52

پاک، ایران، روس تجارت کے حوالے سے بڑی پیشرفت

اسلام آباد(روزنامہ استحکام)وزارت تجارت نے روس، ایران اور افغانستان سے بارٹر تجارت کے طریقہ کار کا اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ ریاستی ملکیتی اور نجی ادارے اشیاء کے بدلے اشیاء کی تجارت کر سکیں گے۔پاک، ایران، روس تجارت کے حوالے سے بڑی پیشرفت ہوگئی، حکومت نے پاک ایران، پاک روس بارڈر تجارت کی اجازت دے دی۔

وزارت تجارت نے اس حوالے سے بزنس ٹو بزنس بارٹر ٹریڈ رولز جاری کردئیے۔اعلامیے کے مطابق ریاستی ملکیتی اور نجی ادارے اشیاء کے بدلے اشیاء کی تجارت کر سکیں گے تاہم نجی اداروں کا ایف بی آر کی ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں ہونا ضروری ہے۔پاکستان سنگل ونڈو سسٹم اور امپورٹ ایکسپورٹ کا لائسنس بھی بنیادی شرط ہوگی، اشیاء کی تجارت کیلئے ایف بی آر کے آن لائن پورٹل کے ذریعے درخواست دینا ہوگی۔

اشیاء کی تجارت کیلئے متعلقہ ملک میں پاکستانی مشن سے تصدیق بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔وزارت تجارت حکام کے مطابق پاکستان سے دودھ، کریم، انڈے، سیریل ایکسپورٹ کیے جا سکیں گے، گوشت، مچھلی کی مصنوعات، پھل، سبزیاں بھی فہرست میں شامل ہیں۔حکام کے مطابق چاول، بیکری آئٹمز، نمک، آئل، پرفیوم اور کاسمیٹکس بھی برآمد ہو سکیں گے، کیمیکل، پلاسٹک، ربڑ، چمڑا، لکڑی کی مصنوعات بھی ایکسپورٹ کی جا سکیں گی۔ پیپر، فٹ ویئر، لوہا، اسٹیل، تانبا، ایلومینئم، کٹلری بھی فہرست میں شامل ہیں،

پاکستان الیکٹرک فین، ہوم ایمپلائنسز، موٹر سائیکلز بھی برآمد کر سکے گا۔اعلامیے کے مطابق سرجیکل آلات اور کھیلوں کا سامان بھی ایکسپورٹ کیا جائے گا، روس سے بارٹر سسٹم کے تحت گندم، دالیں، پیٹرولیم مصنوعات امپورٹ کی جائیں گی۔ روس سے کھاد اور ٹیکسٹائل مشینری بھی درآمد کی جائے گی، وزارت تجارت ہمسایہ ملکوں سے آئل سیڈز، منرل، کاٹن بھی درآمد کی جا سکے گی، افغانستان اور ایران سے پھل سبزیاں، مصالحے، خشک میوہ جات درآمد کی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں