73

سوشل میڈیا

جب دنیا کی تخلیق کی گئی اور انسان بنایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا کے تمام اشیاء کے بارے میں علم دی۔ فرشتوں نے تو انسان کی تخلیق سے پہلے اعتراض اٹھایا تھا کہ انسان کی تخلیق کے بعد دنیا میں فساد کرے گا، ایک دوسرے کی خون بہائے گا لیکن اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی اس اعتراض کو مسترد کردیا تھا اور فرمایا کہ میں جو کچھ جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ بیشک دنیا کی ہر چیز کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہے۔ خیر میں اب اس واقعے کی گہرائی میں نہیں جانا چاہتی بس اتنا ضرور کہوں گی کہ جب انسان کی تخلیق کی گئی اور انسانوں کو مختلف کو قبائل میں بانٹ دئے گئے تاکہ ایک دوسرے کی پہچان کرسکے تو یہی قبائل ابادی میں اضافے کی وجہ سے رفتہ رفتہ ایک دوسرے سے دور جانے لگے اور ایک دوسرے کے درمیان فاصلے بڑھنے لگے۔
وقت گزرتا گیا، قبائل تعداد میں بہت بڑھ گئے اور اسی طرح انکے بیچ فاصلے بہت زیادہ بڑھ چکے تھے تو انکے تمام کاروبار اور ذریعہ مواصلات ختم ہونے لگے۔ کیونکہ ان دونوں کیلئے کوئی ذرائع کا ہونا ضروری ہے اور اس وقت کوئی ذریعہ نہیں تھا پھر لوگوں نے آمد و رفت کیلئے گھوڑوں اور اونٹوں کو استعمال شروع کیا اور مواصلات کیلئے خط و کتابت کا آغاز کیا گیا۔ وقت گزر گیا اور آبادی بڑھنے لگی فاصلے اور بھی بڑھنے لگی تو یہ دونوں صورتوں میں ایک دوسرے کے ساتھ روابط اور آنا جانا معمول سے زیادہ مشکل ہونے لگا۔

ضرورت ایجاد کی ماں ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور آگیا موبائل فون ایجاد ہوا، فیکس مشین آگیا اس کے ساتھ ساتھ اور بھی نئی قسم کی چیزیں سامنے آگئی۔ لوگوں نے ان ایجادات سے فوائد اٹھانا شروع کردئیے لیکن جیسا ہی وقت اور بھی ماڈرن ہوگیا تو یہی ماڈرن ایجادات بیکار ہونے لگی اور انسانوں کو اور نئی قسم کی ایجادات کی ضرورت پڑگئی۔
سائنس دانوں نے انسانی سماجی روابط اور کاروباری ماحول کو اور بھی بہتر بنانے کیلئے انٹرنیٹ کو متعارف کروایا جسکی وجہ سے انسانی زندگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی آنے لگی۔ لوگوں کی سماجی روابط تیز ہوگئی لوگ دور ہوتے ہوئے کبھی بھی یہ محسوس نہیں کرسکتے کہ وہ دور ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر اور دیگر ایپس کی وجہ سے ایک طرف لوگوں کی سماجی روابط تیز ہوگئی تو دوسری طرف ان لوگوں نے انہی ایپس کی وجہ سے آنلائن کاروبار شروع کردی جسکی وجہ سے انکی معاشی حالات میں بھی مثبت تبدیلی آچکی ہے۔
جیسا کہ میں نے ساری چیزیں مختصراً بیان کیا کہ پہلے انسان کیسے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کرتے تھے اور کیسے آتے جاتے تھے اور انکی کاروباری زندگی کیسی تھی اور آج کل کیسی ہیں۔ جانتی ہوں سب کچھ سامنے بھی ہیں اور کوئی ان چیزوں سے انکار بھی نہیں کرسکتا۔
سائنس دانوں نے اگر یہ ایجادات کی ہے تو محظ ایک سماجی رابطے کیلئے اور زیادہ سے زیادہ کاروباری سرگرمیوں کیلئے لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاکستان میں ان چیزوں کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے یہ بھی سب کو معلوم ہے۔ جس چیز کی جو بھی کردار ہے ہم نے وہ نہیں کرنے دیا۔ ہم سوشل میڈیا کو صرف ٹائم پاس اور ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا کو دوسروں کی عزت پامال کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں اور تو اور ہم سوشل میڈیا پر ہر کسی سے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں۔ افواہیں پھیلانے میں ہم کسی سے کم نہیں اور اکثر ہم اسی سوشل میڈیا پر مولویوں جیسی ہستی بن جاتے ہیں لوگوں کو تبلیغ دینے لگ جاتے ہیں کہ یہ برائی ہے یہ نہ کرو یہ نہ کرو لیکن جب ہمارے ہی سامنے کسی دوسرے انسان کی عزت پامال کرنے والی کوئی چیز ہو، کوئی تصویر ہو یا کوئی ویڈیو- تو پہلے ہم ہی انکو وائرل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم انکو وائرل کرتے وقت یہی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ پہ رحم کریں لیکن ایک ہم ہیں کہ ہم ان پہ رحم نہیں کرتے۔۔
ہماری سوچ انتہائی گھٹیا ہوچکی ہے اور ہم انتہائی نیچے درجے تک پہنچ گئے ہیں۔ ہم کس توقع کے ساتھ اللہ سے اپنی مغفرت کی دعا مانگتے ہیں حالانکہ ہماری سوچ اور ہمارا کردار غیر مسلموں سے بھی بد تر ہوچکا ہے۔ تھوڑا ہی سہی لیکن ان چیزوں کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ ہم کیوں پیدا کئے گئے تھے اور ہم کر کیا رہے ہیں۔ امید ہے اگر ہم نے تھوڑا سا بھی سوچا تو ہمیں ہمارا ضمیر کوئی نہ کوئی جواب ضرور دےگا جس کی وجہ سے ہم زندگی میں بڑی تباہی سے بچ سکتے ہیں جو کہ ہماری اس دنیا اور آخرت کیلئے بھی باعث خیر و برکت ہوگا انشاء اللہ۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو سدا کامیاب و کامران رکھے اور ہم سب کو غلط راستوں سے بچا کہ رکھے اور صراط مستقیم پہ چلنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ثم آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں