26

غیرت کی انتہا

مکالمہ
تحریر۔ کائنات خان

اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پیاری چیز غیرت ہے۔ تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو بھی چیز اللہ تعالیٰ کو پسند آ جائے تو اس میں غیرت کی کچھ نشانیاں ڈال دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پہ مختلف قسم کی مخلوقات پیدا کی ہے ان میں سے آشرف المخلوقات انسان کو بنایا تو جیسا ہی انسان کو اشرف المخلوقات کا لقب ملا تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو غیرت سے بھی نوازا۔

دنیا میں انسانوں کو قبائل میں تقسیم کیا گیا تاکہ یہ ایک دوسرے کی پہچان کرسکے۔ کسی کو گورا بنایا تو کسی کو کالا۔ کسی کو عربی بنایا تو کسی کو عجمی۔ کسی کو بڑا لمبا قد والا بنایا تو کسی کو چھوٹا قد والا بنایا۔ کسی کو صحت کے حوالے سے طاقتور بنایا تو کسی کو کمزور۔ کسی کو ساری نعمتیں دی گئی تو کسی کو تھوڑی سی۔۔۔۔۔ جو کچھ بھی انسان کو عطاء کیا گیا اس میں اللہ تعالیٰ کی اپنی ایک حکمت ہے لیکن میری اصل موضوع آج یہ نہیں جو کہ ابھی بیان کی لیکن اصل موضوع میری ہے غیرت۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اسی طرح تقسیم کیا جو کہ میں نے ابھی اوپر بیان کی تو اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو غیرت کی نعمت سے بھی نوازا۔۔۔ کچھ لوگ یہ اصرار کرتے ہیں کہ باقی نعمتوں کی طرح غیرت کو بھی تقسیم کیا گیا ہے کہ کچھ لوگوں کو دیا گیا ہے اور کچھ کو نہیں لیکن میں یہ سمجھتی ہوں کہ ہر انسان کو غیرت سے نوازا گیا ہے اب یہ انسان پہ انحصار کرتا ہے کہ وہ اس غیرت کو کس طرح یوٹلائز کرسکتا ہے اور کس طرح نہیں۔
کچھ لوگوں نے اس غیرت کو گلے لگایا اور اپنی زندگی کا ایک بہت برا حصہ سمجھا۔ وہ اٹھتے بیٹھتے بلکہ ہر وقت غیرت کو مدنظر رکھتے ہوئے سب کچھ کرتے ہیں کبھی بھی ایسا کام نہیں کرتے اور نہ سوچتے ہیں جس پہ اس کی غیرت اس کو طعنہ نہ دے یا غیرت کی وجہ سے کبھی انہیں ضمیر پچھتاوا نہ دے۔
کچھ لوگ اپنی غیرت کی وجہ سے اپنے حقوق کیلئے اپنی جان تک دینے کیلئے تیار ہوتے ہیں تو کچھ لوگوں کو اگر انکی مذہبی راستوں سے بھی ہٹانے کا کہوں گے یا کوئی انکے اوپر پریشر آئے تو وہ جلدی اپنا راستہ بدل دے لیکن انکو کبھی بھی انکی غیرت کبھی پچھتاوا نہیں دیگا اور نہ کبھی انہیں انکی پوری زندگی میں کبھی یہ ریئلائز ہوگا کہ اس نے کوئی غلطی کی تھی کہ نہیں۔
دنیا میں آج تک جتنے بھی انقلابات آئے ہیں سب کے سب غیرت کی وجہ سے آئے تھے۔ یا تو غیرت کوئی مذہبی مسائل کے اوپر تھا یا دنیاوی کاموں کے اوپر تھا لیکن کسی نہ کسی بات پہ جب غیرت آجاتی تو پھر ہر کوئی باہر نکلتا تھا اور اپنے حقوق مانگ لیتے۔ تو وہ تو کوئی ایک انسان نہیں تھا جو اپنے حقوق کیلئے باہر نکلتا وہ تو پوری کی پوری آبادی ہوا کرتی تھی جس میں اکثر اسی وقت سوچ یکسو پایا جاتا تھا اسی یک سوچ کی وجہ سے ان کی غیرت کی وجہ سے ایک انقلابی جذبہ پیدا ہوتا اور یوں دھیرے دھیرے لوگ اپنے گھروں سے باہر نکلتے تھے اور اسی طرح لوگ اپنے حقوق مانگتے یا تو انہیں اپنے سارے حقوق مل جاتے اور اگر نہ ملتے تو ایک انقلاب آتا جو کہ بعد میں اسی عوام کی بہتری کیلئے ثابت ہوتا تھا۔

کچھ مہینوں پہلے ہمارے ملک کے کچھ سیاسی جماعتوں کے قائدین کا غیرت جاگ اٹھا تھا اور اپنے عوام کو ریلیف دینے کیلئے اور مہنگائی سے نمٹنے کیلئے لوگوں کو ورغلانہ شروع کردیا اور اسی طرح کچھ بیرونی سپورٹ کی وجہ سے حکومت گرا کر ایک نئی سیٹ اپ بنائی گئی جنکی آج 8-9 مہینے پورے ہورہے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کو ایسے جگے پہ لاکر کھڑا کردیا کہ اب اس کو ٹھیک کرتے کرتے صدیاں لگ جائیں گے لیکن یہ ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لیگا۔۔
جس مہنگائی کی وہ بات کرتے تھے آج سب کچھ انکے ڈبل ہوچکا ہے لیکن افسوس اس بات کا کہ آج وہ غیرت کسی میں نہیں جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ آٹا کی تھیلی جب 1300 پہ کردی گئی تو لوگوں میں غیرت جاگ گئی تھی جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 150 تک اضافہ کیا گیا تو لوگوں میں غیرت جاگ گئی تھی لیکن آج وہی آٹا 3000 کا اور پیٹرول 230 کا مل رہا ہے تو آج کسی میں کوئی غیرت نہیں جاگ رہی۔ ارے بھئی! وہ غیرت تھی یا منافقت۔ مجھے تو وہ غیرت نہیں لگ رہا تھا اور اگر وہ غیرت تھی تو اج مہنگائی اسکے ڈبل ہے قیمتوں میں اضافہ ڈبل بلکہ تین گنا زیادہ کرچکاہے لیکن آج تک کسی میں کوئی غیرت نہیں ۔۔۔۔۔۔ عجیب بات ہے۔ اس لئے تو اس ملک کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے ۔۔۔ جو عوام اپنے حقوق نہیں مانگ سکتے وہ بھی خود کو غیرت مند قوم سمجھتی ہوگی ۔۔۔۔ جو قوم اپنے حقوق نہیں مانگ سکتی وہ بھی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔وہ بھی مغربی ممالک کی تباہی کی بد دعائیں مانگتی ہیں لیکن خود تو انکی بیغرتی کی انتہا یہی ہے کہ وہ اپنے حقوق نہیں مانگ سکتے ۔۔
آج پھر سے وارننگ دیتی ہو کہ اگر عوام نے اپنے آپ میں غیرت کو نہ جگا دی تو اور تباہی بھی آپکی مقدر میں لکھی گئی ہے اور آپکا جینا اور بھی حرام ہونا ہے ۔۔۔ لہذا اپنے آپ میں غیرت کو جگا دے اور اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے لڑے اور اتنا لڑے کہ پوری دنیا پھر مستقبل میں آپکی مثالیں پیش کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر ترقی کرنا تو بہت زیادہ دور کی بات ہے ہم مسلمان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہونگے۔ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں غیرت مند قوم بننے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ثم آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں