68

کون بنے گا نیا سپہ سالار

ان رُتوں میں لندن کی فضائیں کافی سرد ہوتی ہیں لیکن بھلا ہو پاکستانی سیاست کا جو گجرنوالہ سے لیکر ولایت تک پھلتی پھولتی جارہی ہے تبھی اجکل لندن کا ماحول گرم ہے۔۔کبھی دبئی کے مہمان خانوں میں پاکستانی سیاست کی گھتیاں سلجھانے کی کوششیں کی جاتی تھیں کیا نظام رائج ہو کون بنے گا وزیر اعظم کس کو کونسے سیاسی اسٹیشن پر اتار دینا ہے یہ سب فیصلے دبئی کے وینیو پر ہوا کرتے تھے۔ موجودہ حکومتی سیٹ اپ لگنے کے بعد اور شریف خاندان کی وہاں موجودگی کیوجہ سے اب تو کابینہ کے اجلاس بھی اسلام آباد کے بجائے لندن میں ہی منعقد ہوتے ہیں ۔۔

خیر بات ہورہی ہے فیصلوں کی تو اکتوبر سے ہی نئے سپہ سالار کی تعیناتی کو لیکر سیاسی رسہ کشی جاری ہے عوامی مفاد کے نام پر جلسے جلوس ہوں یا پھر سلگتے الجھتے بیانات۔۔وجوہات پیچھے ایک ہی دکھائی دیتی ہیں کہ بندہ ہماری مرضی کا لاؤ۔۔اگر تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے جائیں تو “اپنے بندے” والا فارمولا زیادہ راس نہیں آیا حکمرانوں کو اور خصوصاً ن لیگ کے دور میں تو کئی تعیناتیاں ہوئیں اور پھر پچھتاوے بھی دیکھے گئے۔ لیکن پھر بھی ضد وہی ہے کہ “جسے ہم چائیں اسے ہی لاؤ”۔
کچھ دن پہلے ایمرجنسی میں وزیراعظم شہباز شریف کو لندن جاتے دیکھا گیا چہ میگوئیاں تھیں کہ معاملہ بہت اہم ہے تبھی غیر ملکی دورے سے وطن واپس آنے کے بجائے لندن کی فلائیٹ پکڑنی پڑی۔

لندن میں شہباز نواز ملاقات ہوئی اس اہم بیٹھک میں کوئی عسکری شخصیت شامل نہ تھی میٹنگ میں بڑے اور چھوٹے میاں صاحب انکے صاحبزادے اور صاحبزادی ہی موجود تھے لیکن ملاقات کے بعد کچھ صحافیوں کے ذریعہ یہ خبر کانوں تک پہنچی کہ یہ ملاقات نئی تعیناتی سے متعلق تھی اور فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ “موسٹ سینئر افسر کو سپہ سالار مقرر کیا جائے گا”.

اب دیکھا دیکھی سوشل میڈیا پر خبر آگ کی طرح پھیل گئی کسی ایک نے یہ سوچنے کی زحمت نہ کی کہ یہ تعیناتی کب ہوگی تاریخ کیا ہے؟کیونکہ اگر معاملہ موسٹ سینئر کو تعینات کرنا ہی ہے تو اسکے لیے ریٹائرمنٹ کی تاریخ کو مدِنظر رکھنا پڑے گا۔
ن لیگ کا اشارہ اگر جنرل عاصم منیر کی طرف ہے جو کہ جنرل باجوہ کے بعد موسٹ سینئر ہونگے تو انکی ریٹائرمنٹ 27 نومبر کو ہورہی ہے اگر تعیناتی 29 نومبر کو کرنی ہے تو تب تک جنرل عاصم منیر ریٹائرڈ ہونگے جبکہ انکے بعد جنرل ساحر شمشاد ادارے میں موسٹ سینئر افسر ہیں انکے بعد جنرل اظہر عباس پھر جنرل نعمان،جنرل فیض اور آخر میں جنرل عامر آتے ہیں۔

اب اس صورتحال میں تعیناتی کی تاریخ اہم ہے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ خبر اڑانے کا مقصد فریق پر دھاک بٹھانا ہے اسے سیاسی چال کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے کیونکہ جس جنرل کی جانب ن لیگ کا اشارہ ہے ان سے اپوزیشن کی ناراضگیاں ہیں جنکی مبینہ وجوہات انہیں عمران خان کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹانا ہے اور فرح گوگی کے مبینہ کرپشن اسکینڈلز کے حوالے سے عمران خان کو آگاہ کرنا تھا۔۔ اب موسٹ سینئر کی تعیناتی کا بیان دینے کا مقصد رد عمل کے طور پر عمران خان کو ادارے کے خلاف مزید غم و غصہ دلانا بھی ہوسکتا ہے۔

جبکہ مریم نواز نے پاک فوج کے معزز اور قابل جنرل عاصم منیر کا اپنی سیاسی پریس کانفرنسز میں بارہا ذکر کرکے انہیں متنازعہ بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔۔ لیکن عمران خان کی کا موقف یہی ہے کہ ہمیں اس معاملے سے کوئی غرض نہیں بس موجودہ حکومت اپنے مقصد کے لیے تعیناتی کی خواہش کو ترک کردے۔۔
یہ بھی ضروری نہیں جو سینئرز کی لسٹ تیار ہو اسی میں سے ہی چیف آف آرمی اسٹاف چنا جائے تاریخ میں کئی بار سینیارٹی کو نظر انداز بھی کیا گیا ہے۔۔ اس بار بھی ہمارے ذرائع کہتے ہیں کہ قرعہ گجرانوالہ کے نام نکل سکتا ہے جبکہ جنرل عاصم منیر کو چئیرمن جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تعینات کیا جاسکتا ہے۔

ایکسٹینشن والا معاملہ اب کسی حد تک ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے جنرل باجوہ کے گریژن کے الوداعی دورے بھی جاری ہے ہیں لیکن سرگوشیاں ہیں کہ حکومت نہیں چاہتی کہ وہ جائیں۔۔جبکہ وہ رکنا نہیں چاہ رہے۔۔تبھی کوئی سمری آگے جاتی دکھائی نہیں دی۔ ملک کی سلامتی قائم ودائم رہے لیکن سیاسی انتشار معاملات کو اس جانب بھی لے جاسکتا ہے۔
اب بات ہوجائے لندن میٹنگ کے حوالے سے تو ہمارے ذرائع یہ کہتے ہیں موجودہ سیاسی بحران کو حل کرنے کے حوالے سے نئے انتخابات پر میاں صاحب کو راضی کرنے کے لیے چھوٹے میاں صاحب “اہم پیغام” لیکر وہاں پہنچے۔۔پیغام پہنچایا گیا کہ نئے انتخابات کی تاریخ دی جائے مئی یا اپریل تک اس معاملے کو نمٹایا جائے کیونکہ عمران خان کا مطالبہ اگر انتخابات ہی ہے تو ملکی استحکام کے لیے اسے مان لیا جائے اور خبر یہی ہے کہ میاں صاحب کو چھوٹے میاں صاحب نے کسی حد تک قائل کر بھی لیا ہے۔۔ اور جلد بڑے میاں صاحب وطن کو واپس لوٹ سکتے ہیں۔

بہرحال پنڈی میٹنگ میں بھی فیصلے یہی ہوئے کہ معاملات جس طرف بھی جائیں نیا سپہ سالار جو بھی ہو اس وقت ملک میں غیر یقینی کی فضا کا خاتمہ اداروں کی ترجیح ہے سیاسی عدم استحکام کیوجہ ملک میں معاشی ڈھانچہ مزید کمزور نہ ہو یہ اہم ہے۔۔کیونکہ خلیجی ممالک کے سربراہان کی دوروں سے پہلے پہلے حالات کو کنٹرول کرنا ہوگا ورنہ خدانخواستہ خالی کشکول بھرنے کی امیدیں پھر کسی سے نہ رکھی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں