34

صدر نے دستخط کردیے،عاصم منیر آرمی چیف، ساحر شمشاد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بن گئے

اسلام آباد:(روزنامہ استحکام)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نئے اہم تعیناتی کی سمریوں پر دستخط کر دیئے ہیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عاصم منیر کی بطورِ آرمی چیف اور ساحر شمشاد کی بطورِ چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف تقرری کے حوالے سے سمری پر دستخط کر دیئے ہیں۔

اس سے قبل وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ساحر شمشاد مرزا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف اور سید عاصم منیر کو چیف آف دی آرمی سٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ سبکدوش ہونے والے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دراصل 2019 میں ریٹائر ہونا تھا تاہم ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل وزیر اعظم عمران خان نے اگست 2019 میں ان کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی تھی۔

خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فوجی قیادت کی تقرری کے معاملے پر دباؤ کے باوجود فیصلہ میرٹ پر کیا گیا، سنیارٹی کے اصول پر فیصلہ ادارے کی مضبوطی کے ساتھ ملک میں استحکام باعث بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ سینارٹی کا اصول اداروں کو مضبوط بناتا ہے، معاشئ مضبوطی کے لیے نشنل ڈائیلاگ کی تجویز پر قائم ہوں۔ معاشی مضبوطی ہماری اولین ترجیح ہے۔ انشاء اللہ معاملات اگے چلیں گے معیشت مضبوط ہوگی۔ ملک میں انتشار افراتفری کی گنجائش نہیں۔

وزیر اعظم سے ڈی جی آئی ایس آئی کی ملاقات

وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف سے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم نے ملاقات کی۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی ایس جنرل ندیم انجم نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کو ملاقات میں ملکی سکیورٹی امور پر بریفنگ دی۔

ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو موجودہ امن و امان کی صورتحال پر بھی بریف کیا۔

عاصم منیر کے کیریئر پر ایک نظر

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر سب سے سینئر لیفٹیننٹ جنرل ہیں، ستمبر 2018 میں انہیں دو سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی لیکن دو ماہ بعد چارج سنبھالا۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ایک بہترین افسر ہیں، عاصم منیر منگلا میں آفیسرز ٹریننگ سکول پروگرام کے ذریعے سروس میں شامل ہوئے اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، وہ اس وقت سے موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف کے قریبی ساتھی رہے ہیں جب سے انہوں نے جنرل باجوہ کے ماتحت بریگیڈیئر کے طور پر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز میں فوجیوں کی کمان سنبھالی تھی جہاں اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کمانڈر ایکس کور تھے۔

بعد ازاں انہیں 2017 کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس مقرر کیا گیا اور اگلے سال اکتوبر میں آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا۔

تاہم اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کے طور پر ان کا اس عہدے پر قیام مختصر مدت کے لیے رہا، آٹھ ماہ کے اندر ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تقرر کردیا گیا تھا۔

جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے طور پر منتقلی سے قبل انہیں گوجرانوالہ کور کمانڈر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا جہاں وہ اس عہدے پر وہ دو سال تک فائز رہے تھے۔

ساحر شمشاد مرزا کا فوج میں متاثر کن کیریئر

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا تعلق سندھ رجمنٹ سے ہے جو کہ موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کا پیرنٹ یونٹ ہے، لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا فوج میں بہت متاثر کن کیریئر رہا ہے اور گزشتہ 7 برسوں کے دوران انہوں نے اہم لیڈر شپ عہدوں پر بھی کام کیا ہے۔

ان کو جنرل راحیل شریف کے آخری دو برسوں میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی حیثیت سے توجہ ملنا شروع ہوئی۔ اپنی اس حیثیت میں وہ جی ایچ کیو میں جنرل راحیل شریف کی کور ٹیم کا حصہ تھے جس نے شمالی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن کی نگرانی کی اور کواڈریلیٹرل کوآرڈینیشن گروپ (کیو سی جی) میں بھی کام کرتے رہے۔

پاکستان، افغانستان، چین اور امریکا پر مشتمل اس گروپ نے ہی بین الافغان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، سرتاج عزیز کی زیر قیادت گلگت بلتستان میں اصلاحات کے لیے بننے والی کمیٹی کا بھی حصہ تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل بننے کے بعد انہیں چیف آف جنرل سٹاف تعینات کیا گیا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ فوج میں عملی طور پر چیف آف آرمی اسٹاف کے بعد دوسری طاقتور ترین شخصیت بن گئے۔

اس حیثیت میں وہ خارجہ امور اور قومی سلامتی سے متعلق اہم فیصلہ سازی میں شامل رہے۔ 2021 میں چینی وزیر خارجہ وینگ ژی کے ساتھ ہونے والی اسٹریٹجک بات چیت میں بھی وہ سابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ تھے۔

اکتوبر 2021 میں انہیں کور کمانڈر راولپنڈی تعینات کیا گیا تاکہ انہیں آپریشنل تجربہ حاصل ہوجائے اور وہ اہم عہدوں کے لیے اہل ہوجائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں