732

عید الفطراپنوں کے سنگ

تحریر ۔ یاسر دانیال صابری
عید الفطر کے پر مسرت موقع پر اپنے محسنوں اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ کھٹی میٹھی گفتگو اور مبارک باد کے تبادلوں کے بعد گلے ملنا بہت اچھی بات تھی
ان گنت دعاؤں، نیک تمناؤں اور پرخلوص جزبوں کیساتھ عید منایا گیا اور اللہ پاک جان ، مال ، ایمان ، آبرو، روزی ، رزق ، علم ، عمل ، گھر ،دسترخوان ، اولاد، زندگی ، خوشیوں، عبادات ، تقوی ،اخلاص ، اخلاق ، سادگی ، عاجزی، انکساری اور عمر میں برکتیں، رحمتیں, وسعتیں، رفعتیں، اور عروج و بلندیاں ہر وقت فرمائے ۔
عیدالفطر بلاشبہ آپس میں محبت اور بھائی چارگی کا پیغام دیتا ھے جس سے نا صرف پیار و محبت اور ملنساری کا اظہار ہوتا ہے۔ بلکہ اس میٹھی عید کا ایک یہ بھی خاصا ھے کہ جس کا بچے تو بچے بزرگوں کو بھی شدت و جدت کے ساتھ انتظار ہورہا ھوتا ہے۔ اور جبکہ اس پر مسرت دن کے موقع پر ہم ایک دوسرے سے باہم گلے ملتے ہوئے اور اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے دلوں سے تمام کدورتوں ، نفرتوں ،حسد اور بغض کو جھٹک دیا ہے اور اپنے اپنے دامن میں رحمتیں ،برکتیں اور دعائیں سمیٹ لی ھیں۔۔ نیک تمناؤں اور ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ بارگاہ خداوندی میں دعا کیا کہ رب تعالیٰ ہم سبکو آپس میں اتحاد و اتفاق محبت، اخوت ، بھائی چارگی، الفت، اور پیار سے رہنے کی توفیق دیں۔ اور ہمارے لئے محبتوں کا یہ سلسلہء کو ہمیشہ قائم ودائم رہے۔۔ عیدالفطر تمام مسلمانوں کے لیے خوشی کا دن ہوتا ہے۔۔۔۔۔اس دن کو تمام مسلمان مرد و زن اپنے اپنے انداز میں مناتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔خواتین اس تہوار کو بالعموم منفرد انداز میں مناتی رہی
گلگت بلتستان میں پرانی روایات کی طرح ہر جگہ گاوٴں ،شہر ،محلوں میں گزشتہ عید کو شوق اور جذبات کے ساتھ منایا گیا ۔گلگت بلتستان کے سفید پوش لوگ جو ماہ صیام کے عید الفطر منانے سے قاصر تھے وہاں لوگوں نے عید سے پہلے فطرہ دے دیا گیا تاکہ وہ لوگ بھی عید میں یکساں شریک ہو اور اپنے اپنے بچوں کو نئے کپڑے بنائیں ۔عید سے پہلے گلگت بلتستان کی ہر فیملی کے بڑے بڑے ڈمانڈس تھے۔ہر طرف یہ بات چل رہی تھی آپ نے شوپینگ کیا ہے ۔جن میں گھر کی سجاوٹ سے لیکر کر فیملی کے تمام تر اخرجات شامل تھے ۔دکانداروں کی زبان آسمان سے باتیں کر رہی تھی چیزوں پر دگنی قیمت بتا رہے تھے ۔میری جیب بھی باری تھی لیکن عید کی خرچوں نے بہت ہلکا کر دیا تھا لیکن کیا کریں عید کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے بھائی ،بہن ، بیوی اور بچوں کے عید کی شوپینگ پورا تو کرنا ہیں۔لیکن ایسا بھی نہیں کرنا چاہے کہ صرف شوپینگ اور کھانے کے لئے پیسے ہی نہ ملے ۔چادر دیکھ کر پاوں جمانے چاہئے۔ میں سوچ رہا تھا اس مہنگائی میں ایک کسان اور مزدور کی کیا حالت ہو گئی ہو گی ۔خیر جب شام کو چاندنی رات آ گئی تو چاند کے ساتھ اور کام بھی دیددار یار بھی ہوتا ہے ۔ اور شام سے فون پر مبارک بادیوں کا سلسلہ عید کے شام تک جاری رہی۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ عید کی مبارک بادیاں شروع ہوئی تو سیاسی لوگوں نے مبارک بادیوں کی تبادلے دینا شروع کر دئیں ۔اچھی بات ہے خوشی کے جذبات کا اظہار اور امن کی پیغام اور سلامتی کا دعا مطلب عید مبارک ۔جناب وزیراعظم کی ٹیلی فونک مبارک بادیاں ٹی وی کے چینلز پر بڑی سرخیاں دیکھنے کو ملیں۔مگر سابق وزیراعظم اور وزیراعظم کا بھی ایک دوسروں کو عید کی مبارک بادی دیتے تو بڑی اچھی بات ہوتی ۔۔۔
خیر صبع میں نے اپنے قرب اور عزیزوں کو سوشل میڈیا کے ذریعہ سے پیغام بشارت سنا دی دیا اور عزیزوں کی عیادت اور دعوت پر جانا پڑا ۔۔۔
ایک چیز میں نے جو دیکھا جو معاشرے کے اقداروں پر مبنی نہیں تھی اور یہ کہ دیگر لوگ جو معاشرے کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے انکی مخالف سمجھا وہ یہ کہ گانے کی فضول محفلیں سجانا اور شام تین بجے کے قریب سوشل میڈیا میں دیکھا سب سے عید کی نئے کپڑوں کی چرچے اور دیکھاو انسان کو حقیقت پسند ہونا چاہے دیکھاو پسند نہیں ہونا چاہے۔ لیکن وہ اپنی خوشی کے لئے نہیں کیا بلکہ سفید پوش لوگوں کو سوشل میڈیا میں اپنے آپ کو دیکھانے کے لئے دیکھاویں کیے ہوئے تھے ایسا لگ رہا تھا سب مختلف ویڈیوں اور تصویر اپلوڈ کیا ہوا تھا کہ میں نے عید میں نئے کپڑے بنائے۔ پینٹ شٹ بنائے لیکن یہ عید کی اہمیت کے مطابق نہیں تھا انہوں نے یہ لکھنے یا بولنا گوارا ہی نہیں اور نہ ہی یہ احساس ان سے جھلک رہا کہ جو کپڑے نہیں بنا سکتے جو کہ انکے ہمسایہ یا محلہ والے جن کے گھر کا چولہا بڑی مشکل سے جلتا ہے اور جو پردیسی بھائی ہیں ان پر کیا گزرے گئی خیر یہ ماحول تھا لیکن ایسے اسلامک تہوار میں سب کو مل کر چلنا ہوتا ہے خیر ایسے لوگ دعوت بھی امیروں کے لئے کرتے نظر آ گئے اور غریب طبقہ کو نظر انداز کیا گیا ایسا نہیں ہونا چاہے تھا ۔لیکن گزشتہ سال سے اس سال ماہ صیام مہنگا پڑا۔
اس صیام کے ماہ میں جمعہ کا شرف ملنا عظیم بات تھی ۔۔۔
عید کیا ہے۔ عید نام ہے خوشیوں کا ، ایک دوسرے سے ملنے ملانے دُکھ درد بھول کر اللہ کی نعمتوں رحمتوں کا شکر ادا کرنے کا ، ایک دوسرے کو معاف کرنے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے ( امیر اور غریب) کا عید کا فلسفہ اگر زندگی بھر کے لئے اپنا لیا جائے تو ہماری زندگیاں خوشگوار ہو سکتی ہیں عید کے فلسفے کو صرف عید کے دن تک ، اور رمضان کے فلسفے کو صرف رمضان تک ، محدود نہ کریں۔ساری زندگی اپنائیں تاکہ خوشگوار زندگی گزار سکیں۔
ہر عید پچھلی عید کی طرح نہیں ہوتی۔۔ کچھ لوگ نہیں رہتے ، تو کچھ اپنے نہیں رہتے اور کچھ رشتوں میں پہلے ،جیسی وابستگی نہیں رہتی، ہم اپنی خوشی کے موقعوں پر خوشی کی فضاء خود ہی پیدا کر سکتے ہیں اور یہ خوشی کی فضاء ایک دوسرے کو خوشی پہنچا کر ہی حاصل ہوتی ہے۔
اللّٰہ نے ہم پر عید کے موقع پر فطرانہ لازم کیا ہے۔ کچھ لوگ مجھے جہاں تک پتا ہے اگلا سال عید تک نہیں دیتے وہ تو گناہ میں مبتلا ہے ۔ اور فطرانہ ایذی پیسہ قبول نہیں ہوتی ہے ۔یہ ہر غریب مسلمان کو دینا ہی ہے۔ لیکن جن مسلمانوں کو اللّه نے دولت دی ہے اگر وہ ضرورت مندوں کی اللّه کی رضا کی خاطر خیرات دے کر زیادہ مدد کردیں گے تو یہ لوگ زیادہ آسانی سے عید کی خوشیاں مناسکیں گے۔ اور ان کی عید کی خوشیاں دوبالا ہوجائیں گی۔ عید کا پیغام۔۔۔۔۔۔ “خوش رہیں ۔۔۔خوشیاں بانٹیں۔۔
اے اللّٰہ : ہم سب کے روزے اور ہماری عبادتیں اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور ہم سب کو بخش دے۔ بےشک تو بہت رحم کرنے والا ہے۔۔ اے اللّٰہ تیرا رمضان ہمیں یاد آئے گا اس کی فضائیں یاد آئیں گی ہمیں تیرے رمضان کی عطائیں یاد آئیں گی۔۔۔ یہ فضائیں یہ عطائیں ہماری زندگی میں ہمیشہ قائم و دائم فرما۔۔۔ پورے عالم کے مسلمانوں کو عید الفطر کی خوشیوں سے ہمکنار فرما۔۔۔ اے پاک پروردگار ہماری غلطیوں غفلتوں نادانیوں کوتاہیوں کمزوریوں لغزشوں، خطاؤں، گناہوں بُرائیوں اور نافرمانیوں کو معاف فرما۔۔۔ بیشک تُو بڑا رحمان و رحیم ہے۔۔۔۔اے اللّٰہ ہمارا تیرے سِوا کون ہے بس تُو ہمیں رمضان گزر جانے کے بعد بھی اُنہیں اعمال کے ساتھ اور صراط مستقیم پر گامزن فرما ۔اور رمضان المبارک کے انعامات سے کُل امّت مسلمہ کو سرفراز فرما
آمیـــن ثم آمیــــن یا رب العالمیــن….

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں