22

وفاقی محتسب ۔۔۔۔چالیس سال کا سفر(1983تا 2023)

تحریر: ڈپٹی ایڈوائزر، ریجنل آفس سرگودھا، مشتاق احمد اعوان

سرگودھا میں وفاقی محتسب آفس کا قیام 25 نومبر2021کو عمل میں آیا،جس میں سرگودھا آفس روزانہ کی بنیاد پر اپنا کام کر رہا ہے۔ سائل سادہ کاغذ پر ایک درخواست لکھ کر وفاقی محتسب کو بھجوادیں تو اس پر بلا تا خیر کارروائی شروع ہوجاتی ہے اور اگلے روز شکایت کنند ہ کو اس کے شکا یت نمبر اور تا ریخ سما عت سے آ گا ہ کر دیا جا تا ہے۔ یہ اداراہ معاشرے کے پسے ہوئے وہ لوگ جن کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ عدالتوں اور وکلاء کے بھاری اخراجات برداشت کرسکتے ہیں۔وفاقی محتسب ریجنل آفس سرگودھا کو ایک سال میں مختلف وفاقی محکموں کے خلاف 2585 درخواستیں موصول ہوئی جس میں 2389 سائلین کو ریلیف دیا گیا۔ ایک سال میں GEPCO سے 44 ہزار جبکہFESCOسے 82ہزار یونٹس کے بل ریفنڈکروائے گئے اور اسی طرح پوسٹل لائف انشورنس کے 28پالیسی ہولڈر کو ایک کروڑ کے چیک دلوائے گئے۔ پا کستان جنو بی ایشیا ء کے ان چند مما لک میں شا مل ہے جہاں سب سے پہلے وفاقی محتسب کے ادارے کی بنیا د رکھی گئی۔24 جنوری1938کو صدارتی فرمان کے تحت معر ض وجود میں آ نے والے اس ادارے نے 08اگست1983ء کو باقاعدہ کام شر وع کیا تھا۔ اس ادارے کے قیام کابنیادی مقصد وفاقی حکومت کے تحت چلنے والے سرکاری اداروں یا اس کے ملا زمین کے ہا تھوں انتظا می زیا دتیوں، امتیا زی سلوک، استحصال، غفلت اور نا اہلی کے خلاف عوام الناس کی شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔ وفاقی محتسب اپنے آ غا ز سے لے کر آج تک تقر یباً19 لا کھ شکایت کنند گان کو مفت اور بروقت انصاف فرا ہم کر چکا ہے۔چا لیس سال کے اس سفر کے دوران یہ ادارہ اپنی کا رکر دگی اور افا دیت میں اضا فے کے ساتھ ساتھ معیار اور مقدا ردونوں حوالوں سے مثبت رفتار سے آ گے بڑھتا رہا ہے۔ بنیا دی طور پر یہ غر یب آ دمی کی عدا لت ہے، جہاں نہ وکیل کی ضرورت ہے اور نہ ہی شکا یت کنند گان کو کو ئی فیس ادا کر نا پڑتی ہے اور 60 دن میں ہر شکا یت کا فیصلہ کر دیا جا تا ہے۔ جسٹس (ر) سردار محمد اقبال چو نکہ پہلے وفاقی محتسب تھے، لہذا انہوں نے اس ادارے کے خدوخال بنا نے اور سر کا ری اداروں پر اس کی رٹ قا ئم کر نے کے لئے بہت سے کام کئے۔ وفاقی محتسب کے قیام کا صدا رتی حکم نا مہ بھی ان کا ہی تیار کر دہ تھا۔2013تک وفاقی محتسب سیکر ٹر یٹ1983 ء کے صدا رتی حکم نمبر(1) کے تحت کام کر تا رہا۔ اس دوران بعض اوقات پیچید ہ کیس سا لہا سال تک چلتے رہتے تھے۔ 2013 ء میں وفاقی محتسب محمد سلمان فا روقی کے دور میں قانون میں کچھ ترا میم کی گئیں اور فیصلے کے لئے 60 دن کی مد ت مقرر کر دی گئی۔ اسی دوران وفاقی محتسب سیکر ٹر یٹ کے سر وس رولز بھی بنائے گئے۔ محمد سلمان فا روقی نے حکو متی اداروں کے نظام کی اصلا ح کے لئے متعدد کمیٹیاں بھی بنا ئیں، جنہوں نے بہت ہی مفید اور قا بل عمل سفارشات پر مبنی جا مع رپورٹیں تیار کیں۔ ان کے بعد آ نے والے وفاقی محتسب سید طا ہر شہباز نے کام کو مز ید آ گے بڑھایا اور نہ صرف سالا نہ فیصلوں کی تعداد ایک لا کھ سے تجا وز کر گئی بلکہ کمیٹیوں کی رپو رٹوں کی سفارشات پر عملد رآمد میں بھی خا صی پیش رفت ہوئی۔موجودہ وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی انتظا می امور کا وسیع تجر بہ رکھتے ہیں، چنا نچہ ان کے چا رج سنبھا لنے کے بعد پہلے سال2022 ء کے دوران ہی شکا یات کی تعداد ایک لاکھ64 ہزار174 تک پہنچ گئی، جن میں سے ایک لاکھ 57ہزار 770شکایات کے فیصلے بھی ہو گئے جو کہ سال2021ء کے مقابلے میں 49 فیصد زیا دہ اور وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کی تاریخ میں کسی ایک سال میں موصول ہو نے والی شکا یات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ گز شتہ سال کے دوران اس ادارے کی طرف شکایت کنند گان کے بڑھتے ہوئے رحجان کے با عث دراصل وفاقی محتسب اعجاز احمد قر یشی کی وہ نئی پا لیسیاں اور اقدا مات تھے، جو انھوں نے 27 دسمبر2021 ء کو وفاقی محتسب کا حلف لینے کے فوراً بعد اٹھائے اور صدر دفتر اسلام آباد کے علا وہ اپنے17 علا قا ئی دفا تر کے سر برا ہان کو ان پر عملد رآمد کا پا بند کیا۔ اس سلسلے میں سب سے اہم پروگرام Informal Resolution of Disputes یعنی”تنا زعات کے غیر رسمی حل” کا اجرا ء تھا، جس کے تحت فر یقین کی رضا مند ی سے جر گہ یا پنچا یت کی طرز پر فر یقین کے مختلف النو ع تنا زعات مصا لحتی انداز میں مفت حل کرا ئے گئے مثلاً سر گو دھا، بھلوال، منڈی بہا ؤ الد ین اور دیگر دور دراز کے علا قوں کے لوگوں کے ایک لا کھ سے زائد یو نٹو ں کے بجلی کے اضافی بل واپس کر وا ئے گئے۔ کو ئٹہ میں سو ئی گیس کے بل ادا نہ کر نے پر مصر صارفین سے گیس کمپنی کو ایک کروڑ روپے کے واجبا ت دلا ئے گئے۔ خا ران میں بجلی کے کئی نئے ٹرانسفارمر لگوا ئے گئے اور انشو رنس کمپنیوں سے پا لیسی ہو لڈ روں کو لا کھوں روپے دلوا ئے گئے۔اسی طر ح کھلی کچہر یوں کے انعقا د کا فیصلہ کیا گیا اور سب سے پہلی کھلی کچہر ی وفاقی محتسب نے ما نسہر ہ میں خود لگا ئی، جس سے وفاقی محتسب کے دائر ہ کا ر میں مز ید اضا فہ ہوا چنا نچہ وفاقی محتسب کے علا قا ئی دفا تر کے سینئر افسران نے لسبیلہ، سبی، خیر پور، پنڈ ی بھٹیاں، بھکر، ٹا نک، لیہ اور فا ٹا سمیت ملک کے دور دراز علا قوں اور چھو ٹے قصبوں میں جا کر مقا می انتظا میہ کے تعا ون سے کھلی کچہر یاں لگا ئیں اور دیگر علا قوں میں بھی لگا رہے ہیں، جہاں کو ئی بھی شخص آ کر اپنا مسئلہ بیان کر سکتا ہے، جسے وہاں پر موجود متعلقہ اداروں کے افسران کے ذریعے مو قع پر ہی حل کرا یا جا تا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں