58

برطانوی طرز جمہوریت

برطانیہ کی وزیراعظم لزٹرس کا منصب سنبھالنے کے چھ ہفتوں پر مستعفی ہونے کا اعلان اور اس پر کوئی بڑی ہلچل نہ ہونا برطانوی طرز جمہوریت کے استحکام کا اظہارہے۔ برطانوی طرز حکومت کو پارلیمانی جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے اور طویل عرصے کے بعد یہ ملک اس مقام پر نظر آتا ہے جس میں تمام ادارے اپنے اپنے دائرے میں طے شدہ اصولوں کے مطابق اس طرح کام کر رہےہیں کہ وزیراعظم کے استعفے اور نئے وزیراعظم کے انتخاب سمیت کسی بھی معاملے میں ہیجان نظر نہیں آتا۔

لزٹرس برطانوی وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونےوالی تیسری خاتون ہیں۔ سابق وزیراعظم بورس جانسن کی حکومت ختم ہونے کے بعد 6ستمبر کو عہدہ سنبھالنے والی لزٹرس مختصر ترین مدت تک برطانوی وزیراعظم رہنے والی شخصیت بن گئی ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لزٹرس نے تسلیم کیا کہ وہ مہنگائی اور اقتصادی صورتحال پر قابو پانے کے وعدے پورے نہ کر سکیں اور پارٹی کی حمایت کھو بیٹھی ہیں۔ خاتون وزیراعظم کے وزیر خزانہ اور وزیر داخلہ پہلے ہی مستعٰفی ہو چکے تھے جبکہ معاشی پروگرام کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا سامنا تھا جس کے باعث انہوں نے پارٹی کی سربراہی سے بھی دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔ 28اکتوبر کو کنزرویٹیو پارٹی اپنے نئے لیڈر کا انتخاب کرے گی۔ اس وقت تک لزٹرس وزیراعظم کے عہدے پر براجمان رہیں گی۔

نئی قیادت کے لئے سابق وزیراعظم بورس جانسن اور سابق وزیر خزانہ رشی سونک کے نام سامنے آ رہے ہیں۔ برطانیہ پارلیمانی جمہوری نظام ایک طویل دور سے گزر کر اس مقام پر نظر آ رہا ہے کہ وزرائے اعظم کی بار بار تبدیلی کے باوجود ملکی معاملات کسی دھچکے سے دوچار ہوئے بغیر جاری رہتے ہیں۔ پارلیمانی جمہوریت کی راہ پر چلنے والے دیگر ممالک کی سیاسی قیادتوں کے لئے برطانیہ کے تجربات اور رویوں میں سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں