50

سرپرائز

تحریر ۔ کائنات خان

پاکستان کی سیاست میں سال 2022 ایک سرپرائز والا سال تھا لیکن یہ سرپرائزز ابھی ختم نہیں ہوئی، سال 2023 کی شروع ہی میں سرپرائز پہ سرپرائز دئے جارہے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کو آج تک بہت زیادہ سرپرائز دئے لیکن ان میں کچھ سرپرائز چھوٹے تھے اور کچھ بڑے۔ کچھ سرپرائز ایسے تھے جس کی وجہ سے عوام خوش نظر آئے تو کچھ سرپرائز ایسے بھی تھے جسکی وجہ سے نہ صرف عوام میں غم و غصہ پایا گیا بلکہ آج تک پاکستان کی معیشت کا بیڑہ غرق ہوچکا، ایسا بیڑہ غرق ہوچکا جسکا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ عوام پہ آنے والے دور میں ٹیکس پہ ٹیکس لگایا جائے گا اور مہنگائی کہ شرح میں اور بھی اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ پاکستان میں ان سرپرائزز کا دور پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت کے خاتمے سے کچھ ماہ قبل شروع ہوا جسکا سب سے پہلے والا سرپرائز وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد تھی جو مارچ 2022 کو عمران خان کے خلاف پیش کی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف باقی ساری چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے اتحاد کرکے ایک پی ڈی ایم بنائی جسکی صدارت مولانا فضل الرحمان صاحب کر رہے تھے۔ پی ٹی آئی کی دور حکومت میں جو تھوڑی بہت منہگائی نے سر اٹھای تھی اس کے خلاف پی ڈی ایم نے مہنگائی مارچ کئے تھے جن میں ایک مارچ مریم نواز نے کروائی تھی، ایک مارچ بلاول بھٹو نے کروایا تھا اور ایک مہنگائی کے خلاف مارچ مولانا فضل الرحمان صاحب نے کروایا تھا۔
ان سارے مارچوں سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا، ادھر سیاسی جماعتوں نے اتحاد قائم کیا تھا تو دوسری طرف عمران خان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات خراب ہونے لگے جو کہ ایک اور سرپرائز تھا۔ عمران خان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات خراب ہونا یقیناً دونوں فریقوں کے لئے ایک بہت بڑا سرپرائز تھا کیونکہ پی ڈی ایم میں تو پہلے کوئی دم نہیں تھا کیونکہ انہوں نے تو عمران خان کی حکومت شروع ہوتے ہی انکے خلاف کئی بار اکٹھے ہونے کی کوشش کی لیکن سارے ناکام ہوجاتے کیونکہ انکا مقصد ایک نہیں تھا۔ مسلم لیگ ن کا ایک اور مقصد تھا تو پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک اپنا مقصد تھا۔ اسی طرح ہر ایک پارٹی کا اپنا اپنا ایک مقصد تھا اسی طرح جمعیت علمائے اسلام ف کا بھی اپنا ایک مقصد تھا انکا مقصد تو صاف تھا اور وہ تھا کرسی……. کرسی انکا پہلے دن سے مقصد تھا لیکن عمران خان نے تو حکومت میں آنے سے پہلے ایک وعدہ کیا ہوا تھا کہ جب میں اقتدار میں آؤنگا تو جمعیت علمائے اسلام والے کو اپنے ساتھ نہیں بیٹھنے دونگا اور انہیں اپوزیشن میں بیٹھا کر ایک ریکارڈ بناؤ گا جو کہ اس نے کرکے دکھایا۔ خیر جمعیت علمائے اسلام ف والوں کو تو صرف اور صرف کرسی کی پڑی ہوئی تھی اور بہانا مہنگائی کا بنایا۔۔۔۔۔۔۔
جب سے عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب ہونا شروع ہوگئے تو یہ ایک بڑا سرپرائز تھا اور پی ڈی ایم کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ایک گرین سگنل مل گیا اور اسی گرین سگنل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے ضمانت مانگ لئے گئے اور اسی طرح انہیں باور کرایا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی پوری طاقت آپکے ساتھ ہونگی اور آپکے اس اتحاد کو اور بھی مضبوط بنانے میں ہم اہم کردار ادا کریں گے۔
یقیناً یہ باور کرانا بھی عمران خان کیلئے ایک سرپرائز تھا جس سے نکلنے کیلئے اس کے ساتھ کوئی راستہ نہیں تھا لیکن تب تک عمران خان کو بھی کئی بار باور کروایا گیا تھا کہ ہم تو تسلسل چاہتے ہیں۔ عمران خان کی لاعلمی تھی کیونکہ گروانڈ میں کچھ اور تھا اور پلانز میں کچھ اور۔۔۔۔۔ شاید عمران خان کی اس لاعلمی کی وجہ عمران خان کا جنرل(ر) باجوہ پہ بھروسہ تھا۔ جب اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے پی ڈی ایم کو آکسیجن مل گیا تو پی ڈی ایم میں جان آگئی اور تب سے ان ساروں نے عمران خان کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تو اسی سلسلے میں مارچ مہینے میں تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔۔ اور یوں عمران خان نے عدم اعتماد کو ناکام بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی۔ اسٹیبلشمنٹ کو کئی بار سمجھاتا رہا کہ اگر حکومت کو گرائی گئی تو معیشت بگڑ جائے گی اور ان سے نہیں سنھبالا جائے گا لیکن کسی نے انکا کوئی ایک بھی نہ سنی۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے جب رولنگ دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو ختم کرکے ڈسٹ بن میں ڈال دیا اور فورا بعد عمران خان نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پہ دستخط کرکے صدر مملکت عارف علوی کو بھیج دی تو اسی حرکت پہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ازخود نوٹس لیا اور اسمبلی کی تحلیل کو کالعدم قرار دیا اور عمران خان کو عدم اعتماد کا سامنے کرنے کا فیصلہ کردیا اور یوں عمران خان کو رسی سے باندھ کر زبردستی سے عدم اعتماد کا سامنا کرنے کیلئے لیکر آئے۔
9 اپریل کی رات 12 بجے سے پہلے پہلے عدالتیں کھول دی گئی جو کہ پاکستان کے تاریخ میں ایک بہت بڑا سرپرائز تھا۔۔۔ قومی اسمبلی کے باہر قیدیوں والی ویگنیں بلائی گئی جو کہ ایک بڑا سرپرائز تھا کیونکہ تب وزیراعظم عمران خان تھے، سارا سسٹم تب تک پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھ میں تھا لیکن کنٹرول کوئی اور کر رہا تھا جو کہ ایک بڑا سرپرائز تھا۔ اعتماد کے ووٹنگ ہوئی تو شہباز شریف کو پاکستان کا نیا وزیراعظم مقرر کردیا جو کہ ایک اور سرپرائز تھا اور یوں ملک پی ڈی ایم کے حوالہ کردیا اور ملک کی چلتی پھرتی معیشت کو رفتہ رفتہ متاثر کرکے معیشت کا گراف نیچے آنا شروع ہوگیا اور بلآخر حال میں ورلڈ بینک کے نئے رپورٹ کے مطابق پاکستان کا 2023 میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ 2.3 تک رہنے کا امکان بتایا ہے جو کہ ایک بہت بڑی بدقسمتی ہے کیونکہ پچھلے سال پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ ریٹ 6.1 فیصد تھی اور اسی سال 2.3 فیصد رہنے کا امکان بتایا جارہا ہے جو کہ بہت زیادہ کمی کی طرف جارہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا ٹوٹل فارن ریزرو 23 ارب ڈالر سے 4.5 ارب ڈالر تک لے آیا جو کہ دیوالیہ ہونے کے بہت زیادہ قریب لیکر آیا۔ عمران خان نے 17 سال بعد پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ ریٹ 6.1 فیصد تک بڑھائی جوکہ ایک بڑا سرپرائز تھا ساتھ ساتھ ملک کی ٹوٹل فارن ریزرو 23 ارب ڈالر تک پہنچا دیا تھا یہ بھی ایک بڑا سرپرائز تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں