143

ریاست کے اندر ریاست


کہنے کو تو اس خطہ زمین کے باسی سن سنتالیس میں آذاد ہوچکے ہیں لیکن دیکھیں تو غلامی کی زنجیر آج بھی زن،زر اور زمین سے لپٹی ہمارے آذادی کے کھوکھلے دعوے پر ہر روز تازیانہ برساتی ہے ہم اس دشمن سے تو آذاد ہوچکے جو ہمیں نیچ جان کر اقلیتوں کی ٹولی میں ہانک دیتا تھا مگر ایک فرعون آذادی کے بعد بھی ہمارے سروں پر سردار وڈیرہ اور نواب بن کر منڈلا رہا ہے۔یہ وہ ملک ہے جہاں قوانین بننا اور ان میں ترامیم کرنا بھی کسی خاص مقاصد کے تحت ہی ہوتا ہے ان قوانین کے نفاذ کے لیے کئی ادارے تشکیل دئیے گئے ہیں برے بڑے عہدے بنائے گئے ہیں جہاں افسران اور انکے ماتحتوں کو مراعات ہمارے ہی ٹیکس کے پیسے سے عطا ہوتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ لشکر سب سہولیات کے کر بھی اپنے حصے کا کام کرنے سے کیوں کر قاصر ہے؟ کیوں عوام آج بھی قرآن ہاتھ میں لے کر تحفظ کی دہائی دیتے ہیں کیوں ملک کے کئی حصوں میں یہ قانونی لشکر بےبس ہوجاتا ہے ایسی کونسی طاقتیں ہیں جو ریاستی اداروں کو اپنے سامنے جھکا دیتی ہیں؟
شخصیات سے کوئی گلہ نہیں اصل غم تو کرداروں کا ہے فرعونیت سے لیکر یزیدیت تک اور پھر نمرود، قارون، ہامان اور ابوجہل سب وہی کردار ہی تو ہیں جنکے جبر سے معاشرتی بگاڑ پیدا ہوتے ہیں جہاں انسانیت ظالم اور مظلوم میں بٹ جاتی ہے ان کرداروں کو ریاستی سرپرستی اس قدر زور آور بنا دیتی ہے ہماری ریاست کا مروجہ نظام انہیں ظلم کرنے کی اجازت دیتا ہے انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے جب شور اٹھتا ہے تو محض دکھاوے کے لیے ان منہ زور ہاتھیوں کو کچھ دن کے لیے نتھ ڈالی جاتی ہے لیکن پھر اس معاملے سے نگاہ ہٹانے کو کوئی اور معاملہ گرما دیا جاتا ہے اور ثبوتوں کے باوجود انہیں عدالتوں سے باآسانی اور باعزت رہائی دے دی جاتی ہے عزتیں یہیں تک نچھاور نہیں کی جاتیں بلکہ وقت کے ان یزیدوں کو سیاسی اور مذہبی پارٹیاں ٹکٹ دینے اور ریاست قوم کی نمائندگی کرنے کی اجازت دیتی ہے۔


کہانی صرف بارکھان کی گراں ناز یا اسکی جواں سالہ بیٹی کے استحصال کی نہیں ہے یہ قصے تو سات دہائیوں سے ہم سنتے چلے آرہے ہیں کتنی ہی ردائیں ان وڈیروں نے ریاست کی نگرانی میں لوٹیں کتنے ہی ہاریوں کی زمینوں پر اپنے نام کے ٹھپے لگا کر انہیں جدی پشتی اپنا غلام رکھا گیا ظلم یہ ہے کہ جب بھی کسی نے اپنے حق کی دہائی کے لیے تحفظ کی دہائی دے اسے اسکے بال بچوں سمیت مار کر کسی کنویں میں پھینک دیا جاتا ہے یا پھر لاش کو تیزاب سے جلا کر ناقابل شناخت بنانے والے بھی یہی قبائلی بدمعاش ہیں آخر کیوں ان لوگوں کو اس قدر چھُوٹ دی گئی ہے کہ یہ دھڑلے سے جرم کرتے ہیں اور مزے سے اسی سر زمین پر دندناتے پھرتے ہیں۔


گراں ناز کا قرآن پاک ہاتھ میں لیکر اس ملک کے کرتے دھرتوں سے انصاف مانگنا اس قدر دلخراش لمحہ ہے کہ روح تک کانپ اٹھتی ہے وہ کہتی تھی کہ بلوچ قبائلی سردار کیتھران جو عوامی نمائندہ بھی ہے اس نے اپنی نجی جیل بنا رکھی ہے جہاں اسکی جواں سالہ بیٹی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اس پر ظلم کیا جاتا ہے خدارا اسکو اس جبر سے رہائی دلائی جائے۔لیکن حیرت ہے کہ اچانک سردار صاحب خود گرفتاری دے دیتے ہیں اور خبریں ہیں کہ گراں ناز کو کہیں اور سے بازیاب کروالیا گیا ہے۔۔یہ ڈرامے اس قدر خوبصورتی سے رچائے جاتے ہیں کہ یہاں انصاف بھی اپنی آنکھیں مِیچ لیتا ہے کیا ریاست کو خبر نہیں ہے کہ سندھ ہو یا بلوچستان یا پھر قبائلی علاقہ جات وہاں خان سردار نواب اور وڈیروں نے حکومت کی ناک کے نیچے عقوبت خانے ٹارچر سیل اور نجی جیلیں بنا رکھی ہیں جہاں ان سے کمزور عوام کی زر زمین اور زن انکی ملکیت ہوتی ہے افسوس تو یہی ہے کہ ان وڈیروں کے ہاتھ اسمبلی اور پاؤں اس ناتواں طبقے کی گردن پر ہوتے ہیں۔
ایسے دلسوز اور جابرانہ واقعات ہوتے ہیں اور کوئی نہیں بولتا میڈیا کی تو بات ہی رہنے دیں آجکل کے دور میں چینل مالکان کی اکثریت انہی کے دستر خوانوں سے دانہ چُگتی ہے اسلیے زبان کھولنا اور ایسے معاملات کو شہ سرخیاں بنانا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دیتا ہے جبکہ گنے چنے جو لوگ آواز اٹھانا بھی چائیں تو خوف انکے لفظ ضبط کر لیتا ہے اس سادھتی چپ نےریاست کے ان لاڈلوں کو مزید شے دے رکھی ہے۔
حیرت کا اظہار تو اس بات پر بھی بنتا ہے کہ ہماری معزز عدالتیں جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بھاری مراعات اور سہولیات میں شاہانہ حیاتی کے مزے لوٹتی ہیں وہ ایسے مظالم پر کیوں چپ ہیں کیا ازخود نوٹس صرف سیاسی معاملات کی حد تک لینا رہ گیا ہے عام عوام کے اس کرب پر انکے ترازو کیوں کالی چادروں میں چھپا دئیے جاتے ہیں. کس قدر تکلیف کا مقام ہے کہ اس پستی مخلوق کا کوئی چارہ گر نہیں انکا نوحہ عیش وعشرت کی موسیقی کے شور میں بھلا کیسے اور کس کو سنائی دے گا انکی آہ فرش پر ہی کہیں جا بچھتی ہے جو ان جاگیر داروں کی قدموں کی خاک کے سوا کچھ نہیں۔ یہ رسم و رواج یہ غیرت کے نام پر عورتوں کو وار دینا یہ جاگیر داروں اور وڈیروں کے تالی پر جی حضوری کرنے والوں کو کون روکے گا کون ان جابروں کے نرغے سے اسی مملکت کے “آذاد قیدیوں” کو رہائی دے گا کیا ریاست سوتیلی ماں ہی بنی رہے گی اور حکومتیں ان طاقت وروں کے گھر کی باندیاں؟ کیا قوانین کی دھجیاں اڑانے پر منصف بھی غفلت کی نیند سوتے رہیں گے تو پھر ہم مان کیوں نہیں لیتے کہ اس ملک میں قانون دوہرا ہے عدالتیں اندھی ہیں حکومتیں بےبس اور ریاست غلام۔۔ہم جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلاتے ہیں جو ملک اسلام کے نام اور اسلامی نظام کی ضمانت پر بنایا گیا وہاں انسانی حقوق کی پامالی کی داستانیں کسی کا ضمیر نہیں جھنجھوڑتی۔۔حضرت عمر نے کہا تھا ناں کہ “جو ریاست مجرموں پر رحم کرتی ہے وہاں کے لوگ بڑی بے رحمی سے مرتے ہیں”. تو دیکھیے اگر ناز گراں نہیں تو کنویں میں تشدد کے بعد قتل ہونے والے کون ہیں کیا وہ پاکستانی نہیں بلوچی نہیں اس ملک کے باسی نہیں؟


خان محمد عرف اسماعیل مری کے مطابق انکی اہلیہ، بڑے بیٹے محمد نواز چھوٹے بیٹے عبدالقادر کئی عرصے سے منسٹر سردار عبدالرحمان کھیتران کی نجی جیل میں قید تھے۔ جبکہ انہی کے گھرانے کے مزید 5 افراد بھی سردار عبدالرحمان کھیتران کے عقوبت خانے میں بند تھے۔ تو بلوچستان کی صوبائی حکومت نے کیا خان محمد کے گھر جاکر تفصیلات لیں پوچھا کہ کہاں ہے یہ جیل کب سے یہ ستم روا ہے؟ سوشل میڈیا پر آواز بلند ہوئی تو سردار کیتھران کے ڈیرے سے میلوں دور اس خاندان کو اچانک بازیاب کروا دیا جاتا ہے تاکہ وہ بات جو بلوچ خاتون کلام پاک ہاتھ میں لیکر کہہ رہی تھی اسکی نفی ہوسکے اور سردار کیتھران کو عزتوں کے ساتھ واپس اسی نشست پر لے جاکر بٹھا دیا جائے جہاں یہ اپنے علاقے کے کمزور لوگوں کا دیوتا بنکر انہیں اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بناتا رہے۔
بلوچستان کے عوام کو پہلے ہی اس ریاست سے کئی گلے شکوے ہیں محرومیوں میں زیست کے شب وروز کاٹتے بلوچ اب ان قبائلی سرداروں کے تسلط میں مقید ہیں پھر جب ریاست سے بدلہ لینے کو یہی بلوچ عوام ہمارے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوتے ہیں تو ہمیں یہ دہشت گرد لگتے ہیں ہماری چپ رہنے کی عادت غفلت میں بدلتی جارہی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے پسماندہ عوام کی طرف فوری توجہ کی جائے قانون کا نفاذ عملی طور پر ممکن بنایا جائے مساوی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے وہاں کے لوگوں میں بیٹھ کر انکے دکھ درد سنے جائیں اور ایسے جابر لوگوں کو ہرگز اقتدار نہ سونپا جائے جو عوام کے مقدر کو اپنے کالے کرتوتوں کی نذر کردیں الزام لگا ہے گرفتاری ہوئی ہے تو فوری طور پر اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ پتہ چلے کہ حبس بے جا اور عقوبت خانوں میں رکھے گئے ان بے چاروں کو کس ناکردہ گناہوں کی سزائیں دی جارہی ہیں
الزام سردار کیتھران پر ہے تو یہ ضرور جان کر رکھیے کہ یہ سردار انتہائی طاقتور بلوچ سردار مانا جاتا ہے جب انہوں نے آذاد حیثیت میں الیکشن لڑا تب بھی ان پر نجی جیل رکھنے کی کیسز تھے۔ 2013ء الیکشن کے ایام میں جب مولانا شیرانی جمعیت بلوچستان کے امیر تھے، بارکھان دورہ کے موقع پہ شیرانی صاحب کے قافلے پر راکٹ لانچر فائرنگ کا الزام بھی سردار کھیتران پر عائد کیا جاتا ہے۔ خبریں یہ بھی تھیں کہ جب 2018ء کے انتخابات ہورہے تھے تو مولانا فضل الرحمن کی ایما پر جمعیۃ کی ٹکٹ مولوی حضرات خود انکے پاس لیکر آئے تھے انہوں نے ٹکٹ لیکر انہیں کہا مستقبل آپ کا نہیں اس لیے آپ کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی غلطی نہیں کرونگا لیکن مولوی حضرات جب بلوچستان آتے ہیں تو گاڑی اور رہائش کے انتظام کا اعزاز سردار صاحب اپنے ذمے لے لیتے ہیں اپنے حلقے میں نہ آزاد صحافت کو برداشت کرتا ہے اور نہ ہی متبادل سیاست کو گوارا کرسکتا ہے، اس نے قدیم طرزِ معاشرت کے مطابق مقامی معاشرہ کو جکڑ لیا ہے اب دیکھتے ہیں کہ یہ تمام تر حقائق منظر عام پر لانے کے بعد حکومت اس نظام کے خلاف کیا مثال قائم کرتی ہے لیکن پرانی روایات دیکھیں تو لگتا یہی ہے کہ باعزت بری ہونے کے بعد سردار کھیتران اسمبلی فلور پر دوبارہ نمودار ہوں گے اور نہایت دیدہ دلیری اور ڈھٹائی سے اس واقعہ سے مکمل لاعلمی ظاہر کرکے اسے جھوٹا الزام قرار دیں گے۔۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ڈرا دھمکا کر مظلوم خاندان پر دباؤ ڈال کر انکے منہ بند کروا دئیے جائیں اور یوں یہ واقعہ رفتہ رفتہ لوگوں کے ذہنوں سے معدوم ہوتا جائے گا جب تک کوئی اور گراں ناز اس “آذاد ریاست” سے بےبسی اور مجبوری میں روتی سسکتی انصاف کے لیے بھیک مانگتی دکھائی نہ دے دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں