267

نوجوان ووٹرز اور اسپورٹرز

عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی پچھلے دو سال سے ملک میں جاری غیر یقینی کی صورتحال کسی حد تک کم ہوتی دکھائی دیتی ہے مستحکم جمہوریت کے ساتھ ساتھ مضبوط معاشی ڈھانچے کے لیے بیلٹ باکس تک عوام کی شفاف اور غیر جانبدار رسائی کسی بھی ملک کی ترقی کی ضمانت ہے. ستمبر دو ہزار تئیس میں الیکشن کمیشن نے ووٹرز کے حوالے سے اعدادوشمار جاری کیے الیکشن کمیشن کے مطابق اب پاکستان میں ووٹ ڈالنے کے اہل افراد کی تعداد بڑھ کر 12 کروڑ 69 لاکھ سے زیادہ ہو چکی جن میں نوجوان ووٹرز جنکی عمریں 18 سے 35 سال تک ہیں کی تعداد 5 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہے۔ یعنی پاکستان میں اس وقت ووٹ ڈالنے کے اہل افراد میں سے 45 فیصد نوجوان ہیں۔نوجوانوں میں انتخابات کے نتائج اور ملک کی مستقبل کی سمت کو متاثر کرنے کی نمایاں صلاحیت اور طاقت ہے اب ایسے میں نوجوان ووٹرز کو کس طرح انتخابی عمل کیطرف متوجہ کیا جاسکتا ہے اور انکی شمولیت کس حد تک یقینی ہوسکتی ہے یہ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کی سوچ پر منحصر ہے۔
سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی اب تک کی کسی سیاسی جماعت نے جوانوں کی بہتری کے لیے عملی اقدامات نہیں اٹھائے یہی وجہ ہے کہ اکثریت پڑھ لکھ کر بھی اپنے ملک کے بجائے مغرب کے روزگار کو ترجیح دیتے ہیں ملکی بگڑتے حالات اور روزگار کے فقدان کے باعث پڑھے لکھے جوانوں کا بیرون ملک رجحان بڑھ رہا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق پچھلے ایک سال اس رجحان میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔بدقسمتی تو یہ ہے کہ اب اکثریت غیر قانونی طریقے تک سے یہ ملک چھوڑنے کی خواہشمند ہے پاکستان کی معیشت کئی سالوں کی بدانتظامی اور سیاسی عدم استحکام کے سبب بے شمار مسائل میں گھری ہوئی ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں روپے کی قدر میں کمی کے باعث معتدل تنخواہ میں بھی گزارہ کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ملک میں خراب ہوتی اس معاشی صورتحال کے پیش نظر نوجوان اپنی معاشی حالت سدھارنے اور اپنے خاندانوں کے آرام دہ مستقبل کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر غیر قانونی راستے اختیار کر کے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ ابھی حال ہی میں ہم نے اٹلی کے ساحل پر پاکستانی نوجوانوں کے خوبصورت مستقبل کے خوابوں کی تکلیف دہ تعبیریں دیکھیں۔ حادثے ہوتے ہیں، سانحے ہوتے ہیں، ماتم ہوتا ہے اور پھر سے وہی ہمارے جوان روشن مستقبل کے لیے یہ سرخ جوا کھیلنے کو تیار ہوجاتے ہیں ہمارے مستقبل کے یہ معمار بیرون ملک چھوٹے سے چھوٹا کام کرنے کو تیار ہیں ہمارے ملک کے نظام کا یہ حال ہے کہ اگر کسی نوجوان کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی ہو تو وہ روزگار کے حصول کے لیے شب وروز ایک کر دیتا ہے لیکن ہمارے کرتے دھرتوں کی طرف سے نوکری کے بجائے دھتکار اسکے حصے میں ڈال دی جاتی ہے تو پھر قانونی یا غیر قانونی کسی بھی طریقے سے ملک چھوڑ جانا ہی اسکا آخری راستہ ٹھہرتا ہے۔
دوہزار اٹھارہ کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف واحد جماعت تھی جس نے نہ صرف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بلکہ جلسے جلوسوں میں بھی نوجوانوں کو شریک رکھا نوجوانوں کے لیے ایسے منشور اور نعرے ترتیب دئیے جن سے سیاست کے میدان میں انکی دلچسپی بڑھی اسکے بعد کسی حد تک تو پاکستان کی سیاست نے باشعور نوجوانوں کو متاثر کیا یہی وجہ ہے کہ اب کئی سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو اہم حلقوں سے امیدوار ٹھہرانے کا اعلان کر رہی ہیں خدا جانے اس کہے پر عمل ہو نہ ہو مگر لگتا یہی ہے کہ یہاں الیکٹ ایبلز آڑے آجائیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو ہر تھالی میں سیٹ ہوجاتے ہیں حکومت آمر کی ہو یا عوامی نمائندے کی یہ “نگینے”ہر ہار میں جڑ جاتے ہیں اور اسکی وجہ ہمارا بوسیدہ علاقائی نظام جہاں ان لوگوں کا اثرو رسوخ طاقت اور خوف کا سیاہ سایہ بنے ووٹرز کے سروں پر منڈلاتا رہتا ہے جہاں کسی نئے امیدوار کو نہ موقع دیا جاتا ہے نہ راہ۔۔
ووٹر ہوں یا اسپورٹرز نوجوانوں کی رائے اہمیت کی حامل ہے آبادی کا ایک بڑا حصہ ہونے کے حیثیت سے انکا ووٹ بھی اہم ہے اور انکی کسی بھی جماعت کے ساتھ اسپورٹ بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی ضرورت اس امر کی ہے کہ آنے والے انتخابات میں ہر بڑی سیاسی جماعت پاکستان کے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا نہ صرف نعرہ لگائے بلکہ ایسا لائحہ عمل بھی سامنے رکھے جسے دیکھ کر ان کا ملکی نظام پر اعتماد بحال ہو مفت تعلیم سے لیکر روزگار کے باعزت اور بہترین مواقع فراہم کرنا ہر جماعت کے منشور کی پہلی شق ہونی چائیے تاکہ ہم بھی ترقی کرتی دنیا کے پیروں سے پیر ملا کر دوڑ سکیں نہ کہ گیس اور بجلی کے بلوں کو بھرتے بھرتے ہی اپنے سروں میں چاندی اور چہروں پر جھریاں سجا بیٹھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں