوتے گئے تو انسانی فطرت جو اپنے معاملے میں انصاف پسند ہے اس نے محسوس کیا کہ کم محنت کرنے والا، اور زیادہ محنت کرنے والا برابر نہیں ہو سکتے ۔تو رفتہ رفتہ اشیاء و محنت کے لین دین کا نظام وجود میں آیا جسے بارٹر سسٹم بھی کہا جاتا ہے۔ اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص نے کاشتکاری سے غلہ حاصل کیا، اور ضرورت سے زیادہ ایک ایسے شخص کو دیا جس سے اسے لباس چاہیے تھا۔ یوں ہر کوئی اتنے ہی لوازمات حاصل کرتا، جتنی وہ محنت کرتا۔
پر اس نظام میں یہ خامی تھی کہ بعض اجناس کا تبادلہ مشکل تھا، جیسے ایک شخص نے بکریاں پالیں اور وہ ایک بکری دے کر غلہ لینا چاہتا ہے، پر جس شخص سے غلہ لینا ہے اس کے پاس غلہ کم مقدار میں ہے۔ اب وہ بکری کو ذبح کر کے کچھ گوشت بھی نہیں دے سکتا کیونکہ کسان کو بکری کا گوشت نہیں بلکہ دودھ کے حصول کے لیے بکری چاہیے۔ اس خامی کا حل یوں نکالا گیا کہ اشیاء و محنت کا تبادلہ ایسی شے سے کیا جانے لگا جس کے ٹکڑے کرنا آسان ہوتا، اور اس کی نقل و حرکت بھی آسان ہوتی اور اس شے کی ایک خاص قدر ہوتی اور اس کا حصول بھی محنت طلب ۔
یہاں سونے اور چاندی کے ٹکڑے معرض وجود میں آئے جن سے اشیاء اور محنت(مزدوری) خریدی جا سکتی تھی اور ان کو ڈھال کر زیبائش کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا تھا، اور یہ لمبے عرصے تک خراب نہیں ہوتے تھے حتی کہ کئی ہزار سال بعد بھی سونا قدرت کے دیگر عناصر مثلا ہوا، پانی اور مٹی میں بھی اپنا وجود قائم رکھتا ہے۔ اب جس نے جتنی محنت کی اس نے اتنا سونا کمایا، اور اس سے لوازماتِ زندگی اور ان سے بڑھ کر زیبائشِ زندگی حاصل کیے۔
سونا اور چاندی اور دیگر دھاتیں خلا میں ستارے کے ٹوٹنے پر پیدا ہوتی ہیں اور ان کے بڑے و چھوٹے ٹکڑے خلا میں پھیلتے ہیں اور زمین پر بھی ایسے ہی یہ ٹکڑے پہنچے ہیں۔ پہلے وقتوں میں ان کا حصول اس وقت کے وسائل کے مطابق تھا اور آج کل ان کا حصول موجودہ وسائل پر منحصر ہے۔ ان دھاتوں میں سے سونا اور چاندی اپنی خوبصورتی اور لمبے عرصے تک اپنی حالت برقرار، رکھنے کی وجہ سے بطورِ کرنسی استعمال ہونا شروع ہوئے۔
وقت کا پہیہ گردش کرتا رہا، انسان بھی وقت کے ساتھ ترقی کرتا رہا۔ بڑی بڑی سلطنتیں قائم ہوئیں، اور انہوں نے ان ٹکڑوں کومختلف شکلوں میں ڈھال کر سکے بنائے جن کا تبادلہ آسان ہوتا تھا، اور ہم وزن ہونے کی وجہ سے یہ قابلِ اعتماد بھی ہوتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسان تیزی سے جدیدت کی طرف مائل ہوا۔ اور جس نے مظاہرِ قدرت میں جتنی کھوج کی ، قدرت نے اسے اتنا ہی نوازا۔
کاغذ کی ایجاد بھی قدرت کا ایک انعام ہے جو اس نے غور کرنے والوں کو عطا کیا۔ سب سے پہلے کاغذ چینیوں نے بنایا، اور پہلا کرنسی نوٹ بھی ساتویں صدی میں چین میں ہی جاری کیا گیا۔ اس کا مقصد تانبے کے بنے سکوں کو بڑی ادائیگی کی صورت میں زیادہ وزن ہونے کی وجہ سے لے جانا مشکل ہوتا تو یہ اس تانبے کی رسید بطورِ ادئیگی پیش کی جاتی تھی۔ اب اگر تانبہ چاہیے ہوتا تو گودام سے لے لیا جاتا، یا اس رسید کو آگے کسی اور کو بطورِ ادائیگی دے دیا جاتا اور جس کو تانبہ چاہیے ہوتا وہ آ کر لے جاتا اور باقی لوگ جن کو صرف ادائیگی سے غرض ہوتی وہ وزن اٹھانے سے بچ جاتے۔ یہ معاملہ بہت بڑی ادائیگیوں کے ضمن میں تھا اور بہت ہی خاص لوگوں تک محدود تھا۔
گیارہویں صدی عیسوی میں یورپ میں بسنے والے یہودیوں نے بینک متعارف کروایا۔یہ لوگوں سے کم شرح سود پر قرض لے کر زیادہ شرح سود پر قرض دیتے تھے۔ آج موجودہ بینکوں کی بھی یہی تعریف ہے کہ:
بینک ایک ایسا ادارہ ہے جو لوگوں سے کم شرح سود پر رقم لیتا ہے اور زیادہ شرح سود پر قرض دیتا ہے، یوں بینک ایک “منافع بخش” کاروبار کرتا ہے۔
ان یہودیوں کے پاس سونا اکٹھا ہوتا اور یہ قرض دیتے اور سود کما کر امیر تر ہوتے گئے۔ کچھ عرصے بعد بڑے پیمانے پر سونے کے سکوں کا لین دین کرنے، بڑے مکان اور حفاظتی سپاہیوں پہرے داری رکھنے کی وجہ سے اکثر لوگ اپنا سونا ان کے پاس حفاظت کے لیے رکھوانے لگے۔ یہ سونے کی حفاظت کرنے کی کچھ رقم وصول کر تے اس کی رسید بنادیتے۔
یہ معاملہ یوں چلتا رہا پر کچھ عرصے بعد ان بینکروں نے ایک بات نوٹ کی…!!!

وہ یہ کہ سونا رکھوانے کوئی اور آتا ہے اور لینے کے لیے کوئی اور، مزید یہ کہ سونا رکھوانے والے لوگ زیادہ تھے اور واپس لینے والے بہت کم۔ یعنی لوگوں نے سونے کی رسیدوں پر ہی لین دین شروع کر لیا تھا۔ ان رسیدوں پر اعتماد کی وجہ یہ تھی کہ جس کا جب جی چاہا وہ مطلوبہ بینکار کے پاس جاتا اور اسے اسی وقت سونا مل جاتا۔ اس اعتماد نے مارکیٹ میں ان رسیدوں کو وہی اہمیت دلا دی جو کہ اصل سونے کی اشرفیوں کی اہمیت تھی۔ اہمیت کیوں نہ ہوتی کیونکہ کئی دھائیاں لوگوں نے انہیں استعمال کیا اور کبھی کوئی رسید لوٹائی نہیں گئی۔ اس اعتماد کا ان بینکاروں نے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کیا۔
انہوں نے پاس موجود سونے سے زیادہ رسیدیں بنانا شروع کر دیں۔اور ان کو مارکیٹ میں یوں پہنچاتے کہ کوئی ایسا قرض کا طلب گار آتا جس کے بارے میں انہیں یقین ہوتا کہ یہ رقم سود سمیت ادا کر دے گا، تو وہ اسے رسید بنا دیتے۔اور جب وہ سود سمیت قرض لوٹاتا، تو سود اپنی جیب میں ڈالتے اور رسید کو ضائع کر دیتے۔ یوں کچھ کیے بغیر ان کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہونے لگا۔ چند ایک لوگ جنہوں نے بڑی مقدار میں اپنا سونا ان کے پاس رکھا تھا، انہیں اس بات کی خبر ہوئی تو وہ بینکاروں کے پاس گئے۔ پر انہیں ان رسیدوں پر ملنے والے سود میں سے کچھ فیصد کا وعدہ کر کے ہمنوا بنا لیا گیا۔
یہ بینکار وقت کے ساتھ ساتھ اتنے امیر ہو گئے کہ حکومتوں کو قرض دینے لگے۔ اور اپنی مرضی کے قوانین بنوانے لگے۔ انگریزی کہاوت ہے کہ
“جو سونے کا مالک ہوتا ہے وہی قانون بناتا ہے”۔
بہت سی حکومتوں نے ان کے آئیڈیا کو اپنایا، سنٹرل بینک بنے جو اکثر پاس موجود سونے سے زیادہ رسیدیں چھاپ کر حکومتی کام نکلوا لیتے جن میں تنخواہیں دینا اور تعمیر و ترقی کے کام وغیرہ شامل تھے۔
ایک بات ذہن میں رہے کہ یہ جن کو قرض جاری کرتے تھے، ان میں سے کچھ لوگ کنگال ہو کر قرض ادا کرنے کے قابل نہیں رہتے تھے، حتی کہ ان کے کوئی ایسے اثاثے بھی نہ ہوتے جو ضبط کیے جا سکیں۔ جب بھی کسی بینکار کے بہت زیادہ لوگ قرض ادا کرنے سے عاجز آ جاتے اور دوسری طرف ان کی مارکیٹ میں پھیلائی گئیں رسیدوں کی واپسی زیادہ تعداد میں ہونے لگتی تو ایک وقت آتا کہ ان کے پاس لوگوں کا رکھوایا گیا سونا ختم ہو جاتا اور لوگوں کے ہاتھ میں موجود رسیدیں سونے کے ٹکڑوں سے کاغذ کا ٹکڑا بن جاتیں۔ اس صورت حال کو بینک کا ڈیفالٹ ہونا کہتے ہیں۔
چونکہ انہوں نے اپنی مرضی کے قوانین بنا رکھے تھے، لہذا ایسی صورت حال میں نقصان عوام اٹھاتی اور بینکار اپنی ذاتی دولت سمیت کر فرار ہو جاتا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اتنا بڑا فراڈ لوگ کیسے برداشت کر لیتے تھے؟ تو جواب یہ ہے کہ لوگ تب تک بے بس ہو چکے تھے۔ کاغذ کی رسیدیں مارکیٹ میں بہت زیادہ عام ہو چکی تھیں اور یہ کہ بینکوں کا یہ فراڈ خال خال ہی آشکار ہوتا تھا، اور ان بینکاروں نے اپنے تحفظ کے لیے حکومتی سرپرستی بھی حاصل کر رکھی تھی اور خود کو تحفظ دینے والے قوانین بھی اور اس سارے بینکنگ سسٹم کو اتنا پیچیدہ بنا کر پیش کیا گیا تھا، کہ عام لوگ اسے سمجھنے سے قاصر ہوتے جیسے کہ اسی طرز کے بینک آج بھی چل رہے ہیں اور ہم ان کے فراڈ کو جانتے ہی نہیں۔
ڈیمانڈ اینڈ سپلائی، یعنی طلب و رسد کا اصول ہمیشہ سے لاگو رہا ہے۔ جب بھی مارکیٹ میں اشیاء اور کرنسی کی سپلائی میں توازن رہتا ہے قیمتوں میں تسلسل قائم رہتا ہے۔ پر جب اشیاء اتنی ہی رہیں اور کرنسی کی سپلائی بڑھ جائے تو اسے افراطِ زر کہتے ہیں۔ چونکہ ہر کسی کے پاس پیسے ہوتے ہیں تو لوگ اشیاء زیادہ قیمت پر بھی لینے کو تیار ہو جاتے ہیں ، یوں ان کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔دوسری صورت میں اشیاء کا زیادہ ہوجانا ہے جس کی وجہ سے کرنسی کی قدر بڑھتی ہے اور اشیاء کی قیمتیں کم ہو جاتیں ہیں۔ جب سے بینک قائم ہوئے اور پھر حکومتی سرپرستی میں گئے اور انہوں نے اندھا دھند رسیدیں جنہیں نوٹ کہا جاتا ہے چھاپنے شروع کیے تب سے مارکیٹ میں کرنسی کی سپلائی بڑھتی جا رہی ہے اور اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔
پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جب یورپ دست و گریباں تھا تب امریکہ نے اس جنگ سے خوب فائدہ اٹھایا۔ اس نے یورپ کو اسلحہ اور اشیاء ضروریہ بیچیں اور خوب سونا اکٹھا کر لیا۔ تب تک حکومتوں کا آپسی لین دین سونے میں ہی ہوتا تھا۔ امریکہ دوسری جنگ عظیم میں اختتام سے کچھ عرصہ پہلے شامل ہوا تھا، اس وجہ سے جنگ کے اثرات اس کی معیشت پر کچھ خاص نہیں پڑے ۔ اس وقت جتنے امریکی ڈالر مارکیٹ میں تھے امریکہ کے پاس اتنا ہی سونا بھی تھا۔ یورپی حکومتوں نے اپنے پاس موجود سونے سے زیادہ اپنی کرنسیاں چھاپ کر جنگوں کے اخراجات پورے کیے تھے اور ان کی کرنسیاں اپنی قدر کھو چکی تھیں۔جنگ کے تقریبا اختتام پر عالمی تجارت کے پیمانے طے ہونے کے لیے اجلاس منعقد ہوا ، جس میں امریکہ چونکہ دیگر ممالک کے مقابلے میں 75٪ زائد سونے کا مالک تھااسی لیے وہی بات” جو سونے کا مالک ہوتا ہے وہی قانون بناتا ہے “کے مصداق اس کی مانی گئی بلکہ منوائی گئی۔
تب یعنی 1944 میں امریکی ڈالر کو عالمی تجارتی کرنسی مانا گیا اور ایک ڈالر کے قیمت 0.888 گرام سونا طے کی گئی جسے بریٹن وڈز کا معاہدہ کہاجاتا ہے۔ تب سے ہر ملک نے سونے کے ساتھ ساتھ امریکی ڈالر بھی اپنے سینٹرل بینکوں میں بطورِ ریزرو کرنسی رکھنا شروع کیے۔ ہر ملک کی کرنسی یوں ماپی جانے لگی کہ ان کے پاس کتنا سونا اور کتنے ڈالر ہیں اور کتنی مقدار میں انہوں نے اپنی کرنسی چھاپ رکھی ہے۔
مثال کے طور پر ایک ملک کے سینٹرل بینک کے پاس 1000 ڈالر اور 888 گرام سونا ہےاور انہوں کے اپنی کرنسی اگر
دو ہزار کی تعداد میں چھاپ رکھی ہے تو ان کی کرنسی ڈالر کے برابر ہے۔
اگر ایک ہزار چھاپ رکھی ہے تو ڈالر سے دگنی ہے۔
اور اگر چار ہزار چھاپ رکھی ہے تو ڈالر کے مقابلے میں آدھی ہے۔
یوں ہر ملک کی کرنسی کی قدر طے ہوئی جو اس کے سینٹرل بینک میں ڈالر اور سونا بڑھنے پر مظبوط ہوتی اور یہ دو چیزیں کم ہونے پر اس کی قدر کمزور ہوتی۔
اس وقت یہ اصول تو طے کر لیا گیا پر اس کے پیچھے بھی وہی یہودی بینکار تھے جن کے آباء نے اعتماد قائم کر کےسونے سے زیادہ رسیدیں چھاپنا شروع کی تھیں۔
اس معاہدے کے بعد دیگر مالک نے امریکہ کو اشیاء بیچ کر ڈالر حاصل کرنا شروع کر دیے، اور چند ممالک سستے میں اشیاء دینے لگے تاکہ ڈالر حاصل ہوں یوں امریکی صنعت بیٹھنا شروع ہوئی کیونکہ بیرونِ ملک سے سستی اشیاء لوگوں کو مل رہی تھیں۔ امریکہ کی برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے لگ گیں جس کی وجہ سے امریکہ کے تقریبا آدھے ڈالر دیگر ممالک کے سینٹرل بینکوں میں اکٹھے ہونے گے۔
اس پر مستزاد کہ امریکہ نے دفاعی اخراجات بڑھا لیے۔ ویت نام کی جنگ میں کود پڑاجس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اسے اپنے پاس موجود سونے سے زیادہ ڈالر چھاپنے پڑے۔ جب دیگر بڑے ممالک نے دیکھا کہ امریکہ کی برآمدات و درآمدات میں بہت واضح فرق ہے ۔ اور یہ ویت نام کی جنگ میں بھی گھسا ہوا ہے۔ مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی جوں کی توں جاری ہے تو وہ کھٹک گئے۔ سوئیزرلینڈ نے امریکہ کو پانچ کروڑ ڈالر واپس کر کے 44 ٹن سونا حاصل کیا۔ امریکہ نے سفارتی دباؤ ڈال کر دیگر ممالک کو سونا لینے سے روکنے کی کوشش کی پر فرانس کو نہ روک سکا۔ فرانس نے تقریبا 19 کروڑ ڈالر واپس کر کے 170 ٹن سونا امریکہ سے وصول کیا۔برطانیہ بھی 75 کروڑ ڈالر واپس کر کے سونا لینا چاہتا تھا جس کا تقریباً 660 ٹن وزن بنتا تھا.
صورتِ حال یہ تھی کہ امریکہ اپنے پاس موجود سونے سے تین گنا زیادہ ڈالر چھاپ کر دنیا میں بانٹ چکا تھا۔ اب اگر سارے ملک ڈالر واپس کر کے سونا مانگتے تو امریکہ کے پاس اتنا سونا نہیں تھا۔ حقیقت میں امریکہ اس وقت ساری دنیا کا مقروض ہو چکا تھا۔ اس کی معاشی و عسکری ترقی کی وجہ کاغذ کا ڈالر تھا جسے وہ چھاپ کر امیر اور طاقتور تھا۔ اس وقت یعنی 1971 میں امریکی صدر نکسن نے تقریر کی اور کہا کہ میں ڈالر کی سونے یا کسی مادی شے میں تبدیلی عارضی طور پر منقطع کر رہا ہوں، پر یہ وعدہ جھوٹا نکلا، تب سے مستقل طور پر امریکی ڈالر سونے سے منقطع ہے اور اس بات کو اس نے اپنی طاقت کے زور پر منوایا۔
اس اعلان کے بعد دنیا کی معیشت جو سونے میں منتقل ہونے والے ڈالر پر کھڑی تھی ، وہ فقط ایک کاغذ کے ڈالر پر آ گئی۔ وہ کاغذ جسے فیڈرل ریزرو آف امریکہ ڈیمانڈ پر چھاپنے کا حکم جاری کرتا ہے اور وہ چھپ جاتا ہے۔ امریکہ اس سے جنگیں لڑتا ہے، پیٹرول خریدتا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کو استعمال کر کے ملکوں کو معاشی غلام بناتا ہے۔ ڈالر درختوں پر اگتے تو شاید اگنے میں وقت لگتا، پر فیڈرل ریزر آف امریکہ چند سیکنڈز میں ایک چیک لکھتا ہے اور دنیا میں اربوں ڈالر وجود میں آ جاتے ہیں۔جن کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ دیگر ممالک یوں نوٹ چھاپیں تو ان کی کرنسی کی ویلیو گر جاتی ہے۔
لیکن ڈالر کو ریزرو کرنسی منوایا گیا ہے، اس لیے امریکہ جب یہ نوٹ چھاپتا ہے تو اس کے نوٹ کی ویلیو نہیں گرتی کیونکہ ڈالر تو ایک معیار ہے۔ اور یہ معیار ڈنڈے کے زور پر اور دنیا کی جہالت کی وجہ سے قائم ہے۔ آج ہم آئی ایم ایف سے ان چند ارب ڈالر کے لیے اپنا ملکی وقار داؤ پر لگاتے ہیں جو فیڈرل ریزرو آف امریکہ نے بس پرنٹ کر کے دینے ہیں۔
تو یہ جو” حامل ہذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا” اس سے مراد، اس مالیت کا سونا ہوتا ہے، جو 1971 سے پہلے ملنے کا قانون تو موجود تھا۔ پر اب یہ ایک جھوٹ ہے، یہ نوٹ فقط کاغذ کا ٹکڑا ہے، جس کی اپنی کوئی قدر و قیمت نہیں اور اسے کمانے کے لیے ہم دن رات ایک کر رہے ہیں۔
دنیا کی تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ حکومتوں نے سونے کے سکوں میں ملاوٹ کر کے زیادہ سکے بنائے پر وہ سکے وقت کے ساتھ ختم ہو گئے، جنہوں نے وہ کمائے ان کی کمائی ضائع گئی اور سونے کے اصلی سکے ہی باقی رہے۔ یہ جو عالمی دھوکہ جاری ہے اس نے جلد ختم ہو جانا ہے۔ اس وقت جس کے پاس ان نوٹوں کا انبار یا بینک میں بڑی رقم ہو گی ان کے پاس بس کاغذ کے ٹکڑے اور بینک کے کھاتے میں لکھے نمبر رہ جائیں گے۔اور جن کے پاس سونا چاندی زمین یا دیگر مادی اشیاء ہوں گیں، وہی دولت مند ہوں گے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے بڑے تو اپنی لاعلمی کی وجہ سے ہمیں کاغذ کے نوٹ کما کر دے گئے۔ کیا ہم بھی آنے والی نسل کو یہ کاغذ تھما کر جائیں گے؟؟
اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو ہم یا ہماری اگلی یا اس سے اگلی نسل جن کے ہاتھ میں موجود نوٹوں کو کاغذ قرار دے دیا جائے گا، وہ ضرور پچھلوں کو کوسے گی۔

زرا سوچیے …!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں