150

خبر دینے والے کی خبر

خبر دینے والے کی خبر
نوک نشتر
ذکیہ نیرذکی

بوجھل قدموں سے زینہ چڑھتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ کیا کہوں گی دلاسے کے لیے سب لفظ کھوکھلے ہیں غم بانٹنے کی ہمت بھی نہیں پھر میں کیسے اسے سنبھالوں گی جس کی متاع حیات لٹ چکی تھی جسکا واحد کفیل آندھی گولیوں کی زد میں آکر جان ہار بیٹھا جسکی حیاتی تاحیات نہ رہی۔۔
ارشد شریف کے دنیا چھوڑ جانے کی خبر مجھے گاؤں میں ملی تھی۔۔پھر پہلی بس پکڑ کر میں اسلام آباد پہنچی سارے راستے یہی دعا کرتی رہی کہ خدا کرے یہ جھوٹ ہو وہ صرف زخمی ہوئے ہوں مگر ایسا نہ ہوا وہ جا چکے تھے اس بار وطن نہیں دنیا چھوڑ کر۔
یہاں پہنچ کر میں سیدھی اس کے پاس پہنچی جو عمر بھر کا روگ سمیٹے بیٹھی تھی جسکا سر کا سائیں پردیس میں بے گناہ مارا گیا تھا میری سہیلی میری کولیگ جیا جو دنیا کے لیے جویریہ صدیق تھی۔۔


میں جب جب کسی مشکل میں گھری تو میری ہمت بندھانے والی جیا اس وقت خود کو سمیٹنے کے امتحاں سے گزر رہی تھی۔۔سرد خانے میں شوہر کی میت سے باتیں کرنے والی جیا۔۔پمز میں شوہر کا پوسٹ مارٹم کروانے والی جیا۔۔فیصل مسجد میں اپنے ارشد کو لوگوں کی محبتوں میں رخصت کرنے والی جیا جو لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر یہ بھی کہتی رہی کہ اسکے شوہر کے قتل کے بعد کی تصاویر مت شئیر کریں اسکے چھوٹے چھوٹے بچے ذہنی کوفت میں مبتلا ہو جائیں گے وہ کہتی رہی ارشد کی موت پر سیاست نہ کریں۔۔اسکے شوہر کا جذبہ اتنا سستا نہیں کہ اسے مفاد پرستی کی سیاست میں جھونک دیا جائے۔۔نہ کریں ایسا خدارا ارشد کی موت کو اپنی اپنی غرض کے لیے استعمال نہ کریں ورنہ تحقیقات ادھوریاور مشکوک رہ جائیں گی۔
ستائس فروری کو رات کے اندھیرے میں جب بھارتی فضائیہ نے بالاکوٹ میں کاروائی کی تو جویریہ صدیق نے جس طرح وطن کی حرمت اور دفاع میں ٹوئٹر پر بھارتیوں کو منہ توڑ جواب دئیے سب نے دیکھا اسکی ٹویٹس کو بھارتی میڈیا نے اپنی خبروں کا حصہ بھی بنایا تھا۔
جب ارشد شریف نے بے بسی اور مجبوری میں وطن چھوڑا تو میں نے جیا سے کہا یہ نہیں ہونا چائیے تھا۔۔ تو بولی”پتہ ہے مجھے سب سے زیادہ دکھ کب ہوا جب ارشد پر پہلی ایف آئی آر کی خبر مجھ تک پہنچی اور جانتی ہو وہ مقدمہ بغاوت کا تھا کیا میں اور میرا شوہر اس وطن سے بغاوت کر سکتے ہیں۔۔کیا ارشد غدار تھا؟”
میرے پاس کوئی جواب نہ تھا کیونکہ ارشد شریف نے اپنی صحافت کے بائیس سال شعبہ دفاع کو دئیے اس سر زمین کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں سے جہاں جہاں محفوظ کرنے کے لیے فوجی آپریشن کیا گیا ارشد شریف نے وہاں وہاں فرنٹ لائن سے رپورٹنگ کی جبکہ وہ اس خاندان کے وارث تھے جنہوں نے اس مٹی کے لیے جان واری تھی۔
جویریہ بھی پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی پر خوب لکھتی ہیں جنگی طیارے ہوں ہیلی ہوں یا آبدوزیں جامع معلومات انکے بلاگز اور کالمز میں موجود ہوتی ہیں۔وطن سے محبت میاں بیوی کے خون میں شامل تھی۔
جب ارشد بھائی سولہ ایف آئی آرز کا بوجھ لیے پردیس کی خاک چھان رہے تھے تو میری اکثر رات میں جیا سے بات ہوتی تھی وہ پریشان تھی کہتی تھی”سچ بولنے کی سزا پتہ ہے کیا ہے جان لینے کی دھمکیاں،اپنا وطن ہوتے ہوئے دیار غیر میں شب و روز کاٹنا اور خاندان کو اللہ کی امان میں دے کر جان ہتھیلی پر رکھ دینا۔۔حق اور سچ کی راہ مشکل ہے بس دعا کرو حالات بہتر ہوجائیں ارشد خیر سے وطن واپس لوٹ ائے”.
لیکن کسے پتہ تھا وہ واپس تو لوٹے گا مگر خاموش وجود کے ساتھ نہ کوئی سوال ہوگا نہ بحث۔۔بس محبتیں اور عقیدتیں اسے کندھا دیں گی اور وہ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے ڈھیروں سوال چھوڑ کر منوں مٹی کا سوئے گا۔۔جہاں نہ اس پر غداری کے فتوے لگیں گے اور نہ ہی دھمکیوں سے بھرے خطوط موصول ہونگے۔
کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے کالے لباس میں بیٹھی جیا کو دیکھ کر دل حلق کو آگیا خالی آنکھیں آنسوؤں سے تر چہرہ کپکپاتے لب جن پر ارشد کے سوا کوئی کلام نہ تھا۔۔مجھے دیکھا تو بولی “دیکھو میرے ارشد کو کسی نے مار دیا خبر دینے والا خبر بن گیا اسکے لیے وطن کی زمین تنگ کر دی گئی تھی وہ اب آگیا ہے کسی سے کچھ نہیں پوچھے گا لیکن بتاؤ میرے ارشد کو انصاف ملے گا ناں “؟


اور میرے پاس اس کے اس سوال کے جواب میں نہ کوئی امید تھی نہ دلاسہ کیونکہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کچھ قتل کے کھرے چاہے قاتل تک پہنچ بھی جائیں مگر ہاتھ اسکی گردن تک نہیں پہنچ پاتا۔۔اسی لیے تو عدالتوں کے باہر لگے انصاف کے ترازہ میں طاقت والا پلڑا ہمیشہ بھاری رہتا ہے۔
جیا مگر میں دعاگوہ ہوں اللّٰہ تمہارے ارشد کے معاملے میں عدل ضرور کرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں