125

صنفِ نازک

ہاۓ یہ زندگی اور اس سے لڑتی صنفِ نازک، لڑکی جب پیدا ہوتی ہے ہمارے سو کالڈ مہذب معاشرے میں منفی سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں اور پہلا ٹارگٹ ماں ہوتی ہے، بیٹی کو اللہ تعالیٰ نے رحمت قرار دیا ہے لیکن پھر بھی اسے بہت کڑے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے اسی لیے اسے صنف نازک کہا جاتا ہے ، اسلام ایسا مذہب ہے جو دوسرے مذاہب کی نسبت عورتوں کو زیادہ حقوق دیتا ہے اسلام میں عورت کو دو حقوق حاصل ہیں ایک والد کی طرف سے اور ایک خاوند کی طرف سے ، لیکن اہم بات یہ ہے کہ عورت کو مالی حقوق سے زیادہ والد یا بھائی کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزار سکے اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکے ، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوتا صنفِ نازک کو معاشرے کی دکیہ نوس باتوں کی نظر کر دیا جاتا ہے اور اس کا مستقبل روند کر رکھ دیا جاتا ہے ، اس کے دل میں پہلے سے ہی اخلاقی ڈر پیدا کر دیا جاتا ہے ، یہ وہ ڈر ہے جو زمانے کی باتوں سے بچنے کے لیے ہے ، لوگوں کی باتوں کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کی خوشیوں کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں ، لڑکی اکیلے کالج جا رہی تھی ، آج لڑکی نے اس طرح کا ڈریس پہنا تھا ، آج لڑکی کو چھوڑنے کوئی گاڑی میں آیا ، آج لڑکی کے سر پر دوپٹا نہیں تھا ، آج لڑکی موبائل پہ ہنستے ہوۓ باتیں کرتی آ رہی تھی نا جانے کیا کیا بَکتا ہے ہمارا معاشرہ ، حالانکہ بکنے والے لوگوں کے اپنے گھر میں بہن اور بیٹیاں ہوتی ہیں جنہیں وہ اسی ڈر سے تعلیم کے حق سے محروم کر دیتے ہیں ، پاکستان میں آج بھی کچھ پسماندہ علاقے ایسے ہیں جہاں بیٹیاں تعلیم کے حق سے محروم ہیں ، تعلیم تو کیا انہیں شہر کی روشنیوں تک کا نہیں پتا وہ ایک گھر میں آنکھ کھولتی ہیں اور دوسرے گھر میں دفن ہو جاتی ہیں ، انکی مرضی کے بغیر دہیج کے بوجھ کے ساتھ لاد کر کھونٹے سے باندھ دیا جاتا ہے اور اپنی باقی کی عمر ایک تو وہ خاوند کی خدمت کرنے اور پھر اس کے ماں باپ کی ہر بات بَجا لانے میں صَرف کر دیتی ہیں ، پھر اگر اولاد بیٹی ہو جاۓ تو تمام عمر بیٹی پیدا کیوں کی کا سوال پوچھ کر اجیرن بنا دی جاتی ہے ، اور جن کی اولاد تین یا چار بیٹاں ہوں وہ تو خود بھی اس سوچ میں گزار دیتی ہیں کی بیٹی رحمت ہے یا زحمت ؟
عطاء تو اس رب کی بھی بے مثال ہے کسی کو بیٹوں سے نوازتا ہے تو کسی کو بیٹیوں سے لیکن دنیا میں رہنے کا حق سبھی کو یکساں دیتا ہے جو حقوق بیٹوں کو حاصل ہیں وہی بیٹیوں کو بھی حاصل ہیں ، لیکن تفریق کرتا ہے تو ہمارا گھٹیا معاشرہ ، جس کے طور طریقے آج ایک بیٹی کو اسے کھل کر جینے کا حق تک نہیں دیتے ، کم از کم ان بھائیوں کو تو اپنی بہنوں کو سمجھنے کی ضرورت ہونی چاہیے جو خود تعلیم حاصل کرتے ہیں ، ان کی اس حاصل کردہ تعلیم کا کیا فائدہ اگر وہ بھی اپنی بہنوں کو پابند کردیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارا معاشرہ بیٹی کو سمجھے اور انہیں آزادی سے اپنی زندگی جینے کا حق دے ، مٹھائی تب بھی بانٹی جاۓ اگر بیٹی ہو، رشتہ داروں کو بلا کر دعوت بھی دی جاۓ کہ بیٹی ہوئی ہے ،کندھے پہ بٹھا کر دوستوں میں لے جایا جائے کیوں کہ بیٹی ہے ، اعلی سکول میں تعلیم دلائی جاۓ ، اس سے پوچھا جاۓ کیا بننا چاہتی ہو بڑی ہو کر بیٹی کے خواب کی تعمیل کی جاۓ ، اچھا مستقبل دیا جاۓ اسکو اتنا مضبوط کیا جاۓ تاکہ اپنی مصیبتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے ، مختصر یہ کہ بیٹی کو صرف اپنایا نہیں سمجھا جاۓ ، اللہ نگہبان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں